حکومت کو پی پی اور ن لیگ نے سہارا دے رکھاہے،یہ دونوں جماعتیں استعفے دے دیں تو حکومت کا اسی دن دھڑن تختہ ہو جائیگا ،سینیٹر سراج الحق

جس دن یہ دونوں جماعتیں پارلیمنٹ سے مستعفی ہو نے پر یکسو ہو گئیں ، اسی دن جماعت اسلامی بھی استعفے دے دے گی، وزیراعظم کو گرانی پر نیند نہیں آتی تو ایگزیکٹو آرڈر سے قیمتوں میں اضافہ واپس لے لیں تاکہ عوام کی بددعائوں سے بچ جائیں اور چین کی نیند سو سکیں،اگر حکومت نے اشیائے ضروریہ کی قیمتیں کم نہ کیں تو عوام کا ہاتھ حکمرانوں کے گریبانوں تک پہنچ جائے گا،اسلام آباد میں یوتھ کنونش سے خطاب

ہفتہ اکتوبر 23:00

حکومت کو پی پی اور ن لیگ نے سہارا دے رکھاہے،یہ دونوں جماعتیں استعفے ..
ٓاسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 24 اکتوبر2020ء) امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق نے کہاہے کہ حکومت کو پی پی اور ن لیگ نے سہارا دے رکھاہے ۔ یہ دونوں جماعتیں استعفے دے دیں تو حکومت کا اسی دن دھڑن تختہ ہو جائے گا لیکن اگر یہ استعفے نہیں دیتے تو عوام سمجھ جائیں گے کہ یہ سنجیدہ نہیں۔ جس دن یہ دونوں جماعتیں پارلیمنٹ سے مستعفی ہو نے پر یکسو ہو گئیں ، اسی دن جماعت اسلامی بھی استعفے دے دے گی ۔

وزیراعظم کو گرانی پر نیند نہیں آتی تو ایگزیکٹو آرڈر سے قیمتوں میں اضافہ واپس لے لیں تاکہ عوام کی بددعائوں سے بچ جائیں اور چین کی نیند سو سکیں ۔مہنگائی میں عوام کے لیے سانس لینا مشکل ہوگیاہے ۔ اگر حکومت نے اشیائے ضروریہ کی قیمتیں کم نہ کیں تو عوام کا ہاتھ حکمرانوں کے گریبانوں تک پہنچ جائے گا ۔

(جاری ہے)

حکومت مافیاز کے ہاتھوں یرغما ل ہے مافیاز ایک دوسرے کو سپورٹ کرتے ہیں اس لیے مافیاز کے ہاتھوں مافیا کا احتساب نہیں ہوسکتا ۔

نوجوان ملک و قوم کا مستقبل ہیں جماعت اسلامی نوجوانوں کو ان کا حق دلانے کی جدوجہد کر رہی ہے ۔ نوجوانوں کا حق ہے کہ انہیں اچھی تعلیم ، روزگار اور اقتدار کے یوانوں میں پہنچنے کے مواقع ملیں ۔ ان خیالات کااظہارا نہوںنے ایوان قائد ایف 9 پارک اسلام آباد میں یوتھ کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ کنونشن سے جے آئی یوتھ کے صدر زبیر احمد گوندل ، شمالی پنجاب کے امیر ڈاکٹر طارق سلیم اور جے آئی یوتھ شمالی پنجاب کے صدر اویس اسلم مرزا نے بھی خطاب کیا ۔

سینیٹر سراج الحق نے کہاکہ مہنگائی نے عوام کی سانس بند کردی ہے اور لوگوں کے لیے جسم و روح کا رشتہ قائم رکھنا مشکل ہوگیاہے ۔ وزیراعظم کس کو بتا رہے ہیں کہ گرانی نے ان کی نیند اڑا دی ہے ۔ اگر ان کی نیند اڑی ہوتی تو سب سے پہلے اپنے ارد گرد موجود مافیاز کو پکڑ کر ان سے آٹے چینی کا بحران پیدا کر کے عوام کی جیبوں سے 100ارب روپے سے زیادہ کی لوٹ مار کا حساب لیتے لیکن جو لوگ اس گرانی کے ذمہ دارہیں ، انہیں تو اب بھی کھلی چھوٹ ملی ہوئی ہے ۔

اسلام آباد جیسے شہر میں لاکھوں لوگوں کو پانی نہیں مل رہا ۔ وفاقی دارالحکومت بھی لوڈشیڈنگ کے اندھیروں میں ڈوبا رہتاہے ۔ لاکھو ں نوجوان بے روزگاری کے ہاتھوں تنگ اور اپنے مستقبل سے مایوس ہوچکے ہیں ۔ مقامی لوگوں کو بھی علاج کی سہولت نہیں مل رہی ۔ انہوںنے کہاکہ جو حکومت اسلام آباد کے شہریوں کے مسائل حل نہیں کر سکتی ، وہ پورے ملک کے مسائل کیا حل کرے گی ۔

انہوں نے کہاکہ عوام کے صبر کا پیمانہ لبریز ہوچکاہے ۔ لوگ اس نااہل حکومت کو اب زیادہ برداشت نہیں کریں گے ۔ انہوںنے کہاکہ حکمرانو ں کے رنگ پیلے پڑ گئے ہیں اور ان کی زبانیں لڑکھڑا رہی ہیں ۔ ایسے لگتاہے کہ حکومت کی جان کنی کا وقت آن پہنچا ۔انہوںنے کہاکہ حکمران جب اقتدار کی کرسی سنبھالتے ہیں تو انہیں اپنے علاوہ کچھ نظر نہیں آتا اور جب ان کا چل چلائو ہوتاہے تو انہیں عوام کی پریشانیاں ستانے لگتی ہیں ۔

سابقہ حکمرانوں کا بھی یہی وطیرہ رہاہے جس پر آج کے حکمران چل رہے ہیں ۔ ہر حکومت اپنے آخری وقت میں اسی طرح کی باتیں کرتی ہے جو موجودہ حکمران کر رہے ہیں ۔ سینیٹر سراج الحق نے کہاکہ پاکستان کی یوتھ جماعت اسلامی کے ساتھ ہے نوجوان ملک میں شاندار اسلامی انقلاب کا ہراول دستہ بنیں گے ۔ انہوں نے کہاکہ اقتدار صرف جاگیرداروں ، سرمایہ داروں اور اشرافیہ کے شہزادے اور شہزادیوں کا ہی نہیں ، غریب کے بچے کا بھی حق ہے ۔

73 سال سے ملک پر مسلط ان ظالم جاگیر داروں وڈیروں اور ارب پتیوں نے کروڑوں نوجوانوں کے مستقبل کو تاریک کردیاہے ۔ ان کے اپنے بچے امریکہ اور برطانیہ کی یونیورسٹیوں میں پڑھتے ہیں مگر غریب کے بچے کے لیے آج بھی وہ سکول ہیں جن میں ٹاٹ ہے نہ استاد ۔ انہوںنے کہاکہ اڑھائی کروڑ سے زیادہ بچے سکولوں سے باہر ہیں جبکہ حکومت کا دعویٰ تھاکہ کوئی بچہ تعلیم کے بغیر نہیں رہے گا ۔حکمرانوں کے خلاف روزانہ ہزاروں لوگ اسلام آباد میں احتجاج کرتے ہیں ۔ اساتذہ ، طلبہ ، پیرامیڈیکل سٹاف اور مزدورحکومت کے خلاف سڑکوں پر سراپا احتجاج ہیں مگر حکمران کسی کی سنتے ہیں نہ ان میں عوام کے مسائل حل کرنے کی صلاحیت ہے ۔

اسلام آباد شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments