پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کی ذیلی کمیٹی کا اجلاس

وزارت مواصلات اور ماتحت اداروں کے زیر التوا آڈٹ اعتراضات کا جائزہ لیا گیا

پیر ستمبر 16:18

پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کی ذیلی کمیٹی کا اجلاس
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 28 ستمبر2020ء) پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کی ذیلی کمیٹی کا اجلاس پیر کو پارلیمنٹ ہاؤس میں کمیٹی کی کنوینر نور عالم خان کی زیر صدارت ہوا۔ اجلاس میں کمیٹی کے ارکان خواجہ محمد آصف اقبال محمد علی خان اور شاہدہ اختر علی سمیت متعلقہ سرکاری اداروں کے اعلیٰ افسران نے شرکت کی اجلاس میں وزارت مواصلات اور اس کے ماتحت اداروں کے زیر التوا آڈٹ اعتراضات کا جائزہ لیا گیا۔

نیشنل ہائی وے کے 2017-18 کی آڈٹ رپورٹ کا جائزہ لیتے ہوئے آڈٹ کام نے پی ایسی کو بتایا کہ ادارے کی جانب سے 2018 اور 2019 کو ختم ہونے والے مالی سال کے حسابات کی دستاویزات فراہم نہیں کی گئیں پی اے سی نے وزارت مواصلات کو ہدایت کی کہ آڈٹ کو دستاویزات کی فراہمی یقینی بنائی جائے نور عالم خان نے کہا ہاں ہم نے تین سال کے بعد ٹرانسفر اور پوسٹنگ کی ہدایت اس لئے دی تھی کیونکہ اس کا مقصد بعض جڑی ہوئی کڑیوں کو توڑنا ہوتا ہے وزارت مواصلات نے ٹرانسفر اور پوسٹنگ اس طرح کی ہے کہ صرف دفتر کے اندر ان کا کمرہ تبدیل کیا گیا ہے پی اے سی نے وزارت مواصلات کو ہدایت کی کہ وہ اپنے ماتحت اداروں میں ٹرانسفر پوسٹنگ قانون کے مطابق یقینی بنائے۔

(جاری ہے)

نور عالم خان نے کہا کہ ہم جب تحقیقات کی ہدایت کرتے ہیں تو ہمارامخاطب سیکٹری، ادارے کا چیئرمین یا ممبر ہوتا ہے ان معاملات میں چھوٹے افسران کو نشانہ نہ بنایا جائے۔ ایک آڈٹ اعتراض کے جائزے کے دوران ڈی جی ایف ڈبلیو او کی اجلاس میں عدم موجودگی پر نور عالم خان نے کہا کہ ہم انہیں تین مرتبہ پہلے بھی بلاچکے ہیں وہ اجلاس میں نہیں آ رہے۔

انہوں نے ہدایت کی کہ وزیر اعظم اور وسیکرٹری دفاع کو اس سلسلے میں خط تحریر کیا جائے۔ خواجہ محمد آصف کے سوال کے جواب میں چیئرمین نیشنل ہائی وے اتھارٹی نے بتایا کہ ہم نے سمبڑیال سے کھا ریاں تک موٹروے کی فزیبلٹی تیار کی بعد ازاں یہ تجویز آئی کہ اس کو راولپنڈی تک توسیع دی جائے اب اس حوالے سے فزیبلٹی تیار کی جارہی ہے خواجہ محمد آصف نے کہا کہ دفاعی لحاظ سے اس کی بڑی اہمیت ہے موٹروے مکمل ہونے پر راولپنڈی سے سیالکوٹ تک کا سفر 4 گھنٹے سے کم ہو کر دو گھنٹے کا رہ جائے گا۔

متعلقہ عنوان :

اسلام آباد شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments