اسلام آباد، کورونا کے 8 کیسز رپورٹ ہونے پر میڈیکل کالج ایک ہفتے کیلئے بند

کالج میں یکم نومبر تک تدریسی عمل معطل رہے گا ، نوٹیفکیشن جاری کردیا گیا ، طلبہ کو گھر پر رہ کر کورونا ایس او پیز پر عمل کرنے کی ہدایت کردی گئی ، عالمی وباء سے پاکستان میں مزید 10 افراد جاں بحق ہو گئے

Sajid Ali ساجد علی جمعرات اکتوبر 10:36

اسلام آباد، کورونا کے 8 کیسز رپورٹ ہونے پر میڈیکل کالج ایک ہفتے کیلئے ..
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 22 اکتوبر2020ء) وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں واقع ایک مقامی میڈیکل کالج میں کورونا کے 8 کیسز سامنے آگئے تدریسی عمل ایک ہفتے کے لیے معطل کردیا گیا۔ اس حوالے سے تفصیلات میں بتایاگیا ہے کہ اسلام آباد کے میڈیکل کالج میں 8 کورونا کیسز سامنے آنے کے بعد انتظامیہ کی طرف سے ایک ہفتے کے لیے کالج کو بند کرنے کا فیصلہ کرلیا ، جس کے بعد کالج میں یکم نومبر تک تدریسی عمل معطل رہے گا، جس کا نوٹیفکیشن بھی جاری کردیا گیا ، جس میں طلبہ کو گھر پر رہ کر کورونا ایس او پیز پر عمل کرنے کی ہدایت کردی گئی۔

دوسری طرف کورونا وائرس کی وجہ سے پاکستان میں مزید 10 افراد جاں بحق ہو گئے ، جس کے بعد عالمی وباء سے ملک بھر میں مرنے والوں کی مجموعی تعداد 6 ہزار 702 ہو گئی ، اس حولے سے نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر کے جاری کردہ اعداد و شمار میں بتایا گیا ہے کہ پاکستان میں گزشتہ چوبیس گھنٹوں میں کورونا کے 736 نئے کیسز رپورٹ ہوئے ، جس کے ساتھ ہی ملک میں مجموعی تعداد 3 لاکھ 25 ہزار 480 تک پہنچ گئی ، جب کہ پاکستان میں اس وقت کورونا کے 9 ہزار 642 مریض زیرعلاج ہیں ، اور مجموعی طور پر 3 لاکھ 9 ہزار 136 صحتیاب ہوچکے ہیں۔

(جاری ہے)

این سی او سی کے مطابق کورونا وائرس سے صوبہ پنجاب میں 2 ہزار 323 ، صوبہ سندھ میں 2 ہزار 590 افراد موت کے منہ میں جا چکے ہیں ، اس کے ساتھ ساتھ صوبہ خیبر پختونخوا میں اموات کی تعداد ایک ہزار 266، وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں 201، صوبہ بلوچستان میں 148، ‏گلگت بلتستان میں 90 اور آزاد کشمیر میں 84 ہوچکی ہے ، جب کہ اسلام آباد میں کورونا کیسزکی تعداد 18 ہزار 438 ہوچکی ہے ، صوبہ پنجاب میں ایک لاکھ 2 ہزار 107، صوبہ سندھ میں ایک لاکھ 42 ہزار 641 ، صوبہ خیبر پختونخوا میں 38 ہزار 810، صوبہ بلوچستان میں 15 ہزار 738 ، گلگت بلتستان میں 4 ہزار 107 اور آزاد کشمیر میں 3 ہزار 639 کیسز رپورٹ ہوئے۔

اسلام آباد شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments