نظریاتی اور جغرافیائی سرحدوں کی حفاظت حکومت وقت کی ذمہ داری ہے ،

ایاز صادق کا بیان درست نہیں، پاکستان کی جیت کو متنازعہ بنانے کی کوشش کی گئی، اپوزیشن کے بیانات ملکی سلامتی کیلئے تباہ کن ہیں‘وزیر اعظم کے معاون خصوصی شہباز گل کا پریس کانفرنس سے خطاب

جمعہ اکتوبر 19:36

نظریاتی اور جغرافیائی سرحدوں کی حفاظت حکومت وقت کی ذمہ داری ہے ،
لاہور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔اے پی پی ۔30اکتوبر ۔2020ء) وزیر اعظم کے معاون خصوصی شہباز گل نے کہا ہے کہ نظریاتی اور جغرافیائی سرحدوں کی حفاظت حکومت وقت کی ذمہ داری ہے ، ایاز صادق کا بیان درست نہیں، پاکستان کی جیت کو متنازعہ بنانے کی کوشش کی گئی، اپوزیشن کے بیانات ملکی سلامتی کیلئے تباہ کن ہیں‘پاکستان مخالف بیانیے کو اسمبلی میں کھڑے ہو کر بہادری سے بیان کیا جاتا ہے، ایاز صادق کا بیانیہ بھارتی میڈیا میں لگاتار چل رہا ہے، ٹانگیں کانپتیں تو اگلے دن بھارت کے 2 جہاز نہ گراتے ؟ آپ کو کیسے پتا چل گیا کہ ٹانگیں کانپ رہی تھیں کیا آپ پاؤں پکڑکر بیٹھے تھے ‘آپ کی پاؤں پکڑنے کی عادت کیوں نہیں جاتی ؟ کیا آپ رومال پکڑ کر کھڑے تھے جو آپ کو پتا چل گیا عمران خان کو پسینہ آگیا؟‘ایاز صادق کون ہیں یہ فیصلہ کرنیوالے کہ ابھینندن واپس جائے گا یا نہیں، ابھینندن کی واپسی کا فیصلہ حکومت وقت نے کرنا ہے، فیصلہ سازی کی ذمہ داری حکومت کی ہوتی ہے، آپ سے کوئی پوچھنے نہیں گیا تھا کہ ابھی نندن کو چھوڑ رہے ہیں، آپ کو صرف آگاہ کیا گیا کہ ابھی نندن کو واپس جانے دے رہے ہیں، لیگی رہنما نے اپنی وضاحت بھی غلط انداز میں کی۔

(جاری ہے)

وہ جمعہ کو پریس انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ لاہور میں پریس کانفرنس سے خطاب کر رہے تھے۔شہباز گل نے کہا کہ آج محبت بانٹنے کا دن ہے عمران خان پکے اور سچے مسلمان ہیں، نبی کریمﷺ کی شان پر بات ہوئی تو عمران خان نے بھرپور طریقے سے آواز بلند کی۔انہوں نے کہا کہ میں نے کافی عرصہ پہلے بتادیا تھا کہ نواز شریف اور اس کی بیٹی ملک کے خلاف کیا بول رہے ہیں اور آنے والے دنوں میں اس کا پتا چل جائے گا تاہم آپ لوگوں نے اس کا پہلا ٹریلر دیکھ لیا ہے کہ نواز شریف کے بیانیے کا کیا نقصان ہورہا ہے۔

نواز شریف کے پیروکار جیتی ہو ئی بازی کو کس طرح متنازعہ بنا رہے ہیں آپ سب نے دیکھ لیا ، ان کو اس بات کا دکھ ہے کہ عمران خان نے ان سب کی باریاں بند کردی ہیں جس کی وجہ سے یہ بوکھلا گئے ہیں۔شہباز گل نے کہا کہ مسلم لیگ ن والے عمران دشمنی میں اس قدر آگے نکل چکے ہیں کہ یہ بھارت سے دوستی کررہے ہیں۔گوجرانوالہ، کراچی اور کوئٹہ میں کیا کچھ نہیں کہا گیا حتی کہ پاکستان مخالف بیانیہ اب اسمبلیوں میں بھی بولا جارہا ہے۔

شہباز گل نے کہا کہ ایاز صادق کون ہوتے ہیں فیصلہ کرنے والے جب کہ فیصلہ کرنا حکومتوں کا کام ہے ہم نے اسی لیے سب سے زیادہ ووٹ لیے تھے کہ فیصلے خود کریں،اعتماد لینے کا مقصد یہ نہیں ہوتا کہ فیصلہ سازی آپ نے کرنی ہے۔انہوں نے کہا کہ ہم جنیوا کنونشن سے پہلے ریاست مدینہ کو مانتے ہیں جس میں واضح طور پر بتایا گیا ہے کہ قیدیوں کے ساتھ کیا سلوک کرنا چاہئے۔

انہوں نے کہاکہ اگر ہماری ٹانگیں کانپتیں تو اگلے دن بھارت کے 2 جہاز نہ گراتے۔ آپ کو پتا چل گیا کہ ٹانگیں کانپ رہی تھیں کیا آپ اس وقت عمران خان کے پاؤں پکڑ کر بیٹھے تھے ‘آپ کی پاؤں پکڑنے کی عادت کیوں نہیں جاتی ؟ کیا آپ رومال پکڑ کر کھڑے تھے جو آپ کو پتا چل گیا عمران خان کو پسینہ آگیا؟۔انہوں نے کہا کہ آپ کے بیانیے سے دشمن ملک میں شادیانے بجائے گئے بھارتی میڈیا نے اسے مکمل طورپر چلایا ،آپ نے جوانوں کی محنت کو مٹی میں ملانے کی کوشش کی ،مسلم لیگ ن کا بیانیہ اس وقت پیسے بچانا ہے جس کے لیے یہ ملکی سالمیت اور فوج پر حملے کررہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستانی فوج پروفیشنل فوج ہے جس کے چیف سے لیکر فوجی تک لڑی میں پروئے ہوئے موتی ہیں۔انہوں نے کہا کہ سپاہی مقبول بٹ کی بھارتی قید میں زبان کاٹ دی گئی لیکن انہوں نے ملک کے خلاف ایک لفظ نہ بولا اور نہ ہی کوئی راز دیا۔جب کہ آپ نے چند ٹکے بچانے کے لیے سب کچھ بول دیا ،کرنل بابر جو وہیل چئیر پر ہیں جنہوں نے دشمن سے جنگ لڑی ،ہمارے جوانوں کی ٹانگیں کانپتی نہیں بلکہ کٹوا دیتے ہیں۔

مسلم لیگ ن والے اس وقت ریاستی اداروں کو ٹارگٹ کررہے ہیں اور انتشار پیدا کرنے کی کوشش کررہے ہیں جس سے ملکی سلامتی داؤ پر لگ سکتی ہے۔انہوں نے کہا کہ سیاسی و عسکر ی قیادت اور عدلیہ کو اس پر سرجوڑ کر بیٹھنا ہوگا اور کوڈ آف کنڈکٹ بنانا ہوگا۔ایک سوال کے جواب انہوں نے کہا کہ فواد چوہدری نے ملکی سالمیت کے خلا ف کوئی بات نہیں کی جب کہ انہوں نے سفارتی کوششوں کی بات کی ہے۔انہوں نے کہا کہ چند روز بعد مریم نواز پر خاندان میں ایک بہت بڑا کرائسز آرہا ہے۔

اسلام آباد شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments