خطیب مقرر یا ذاکر کیخلاف انبیاء اور اہلِ بیت کی توہین پر کاروائی کا فیصلہ

قرآن وسنت کی روشنی میں دیا جانے والا فتویٰ ہی معتبر ہوگا، کسی بھی مسلم یا غیرمسلم کو ماورائے عدالت واجب القتل قرار نہ دیا جائے، اقلیتوں کی عبادت گاہوں کی بھی توہین نہیں کی جائےگی۔ ایوان صدرمیں منعقدہ وحدت امت کانفرنس کا اعلامیہ

sanaullah nagra ثنااللہ ناگرہ پیر ستمبر 20:20

خطیب مقرر یا ذاکر کیخلاف انبیاء اور اہلِ بیت کی توہین پر کاروائی کا ..
اسلام آباد (اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 21 ستمبر2020ء) ملک بھر کے تمام مکاتب فکر نے اتفاق کیا ہے کہ کوئی مقرر، خطیب یا ذاکر انبیاء اور اہلِ بیت کی توہین نہیں کرے گا، توہین کرنے والے کیخلاف کارروائی کی جائے گی، قرآن وسنت کی روشنی میں دیا جانے والا فتویٰ ہی معتبر ہوگا، کسی بھی مسلم یا غیر مسلم کو ماورائے عدالت واجب القتل قرار نہ دیا جائے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق صدر مملکت عارف علوی کی زیرصدارت وحدت امت کانفرنس ہوئی، وحدت امت کانفرنس کا اعلامیہ کے مطابق مذہب کے نام پر دہشتگردی، انتہاء پسندی، فرقہ وارانہ تشدد، قتل وغارت خلافِ اسلام ہے۔ تمام مکاتب فکر، مذاہب کی قیادت مذہب کے نام پر دہشتگردی سے اعلان لاتعلقی کرتی ہے۔ کوئی مقرر، خطیب، ذاکر یا واعظ اپنی تقریر میں انبیاء اور اہلِ بیت کی توہین نہیں کرے گا۔

(جاری ہے)

کوئی توہین کرتا ہے تو تمام مکاتب فکر اس سے اعلانِ لاتعلقی کرتے ہیں۔ توہین کرنے والے کیخلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے۔ کسی بھی اسلامی فرقے کو کافر قرار نہ دیا جائے۔ کسی بھی مسلم یا غیر مسلم کو ماورائے عدالت واجب القتل قرار نہ دیا جائے۔ شرانگیز، دل آزار کتابوں، پمفلٹس، تحریروں کی اشاعت اور تقسیم و ترسیل نہ ہو۔ قرآن وسنت کی روشنی میں دیا جانے والا فتویٰ ہی معتبر ہوگا۔

کوئی مقرر صحابہ کرامؓ ، خلفائے راشدین ، ازواجِ مطہرات کی توہین اور تکفیر نہیں کرے گا۔ اقلیتوں کی عبادت گاہوں اور ان کے جان ومال کی توہین کرنے والوں سے حکومت کو سختی سے نمٹنا چاہیے۔ صدر مملکت ڈاکٹرعارف علوی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ رہنماؤں کے جذباتی بیانات سے نفرتیں بڑھتی ہیں۔ جہالت پر مبنی اختلافات تفرقے کا باعث بنتے ہیں۔ ماضی میں ایران اور عراق کو لڑایا گیا۔

االلہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں خود بتا دیا کفرکسے کہتے ہیں۔ اس کا فیصلہ میں اور آپ کر بھی نہیں سکتے اور کہہ بھی نہیں سکتے۔ ایران عراق جنگ میں 10لاکھ افراد کی جانیں گئیں۔ آپس کی نااتفاقی وناچاقی نےعراق اور شام کو تباہ کردیا ہے۔ مزید برآں کانفرنس میں مختلف مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والے علما کرام اور مشائخ نے شرکت کی۔ کانفرنس سے وفاقی وزیر مذہبی امور و بین المذہب ہم آہنگی پیر نور الحق قادری نے بھی خطاب کیا۔ کانفرنس کا مقصد اتحاد بین المسلمین کا فروغ اور فرقہ واریت کا تدارک ہے۔

اسلام آباد شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments