ٹک ٹاک کے ذریعے فحاشی پھیلانے کا الزام، معروف ٹک ٹاکر لڑکی کو 10 سال قید کی سزا

فحاشی پھیلانے، انسانی سمگلنگ اور لڑکیوں کا استحصال کرنے کے مختلف الزامات کے تحت عدالت نے ٹک ٹاکر لڑکی کو 10 سال قید اور 13 ہزار ڈالر کی سزا سنادی گئی، ذرائع

Danish Ahmad Ansari دانش احمد انصاری پیر 21 جون 2021 23:23

ٹک ٹاک کے ذریعے فحاشی پھیلانے کا الزام، معروف ٹک ٹاکر لڑکی کو 10 سال ..
کائرہ ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین ۔ 21 جون 2021ء ) ٹک ٹاک کے ذریعے فحاشی پھیلانے اور لڑکیوں کے استحصال کے الزامات، معروف ٹک ٹاکر لڑکی کو 10 سال قید کی سزا سنا دی گئی- تفصیلات کےمطابق ٹک ٹاک کے ذریعے فحاشی کے واقعات مین دن بہ دن اضافہ ہو رہا ہے، دنیا بھر کے متعدد اسلامی ممالک میں ٹک ٹاک پر پابندی بھی عائد کی جا چکی ہے، جبکہ پاکستان کا شمار بھی ان ممالک میں ہوتا ہے جہاں عارضی طور پر عدالت کے حکم پر ٹک ٹاک پر پابندی عائد کی گئی- اسلامی ممالک کے عوام کا کہنا ہے کہ ٹک ٹاک کو نوجوانوں میں فحاشی پھیلانے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے، ایسا ہی ایک واقعہ مصر میں پیش آیا- مصر میں ٹک ٹاک ایپ کے ذریعے فحاشی پھیلانے، انسانی سمگلنگ اور لڑکیوں کا استحصال کرنے کے مختلف الزامات کے تحت ٹک ٹاکر لڑکی کو 10 سال قید اور 13 ہزار ڈالر کی سزا سنادی گئی۔

(جاری ہے)

غیر ملکی میڈیا کے مطابق حنین حسام ، مودہ الادھم سمیت ان کے تین ساتھیوں پر الزام تھا کہ یہ لوگ مصر میں خاندان اور معاشرتی اقدار کی خلاف ورزی کر رہے ہیں۔ اس کے علاوہ یہ براہ راست نشریات کا لالچ دے کر لڑکیوں کے استحصال میں ملوث ہیں۔استغاثہ نے یہ بھی الزام لگایا کہ ملزمان نے ٹک ٹاک انتظامیہ سے پیسے لے کر ایسی ویڈیوز شائع کیں جن سے بے حیائی اور غیر اخلاقی مواد پھیلا۔

عدالت کی جانب سےحنین حسام کو 10 سال قید اور 13 ہزار امریکی ڈالرز جرمانے کی سزا سنائی ہے۔ اس کے علاوہ ان کے ساتھیوں کو چھ چھ سال اور مجموعی طور پر 13 ہزار امریکی ڈالرز کی سزا سنائی گئی ہے۔ واضح رہے کہ گزشتہ برس پاکستان کی ٹیلی مواصلاتی اتھارٹی کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا تھا کہ اسے معاشرے کے مختلف طبقوں کی طرف سے 'فحاشی اور بیہودہ مواد‘ کی اشاعت کی شکایات موصول ہو رہی تھیں۔

اس وجہ سے چینی ایپ ٹک ٹاک کو بلاک کر دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ ٹیلی مواصلاتی اتھارٹی کے مطابق اس نے ٹک ٹاک کو غیر اخلاقی مواد کی اشاعت کے خلاف خبردار کیا تھا، لیکن اس ایپ کے منتظمین قابل اعتراض مواد کی اشاعت پر کڑی نظر رکھنے اور اسے فلٹر کرنے سے متعلق ہدایات پر عمل کرنے میں ناکام رہے۔ اتھارٹی کے انتباہ کے باوجود ایسا مواد شائع ہوا اور اس پر عوامی رد عمل بھی سامنے آیا۔

اتھارٹی نے تاہم کہا ہے کہ ویڈیو شیئرنگ پلیٹ فارم ٹک ٹاک اگر قابل اعتراض مواد اپ لوڈ کرنے پر کنٹرول رکھنے اور کسی کو بھی ایسا کوئی مواد پوسٹ نہ کرنے دینے پر اتفاق کر لے، تو اس پابندی پر نظر ثانی کی جا سکتی ہے۔ پاکستان کی ٹیلی مواصلاتی اتھارٹی کی طرف سے یہ اقدام چند ماہ قبل لائیو اسٹریمنگ ایپ 'بیگو‘ پر پابندی عائد کرنے کے بعد کیا گیا ہے۔ اس اقدام کی وجہ بھی یہی بنی تھی اور اس اتھارٹی کی طرف سے ویڈیو شیئرنگ پلیٹ فارم یوٹیوب کو بھی فحش اور نفرت انگیز مواد کو بلاک کرنے کے لیے انتباہی پیغام دیا گیا تھا۔ تاہم بعدازاں ٹک ٹاک پر سے پابندی ہٹا دی گئی تھی-

اسلام آباد شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments