کیپٹن ر صفدر کی گرفتاری سندھ حکومت نے کروائی ، شہزاد اکبر کا مراد علی شاہ کو جواب

اس کا مقصد مریم نواز کو سیاسی فائدہ پہنچانا تھا یا پی ڈی ایم نامی گروہ کا خاتمہ ، جواب تو وزیراعلیٰ سندھ کے پاس تھا لیکن دیے بغیر بھاگ گئے ، معاون خصوصی کا ٹوئٹ

Sajid Ali ساجد علی منگل اکتوبر 16:15

کیپٹن ر صفدر کی گرفتاری سندھ حکومت نے کروائی ، شہزاد اکبر کا مراد علی ..
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 20 اکتوبر2020ء) وزیراعظم عمران خان کے معاون خصوصی شہزاد اکبر نے کہا ہے کہ کراچی میں کیپٹن ر صفدر گرفتاری کا ڈراپ سین ہوگیا۔ تفصیلات کے مطابق سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر جاری کیے گئے اپنے ایک پیغام میں انہوں نے لکھا کہ صاف ظاہر ہو گیا کہ یہ گرفتاری سندھ حکومت کی طرف سے کروائی گئی ، اب اس کا مقصد مریم کو سیاسی فائدہ پہنچانا تھا یا پی ڈی ایم نامی گروہ کا خاتمہ، اس سوال کا جواب تو وزیراعلیٰ سندھ کے پاس ہونا تھا لیکن وہ جواب دیے بغیر ہی بھاگ گئے۔

آخر میں شہزاد اکبر نے طنزیہ انداز میں لکھا کہ ’واہ ری سیاست‘۔
یاد رہے قبل ازیں وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کیپٹن (ر) صفدر کی گرفتاری کا ملبہ وفاقی حکومت پر ڈال دیاتھا ،پریس کانفرنس میں مراد علی شاہ نے دعویٰ کیا کہ محمد صفدر کی گرفتاری میں ایک وفاقی وزیر ملوث ہے، پی ٹی آئی نے وفاص نامی شخص سے درخواست دلوائی گئی کہ اسے جان سے مارنے کی دھمکیاں دی گئی،وقاص وہاں کس مقصد سے کیا گیا؟ کیا وہ پلاننگ کر کے گیا تھا وہاں؟ ندیم چانڈیو ، وقاص اور بگٹی نے اس حوالے سے ایک میٹنگ بھی کی،جھوٹ نہیں چھپتا،سچ سب کے سامنے آ جاتا ہے ،کیپٹن (ر) صفدر کی کل ضمانت ہو گئی جس سے ظاہر ہو گیا کہ یہ ایک جھوٹا کیس تھا ،اب انکوائری ہو گی ایسے نہیں چھوڑیں گے، یہ لوگ سازش میں شامل ہیں،ان کے خلاف مکمل کاروائی کی جائے گی۔

(جاری ہے)

وزیراعلیٰ نے مزار قائد پر پیش آنے والے واقعے سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ 18 اکتوبر کو ن لیگ کی قیادت نے مزار قائد پر حاضری دی ، کیپٹن (ر) صفدر نے مزار کے اندر آ کر تقدس پامال کیا ،مزار قائد پر ہونے والا واقعہ مناسب نہیں تھا ،ہم سب نے کہا کہ مزار قائد پر کچھ ایسی چیزیں ہوئی جو نہیں ہونے چاہئیے تھی، مزار کا تقدس سیاسی معاملہ نہیں ،قوانین پر عمل سب پر لا گو ہے ، تاہم مقدمے کے لیے پولیس پر دباؤ ڈالا گیا ،دباؤ کے باوجود پولیس پریشر میں نہیں آئی ، تحریک انصاف کے 2 ایم پی ایز ایف آئی آر کے لیے تھانے آئے ، ایک وفاقی وزیر نے ایف آئی آر کے لیے الٹی میٹم بھی دیا ، ایم پی ایز کو سمجھایا گیا کہ ایسے مقدمہ نہیں ہوتا، مزار قائد سے متعلق درخوست پولیس کے پاس نہیں مجسٹریٹ کے پاس درج کی جاتی ہے۔

اسلام آباد شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments