جنسی زیادتی کے مجرموں کی سزاؤں کا اختیار جنسی زیادتی کے شکار افراد کو ہوگا

زیادتی میں ملوث مجرمان کو نامرد کرنے کے بعد انہیں رہا کردیا جائے گا، اس کے علاوہ جیل سے رہائی کا کوئی اور طریقہ نہیں ہوگا، حکومت نے سزاؤں سے متعلق قانون کو حتمی شکل دے دی، مسودہ تیار

Shehryar Abbasi شہریار عباسی جمعرات نومبر 19:43

جنسی زیادتی کے مجرموں کی سزاؤں کا اختیار جنسی زیادتی کے شکار افراد ..
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین ۔ 26 نومبر2020ء) حکومت نے جنسی زیادتی کے مجرموں کو سزائیں دینے سے متعلق قانون کو حتمی شکل دے کر مسودہ تیار کرلیا ہے ۔ تفصیلات کے مطابق وزارت قانون نے تجویز پیش کی کہ زیادتی میں ملوث مجرمان کو نامرد کرنے کے بعد انہیں رہا کردیا جائے گا، اس کے علاوہ جیل سے رہائی کا کوئی اور طریقہ نہیں ہوگا۔ اس کے علاوہ جنسی زیادتی کے مجرموں کو سزائیں دینے سے متعلق حتمی فیصلے کا اختیار زیادتی کا شکار ہونے والے کو ہوگا۔

جنسی زیادتی کے مجرموں کیخلاف مقدمہ کروانے کا اختیار بھی زیادتی کے شکار فرد ہوگا، اسسٹنٹ کمشنر اور متعلقہ حکام مقدمہ درج کرنے کے پابند ہوں گے ۔ زیادتی کےمقدمات کا ٹرائل ان کیمرا ہوگا جبکہ نیشنل ڈیٹا بیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی (نادرا) زیادتی کرنے والے تمام مجرمان کا ڈیٹا بھی مرتب کرے گا۔

(جاری ہے)

وزارت قانون نے ضابطہ فوجداری میں لفظ زیادتی کی تعریف میں بھی ترمیم کا فیصلہ کیا جس کے بعد تمام عمر کی خواتین اور 18 سال سے کم عمر مردوں کے ساتھ پیش آنے والے واقعے کو زیادتی میں ہی شمار کیا جائے گا۔

وزارت قانون کی جانب سے جاری ہونے والے نکات میں بتایا گیا ہے کہ مجرمان کوان کی رضامندی سےکیمیائی طریقہ سے ہی نامرد کیا جائے گا، سزا کا یہ طریقہ اُن کی بہتری کی جانب اہم قدم ہوگا۔ زیادتی کے مقدمات کا فوری اندراج کمشنرز، ڈپٹی کمشنرز کی ذمہ داری ہوگی جبکہ ملزمان کا ٹرائل خصوصی عدالتوں میں ہوگا، متاثرہ شخص سے جرح صرف ملزم کا وکیل اور جج ہی کرسکے گا۔

متعلقہ عنوان :

اسلام آباد شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments