محمد صادق سنجرانی سے افغان وزیر تجارت و صنعت نثار احمد فیضی غوریانی کی سربراہی میں افغان وفد کی ملاقات

پاکستان افغانستان کے ساتھ مضبوط اور موثر پارٹنرشپ کا خواہاں ،پر امن ، خوشحال افغانستان پاکستان کے وسیع تر قومی مفاد میں ہے،چیئرمین سینیٹ افغان مذاکراتی عمل ایک تاریخی موقع ہے ، افغان قیادت موقع سے بھرپور فائدہ اٹھا کر مسئلے کا سیاسی حل تلاش کرے، گفتگو

بدھ اکتوبر 22:30

محمد صادق سنجرانی سے افغان وزیر تجارت و صنعت نثار احمد فیضی غوریانی ..
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 28 اکتوبر2020ء) چیئرمین سینیٹ محمد صادق سنجرانی نے کہا ہے کہ پاکستان افغانستان کے ساتھ مضبوط اور موثر پارٹنرشپ کا خواہاں ہے۔پر امن اور خوشحال افغانستان پاکستان کے وسیع تر قومی مفاد میں ہے۔ ان خیالات کا اظہار چیئرمین سینیٹ محمد صادق سنجرانی نے افغان وزیر تجارت و صنعت نثار احمد فیضی غوریانی کی سربراہی میں افغان وفد سے بدھ کو پارلیمنٹ ہائوس میں ملاقات کے دوران کیا ۔

چیئرمین سینیٹ نے کہا کہ پاکستان کی حکومت، پارلیمان اور عوام افغانستان کے ساتھ دو طرفہ برادرانہ تعلقات کو انتہائی اہمیت دیتی ہے۔ پاک افغان تعلقات مشترکہ تاریخی، ثقافتی اور مذہبی مماثلتوں پر مبنی ہیں۔چیئرمین سینیٹ نے باہمی تعاون کو اقتصادی و پارلیمانی روابط کے ذریعے مستحکم کرنے کے عزم پر زوردیتے ہوئے کہا کہ پاکستان افغانستان کے ساتھ مضبوط اور موثر پارٹنرشپ کا خواہاں ہے اورپر امن اور خوشحال افغانستان پاکستان کے وسیع تر قومی مفاد میں ہے۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ افغان مذاکراتی عمل ایک تاریخی موقع ہے اورافغان قیادت اس موقع سے بھرپور فائدہ اٹھا کر مسئلے کا سیاسی حل تلاش کرے۔چیئرمین سینیٹ نے کہا کہ امن مذاکرات میں سب کو شامل ہونا چاہے تاکہ تمام افغان اس امن عمل کی اونر شپ لیں اور حل کا حصہ بنیں۔ انہوں نے کہا کہ پائیدار اور دیر پا امن کیلئے سب کا شامل ہونا ضروری ہے۔ عوامی سطح پر روابط پاکستان اور افغانستان کے تعلقات میں بنیادی عنصر کی حیثیت رکھتے ہیں۔

پاکستان نے افغان شہریوں کیلئے ویزا پالیسی میں نرمی کی ہے۔محمد صادق سنجرانی نے کہا کہ پاکستان نے افغان شہریوں کیلئے ویزا پالیسی میں نرمی کی ہے۔پاکستان تعلیم، صحت اور فضائی رابطوں کی سہولت کیلئے بھی اقدامات اٹھا رہا ہے۔تجارت اور اقتصادی سرگرمیوں کیلئے دونوں ملکوں کوموجودہ استعداد کا بھر پور استعمال کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ کرونا وبا کے دوران دوطرفہ تجارت کیلئے پاک افغان سرحد کو خیر سگالی جذبے کے تحت کھولا گیا ہے۔

سی پیک کے ذریعے افغانستان کے راستے وسطی ایشیاء تک رسائی حاصل کی جا سکتی ہے اور منصوبے کے ذریعے اقتصادی سرگرمیوں اور رابطہ کاری کو بھر پور طریقے سے بڑھایا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان خطے میں امن، ترقی اور خوشحالی کا فروغ چاہتا ہے۔چیئرمین سینیٹ نے افغان وفد کی تجارت و سرمایہ کاری سے متعلق دو روزہ سیمینار میں شرکت پر شکر یہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ سیمینار سے سرمایہ کاری اور تجارت کے شعبوں میں نئے مواقع تلاش کرنے میں مدد ملے گی۔

انہوں نے کہا کہ رابطہ کاری اقتصادی ترقی اور خوشحالی ہمارا ویژن ہے۔ افغان وفد نے چیئرمین سینیٹ کا شکریہ ادا کرتے ہوئے تجارتی و اقتصادی روابط کو فروغ دینے پر زور دیا۔ انہوں نے دو روزہ سیمینار کو انتہائی مفید قرار دیا۔ دریں اثناء چیئرمین سینیٹ محمد صادق سنجرانی سے روس کے سفیر ڈنیلا گانخ بھی ملاقات کی۔ ملاقات میں چیئرمین سینیٹ نے کہاہے کہ پاکستان اور روس خطے کی ترقی اور خوشحالی کیلئے موثر کردار ادا کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیںاوردونوں ممالک تجارتی حجم کو بڑھانے کیلئے سنجیدگی کے ساتھ رابطوں میں ہیں۔

ملاقات میں دوطرفہ تعلقات اور باہمی دلچسپی کے امور زیر بحث آئے ۔ چیئرمین سینیٹ نے کہا کہ دونوں ممالک میں باہمی تعاون کے ذریعے تجارتی سطح پر رابطوں کو بڑھانے کیلئے وسیع مواقع موجود ہیں۔ پاکستان روس کے ساتھ اپنے کثیر الجہتی مراسم کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے اوردونوں ملکوں کے درمیان اسٹرٹیجک پارٹنرشپ سے علاقائی امن اور ترقی میں مدد ملے گی۔

انہوں نے کہا کہ خطے کی تیزی سے بدلتی صورتحال مستحکم رابطہ کاری کی متقاضی ہے۔ دونوں ملکوں کے درمیان سیاسی، سفارتی و اقتصادی تعاون میں بہتری دیکھنے میں آئی ہے۔بین الاقوامی سطح پر تعاون ایک دوسرے پر اعتماد کی عکاسی کرتا ہے۔ محمد صادق سنجرانی نے کہا کہ پاکستان اور روس کے تعلقات خطے کی ترقی اور خوشحالی کیلئے بھی مفید ثابت ہو رہے ہیں۔

ن تجارت اور عوامی سطح پر روابط کے علاوہ دوسرے شعبوں میں تعاون کیلئے وسیع مواقع موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تجارتی حجم کو بڑھانے کیلئے دونوں ملک سنجیدگی کے ساتھ رابطوں میں ہیں۔باہمی تعاون کے ذریعے تجارتی سطح پر رابطوں کو بڑھانے کیلئے وسیع مواقع موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ روس اور پاکستان خطے کی ترقی اور خوشحالی کیلئے موثر کردار ادا کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

پاکستان ایک پرٴْ امن ملک ہے اور امن اور ترقی کی اہمیت کو سمجھتا ہے۔ چئرمین سینیٹ نے کہا کہ پارلیمانی رابطہ کاری کے ذریعے دوطرفہ تعاون اور عوامی سطح پر روابط کو مزید فروغ دینے میں مدد ملے گی۔ روس کے سفیر نے کہا کہ پاکستان روس کیلئے انتہائی اہم ملک ہے اور پاکستان کے ساتھ دوطرفہ تعاون کو سماجی اور اقتصادی سطح پر مزید بڑھانے کے خواہاں ہیں۔

اسلام آباد شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments