نیب راولپنڈی کی سابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار کیخلاف انکوائری بند کرنے کی سفارش

اسحاق ڈار کیخلاف ٹیکس امور کی انکوائری بند کرنےکی سفارش کی گئی، سابق وزیرہاؤسنگ اکرم درانی کیخلاف بھی انکوائری بند کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔ ذرائع

sanaullah nagra ثنااللہ ناگرہ ہفتہ فروری 22:28

نیب راولپنڈی کی سابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار کیخلاف انکوائری بند کرنے ..
اسلام آباد (اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین۔27 فروری2021ء) نیب راولپنڈی نے سابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار کیخلاف انکوائری بند کرنے کی سفارش کردی، اسحاق ڈار کیخلاف ٹیکس امور کی انکوائری بند کرنے کی سفارش کی گئی، سابق وزیرہاؤسنگ اکرم درانی کیخلاف بھی انکوائری بند کرنے کی سفارش کی ہے۔ ذرائع کے مطابق چیئرمین نیب جسٹس ر جاوید اقبال نے3 مارچ کو ایگزیکٹو بورڈ کا اجلاس طلب کرلیا ہے، اجلاس میں کچھ نئی انکوائریاں کرنے اور کچھ انکوائری بند کرنے کی منظوری دی جائے گی۔

نیب نے سابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار کیخلاف ٹیکس امور کی انکوائری بند کرنے کی بھی سفارش کی ہے۔ سابق وزیرہاؤسنگ اکرم درانی اور ایم ڈی جمیل احمد کیخلاف بھی انکوائری بند کرنے کی سفارش کی ہے۔ اسی طرح نیب راولپنڈی نے روزویلٹ ہوٹل بند کرنے کے خلاف شکایت کی تصدیق مکمل کرلی ہے، جس پر نیب نے تین اہم وزراء کیخلاف انکوائری کی سفارش کردی ہے،روزویلٹ ہوٹل بند کرنے سے قومی خزانے کو ناقابل تلافی نقصان ہوا ہے۔

(جاری ہے)

نیب نے صوبائی وزیر قانون راجا بشارت کیخلاف انکوائری منظور کرنے کی سفارش بھی کی۔صوبائی وزیر قانون راجا بشارت پر اختیارات کے غلط استعمال کا الزام ہے۔ واضح رہے چھبیس جنوری کو وفاقی وزیر غلام سرور خان نے سینیٹ اجلاس میں واضح کیا تھا کہ  نیویارک میں موجود روز ویلٹ ہوٹل کو نہ بیچا جارہا ہے نہ نجکاری ہورہی ہے۔ ہوٹل بندش کا فیصلہ خسارے کی وجہ سے کیا گیا، 2024 سے امریکہ میں ہوٹل انڈسٹری بحال نہیں ہو سکتی ، مزید خسارے سے بچنے کیلئے ہوٹل کو بند کیا گیا،ہوٹل چلانے کیلئے 150 ملین ڈالر قرض بھی لیا گیا۔

بتایا گیا کہ روز ویلٹ ہوٹل 18 دسمبر 2020 سے بند ہے،روز ویلٹ ہوٹل کی سائیٹ لیز پر دینے کی وزارت نجکاری کی تجویز زیر غور ہے،2010 کے بعد سے ہوٹل کی آمدن میں کمی ہو رہی ہے۔ اس موقع پر پیپلزپارٹی کے سینیٹر رضا ربانی نے کہا تھا کہ روز ویلٹ ہوٹل کی نجکاری کا معاملہ جب تک مشترکہ مفادات کونسل میں نہیں اٹھایا جاتا تب تک نجکاری غیر قانونی ہوگی۔ 

اسلام آباد شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments