میں انصاف چاہتا ہوں، اُمید ہے کہ ہمیں انصاف ملے گا، اگر نہ ملا تو کسی کو نہیں چھوڑوں گا

یہاں قاتل کو ڈھونڈنے کی ضرورت نہیں، قاتل سامنے موجود ہے، یہ بالکل سادہ کیس ہے۔ والد نور مقدم

Sumaira Faqir Hussain سمیرا فقیرحسین جمعہ 23 جولائی 2021 17:20

میں انصاف چاہتا ہوں، اُمید ہے کہ ہمیں انصاف ملے گا، اگر نہ ملا تو کسی ..
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔ 23 جولائی 2021ء) : مقتولہ نور مقدم کے والد شوکت علی مقدم نے کہا کہ میری بیٹی بہت پیاری اور نرم دل تھی، کل سے ہمارا خاندان بری طرح رو رہا ہے، میں سفیر رہا اور میں انصاف چاہتا ہوں۔ وفاقی دارالحکومت میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے مقتولہ نور مقدم کے والد شوکت مقدم نے وزیراعظم عمران خان ،معاون خصوصی شہباز گل اور وفاقی وزیر شیریں مزاری کا واقعہ کا فوری نوٹس لینے پر شکریہ ادا کیا۔

انہوں نے کہا کہ یہ ایسا کیس نہیں کہ ملزم فرار ہوا، ملزم پکڑا گیا اور اسلحہ کے ساتھ پکڑا گیا ہے۔ قاتل ایک پاگل آدمی نہیں ہے اور اگر ایک پاگل کو کمپنی کا ڈائریکٹر لگایا تو ماں باپ کو بھی تفتیش کا حصہ بنانا چاہئیے۔ سابق سفیر کا کہنا تھا یہ ایک صاف کیس ہے اور قاتل سامنے کھڑا ہے، جب قتل کیا گیا قاتل کے چوکیدار نے بھی دیکھا ۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ یہ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت ہے اور ہم انصاف کے منتظر ہیں۔

انہوں نے کہا کہ یہ سیدھا سیدھا قتل کا واقعہ ہے، قاتل کوئی پاگل نہیں تھا، ہماری بچی بالکل معصوم تھی، میں حکومت سے انصاف چاہتا ہوں، اُمید ہے کہ ہمیں انصاف ملے گا، اگر نہ ملا تو کسی کو نہیں چھوڑوں گا۔ یہاں قاتل کو ڈھونڈنے کی ضرورت نہیں، قاتل سامنے موجود ہے، یہ بالکل سادہ کیس ہے۔یاد رہے کہ 20 جولائی کو اسلام آباد میں تھانہ کہسار کے علاقے سیکٹر ایف سیون فور میں نوجوان خاتون کو لرزہ خیز انداز میں قتل کردیا گیا تھا۔

خاتون کو تیز دھار آلے سے بہیمانہ انداز میں قتل کیا گیا۔ لڑکی کا گلا کاٹنے کے بعد سر کاٹ کر جسم سے الگ کر دیا گیا تھا۔ واقعے کی اطلاع موصول ہوتے ہی سینئر افسران اور متعلقہ ایس ایچ او موقع واردات پر پہنچے اور تحقیقات کیں۔ قتل میں ملوث ظاہر جعفر نامی شخص کو موقع واردات سے گرفتار کرکے تھانے منتقل کردیا گیا اور وقوعہ کا مقدمہ درج کیا گیا۔

ایف آئی آر کے مطابق مقتولہ نور مقدم کے والد نے بتایا کہ ظاہر جعفر کے والد ذاکر جعفر کی فیملی سے ان کی ذاتی واقفیت ہے۔ ان کے مطابق 20 تاریخ کو انھیں ظاہر جعفر نے کال کی اور بتایا کہ نور ان کے ساتھ نہیں ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ اس کے بعد رات دس بجے انھیں تھانے سے کال آئی کہ آپ کی بیٹی نور مقدم کا قتل ہو گیا ہے آپ تھانہ کہسار آ جائیں۔ پولیس انھیں جس گھر میں لے کر گئی وہ ان کے بقول ذاکر جعفر کا گھر تھا۔ میں نے گھر کے اندر جا کر دیکھا کہ میری بیٹی کو بے دردی سے تیز دھار آلے سے قتل کر کے اس کا سر جسم سے کاٹ کر الگ کر دیا ہے۔ مدعی شوکت مقدم کا کہنا ہے کہ میری بیٹی نور مقدم کو ظاہر جعفر نے ناحق قتل کر کے سخت زیادتی کی ہے۔ دعویدار ہوں کہ اسے سخت سے سخت سزا دلوائی جائے۔

اسلام آباد شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments