خورشید شاہ ایک سال سے زائد عرصہ سے من گھڑت الزامات کے تحت قید میں ہیں ، فوری رہا کیا جائے ، فرحت اللہ بابر

سید خورشید احمد شاہ کے خلاف الزامات مذاق کے علاوہ اور کچھ نہیں،ایسے الزامات کو فوری اٹھا کر باہر پھینک دیا جاتا ہے، بیان

جمعرات دسمبر 23:55

خورشید شاہ ایک سال سے زائد عرصہ سے من گھڑت الزامات کے تحت قید میں ہیں ..
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 03 دسمبر2020ء) پاکستان پیپلزپارٹی نے سابق قائد حزب اختلاف سید خورشید احمد شاہ کو ایک سال سے زیادہ عرصے سے من گھڑت الزامات کے تحت قید میں رکھنے کی سخت مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ خورشید احمد شاہ کو فوری طور پر رہا کیا جائے۔ اپنے بیان میں فرحت اللہ بابر نے کہاکہ نیب ایک سال میں کسی بھی عدالت نے سید خورشید شاہ کے خلاف کوئی بھی کیس ثابت کرنے میں ناکام ہو چکا ہے۔

پاکستان پیپلزپارٹی انسانی حقوق کی تنظیموں اور ہر باضمیر شخص سے کہا ہے کہ وہ اس سیاسی انتقام کے خلاف احتجاج کرے اور مطالبہ کیا کہ خورشید احمد شاہ کو فوری طور پر رہا کیا جائے۔ پاکستان پیپلزپارٹی پارلیمنٹرینز کے سیکریٹری جنرل سینیٹر فرحت اللہ بابر نے ایک بیان میں کہا کہ سید خورشید احمد شاہ کے خلاف الزامات مذاق کے علاوہ اور کچھ نہیں، کسی بھی مہذب معاشرے میں اس قسم کے الزامات کو فوری اٹھا کر باہر پھینک دیا جاتا ہے اور اس قسم کے بے بنیاد الزمات لگانے والوں کے خلاف کارروائی کی جاتی ہے۔

(جاری ہے)

پی پی پی پی کے سیکریٹری جنرل نے کہا کہ یہ عدالتی نظام کو استعمال کرنے کا انوکھا کیس ہے۔ سید خورشید احمد شاہ ایک قطعہ اراضی کی ملکیت کادعویٰ کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ انہوں نے یہ زمین رقم ادا کرکے خریدی ہے اور وہ اس کی دستاویزات بھی پیش کرتے ہیں۔ جس شخص سے یہ زمین خریدی گئی وہ بھی یہ کہتا ہے کہ اس نے یہ زمین خورشید شاہ کو بیچ دی ہے اور اس زمین سے اس کا کوئی واسطہ نہیں۔

اس کے باوجود نیب یہ دعویٰ کرتا ہے کہ یہ قطعہ اراضی خورشید شاہ کی نہیں اور پھر اس الزام کے متعلق نیب کوئی ثبوت بھی پیش نہیں کرتا۔ سینیٹر فرحت اللہ بابر نے کاہ کہ سید خورشید احمد شاہ ایسے قائدحزب اختلاف رہے ہیں جنہوں نے کبھی بھی طبی اخراجات کے لئے قومی اسمبلی سے کوئی رقم نہیں لی اور نہ ہی کوئی الائونس لیا اور وزیر حج ہونے کے باوجود ریاست کے اخراجات پر کبھی بھی حج نہیں کیا۔

سینیٹر فرحت اللہ بابر نے کہا کہ یہ انتہائی افسوس کا مقام ہے کہ پاکستان میں احتساب کو سیاسی مخالفت کو دبانے اور سیاسی انجینئرنگ کے لئے استعمال کیا جا رہا ہے۔ موجودہ دور حکومت میں نیب کے چیئرمین نے نیب کو حکومت کا آلہ کار بنانے کی اجازت دے دی ہے۔ اس حکومت سے قبل پہلے کبھی بھی احتساب کے عمل کو اتنا بے توقیر نہیں کیا اور نیب طاقتوروں کے ہاتھ میں ایک ایسا ہتھیار بنا دیا گیا ہے جس سے سیاسی انجینئرنگ کا کام لیا جا رہا ہے۔

اسلام آباد شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments