وزیراعظم پرالزامات ، خواجہ آصف پر آرٹیکل 62 , 63 لگانے کا مطالبہ

اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر سے رابطہ کروں گا ، کیوں کہ میں چاہتا ہوں ان الزامات کی پارلیمانی کمیٹی کی طرف سے تحقیقات کی جائیں ، جس کے بعد دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو جائے گا ، وزیراعظم کے معاون خصوصی عثمان ڈار کی گفتگو

Sajid Ali ساجد علی جمعرات اکتوبر 10:00

وزیراعظم پرالزامات ،  خواجہ آصف پر آرٹیکل 62 , 63 لگانے کا مطالبہ
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 22 اکتوبر2020ء) وزیراعظم عمران خان کے معاون خصوصی عثمان ڈار نے مسلم لیگ ن کے رہنما خواجہ آصف پر آرٹیکل 62,63 لگانے کا مطالبہ کردیا۔ تفصیلات کے مطابق نجی ٹی وی چینل کے ایک پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان اس وقت خواجہ آصف کے اعصاب پرسوارہیں ، اسی وجہ سے مسلم لیگ ن کے رہنما نے صرف سستی شہرت کے حصول کے لیے الزام لگایا ، کیوں کہ وزیراعظم عمران خن نے کبھی مجھ سے خواجہ آصف سے متعلق کوئی بات نہیں کی، اس لیے ایسا الزام لگانے کے بعد خواجہ آصف پر آرٹیکل 62 , 63 ضرور لگنا چاہیئے ، خواجہ آصف کی طرف سے لگائے جانے والے الزامات کی تحقیقات کیلئے ایک کمیٹی بنائی جائے ، اس مقصد کے لیے اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر سے رابطہ کروں گا ، کیوں کہ میں چاہتا ہوں ان الزامات کی پارلیمانی کمیٹی کی طرف سے تحقیقات کی جائیں ، جس کے بعد دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو جائے گا ، خواجہ آصف کو الیکشن کی رات آرمی چیف سے رابطہ کرنے کی ضرورت نہیں تھی ، جب خواجہ آصف الیکشن جیت گئے تو پھ دھاندلی کا رونا کس لیے روتے ہیں۔

(جاری ہے)

یاد رہے کہ پاکستان مسلم لیگ ن کے رہنما خواجہ آصف نے الزام عائد کیا تھا کہ وزیراعظم عمران خان نے میرے شہر کے سیاسی مخالفین سے کہا کہ اس کو فکس کرو ، میرے گھر کے باہر مظاہرہ کرنے، ایکسیڈنٹ کروانے اور میری اہلیہ کو گاڑی سے نکالنے کی باتیں کی گئیں ،عمران خان نے میرے مخالفین کے ذریعے مجھے نقصان پہنچانے سے متعلق بات کی ، جب کہ عمران خان یہ باتیں بھی کرتے رہے ہیں کہ خواجہ آصف کا ایکسیڈنٹ کرواتے ہیں،اس پر منشیات کا کیس ڈالتے ہیں یا اسے گاڑی سے نکال کر چپیڑیں مرواتے ہیں ،عمران خان نے یہ بھی کہا کہ خواجہ آصف کے گھر کے باہر مظاہرہ کرواتے ہیں ،میں اس پر قومی اسمبلی میں بھی بات کرنا چاہتا تھا لیکن مجھے اسپیکر قومی اسمبلی نے اجازت نہیں دی۔

اسلام آباد شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments