دو ایٹمی قوتوں کے مابین محاذ آرائی عالمی امن کیلئے خطرات کا باعث ہوگی، پاکستان

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کی طرف سے متنازعہ علاقوں میں جنگ بندی کی اپیل پر توجہ نہیں دی گئی، وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی

بدھ دسمبر 23:56

اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 02 دسمبر2020ء) وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کی طرف سے متنازعہ علاقوں میں جنگ بندی کی اپیل پر توجہ نہیں دی گئی، دو ایٹمی قوتوں کے مابین محاذ آرائی عالمی امن کیلئے خطرات کا باعث ہوگی۔’’ بین الاقوامی آرڈر بعد از کورونا عالمی وبا’’کے عنوان سے منعقدہ فورم سے خطاب کرتے ہوئے وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ عالمی وبا کورونا کے باعث دنیا بھر میں 60 ملین سے زائد افراد متاثر ہو چکے ہیں، پاکستان کو بھی کورونا وبا کے باعث بہت سے چیلنجز کا سامنا کرنا پڑا، تاہم پاکستان نیحکمت عملی سے کورونا کا پھیلاؤ روکنے میں کافی حد تک کامیابی حاصل کی۔

شاہ محمود قریشی نے کہا کہ میں سمجھتا ہوں کہ دنیا اس چیلنج سے نمٹنے کیلئے تیار نہیں تھی، عالمی وبائی چیلنج دوسرے دور میں داخل ہو چکا ہے، کورونا عالمی وبا کے معاشی مضمرات بھی انتہائی شدید نوعیت کے ہیں، کورونا کے بعد تنازعات نے دوبارہ سے سر اٹھانا شروع کیا ہے، عالمی استحکام کو خطرات لاحق ہو رہے ہیں، تنازعات کے حل کیلئے بین الاریاستی سفارت کاری کو فروغ دینے کی ضرورت ہے۔

(جاری ہے)

وزیرخارجہ نے کہا کہ کورونا کے بعد ہم نے مقبوضہ کشمیر کی صورتحال کو مزید بگڑتے دیکھا، آج 80 لاکھ کشمیریوں کو بھارتی قابض افواج نے محصور بنا رکھا ہے، بھارت جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کو جاری رکھے ہوئے ہے، جنوبی ایشیا میں مسئلہ کشمیر سیکورٹی کونسل کے ایجنڈے پر سب سے پرانا مسئلہ ہے، اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کی طرف سے متنازعہ علاقوں میں جنگ بندی کی اپیل پر توجہ نہیں دی گئی، پاکستان اور بھارت کے مابین بھی تمام مسائل کی بنیادی وجہ مسئلہ کشمیر ہے، دو ایٹمی قوتوں کے مابین محاذ آرائی عالمی امن کیلئے خطرات کا باعث ہوگی، دنیا جنوبی ایشیا کی طرف توجہ نہیں دے گی تو افغانستان میں قیام امن کو خطرات لاحق رہیں گے۔

شاہ محمود نے کہا کہ آج عدم برداشت، اسلاموفوبیا اور زائنو فوبیا کا رحجان بڑھتا دکھائی دے رہا ہے، سیاسی مقاصد کیلئے کسی خاص قوم یا نسل کو کرونا وبا کا ذمہ دار قرار دینا انتہائی غیر منصفانہ ہے۔

اسلام آباد شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments