کورونا کیسز میں اضافہ، سرکاری و نجی یونیورسٹیاں بند رکھنے کا نوٹیفکیشن جاری

سندھ کورونا ٹاسک فورس کا صوبے میں کورونا کیسز کی شرح 10 فیصد اور کراچی میں کیسز کی شرح 25 فیصد سے تجاوز کرنے پر ایک بار پھر پابندیاں لگانے کا فیصلہ

Danish Ahmad Ansari دانش احمد انصاری ہفتہ 24 جولائی 2021 21:20

کورونا کیسز میں اضافہ، سرکاری و نجی یونیورسٹیاں بند رکھنے کا نوٹیفکیشن ..
کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 24 جولائی2021ء) کورونا مثبت کیسز میں ایک بار پھر اضافہ، سرکاری و نجی یونیورسٹیاں بند رکھنے کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا گیا- تفصیلات کےمطابق عالمی وبا کورونا وائرس کے بڑھتے کیسز کے پیش نظر یونیورسٹیز بند رکھنے کا نوٹیفکیشن جاری کردیا گیا ہے۔ سندھ کورونا ٹاسک فورس نے صوبے میں کورونا کیسز کی شرح 10 فیصد اور کراچی میں کیسز کی شرح 25 فیصد سے تجاوز کرنے پر ایک بار پھر پابندیاں لگانے کا فیصلہ کیا ہے۔

اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ تعلیمی اداروں میں امتحانات اپنے شیڈول کے مطابق ہوںگے جبکہ سرکاری اور نجی سیکٹرز میں 50 فیصد سٹاف حاضر ہو گا۔دوسری طرف ایڈیشنل چیف سکریٹری داخلہ قاضی شاہد پرویز نے کہا ہے کہ سندھ کی تمام نجی و سرکاری جامعات بند ہونے کے باوجود اپنے امتحانات جاری رکھ سکیں گی،31 جولائی تک سندھ کی تمام نجی و سرکاری بند رہیں گی لیکن اگر جامعات میں امتحانات کا عمل جاری ہے تو وہ صرف امتحانی امور انجام دے سکیں گی، اس حوالے سے پچھلے نوٹی فیکشن میں تفصیلات موجود ہیں۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ اسی طرح انٹر کے امتحانات بھی معمول کے مطابق ہوں گے تاہم تدریسی اور غیر تدریسی امور مکمل بند رہیں گے۔ وفاقی وزیر منصوبہ بندی اور این سی او سی کے سربراہ اسد عمر کا کہنا ہے کہ کورونا کا خطرہ ابھی ٹلا نہیں ہے اس لیے عوام ویکسینیشن کروائیں اور ایس او پیز پر عمل کریں۔انہوں نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر ٹویٹ کرتے ہوئے کہا کہ کہ خطے میں کورونا سے سب سے زیادہ اموات ایران میں فی دس لاکھ آبادی 1037 اموات ہوئیں۔

نیپال میں 326، بھارت میں 301، سری لنکا میں 186 فی ملین اموات ہوئیں۔ افغانستان میں 160 اور بنگلہ دیش میں 113 فی ملین اموات ہوئیں۔اسد عمر نے مزید کہا کہ پاکستان میں بروقت فیصلوں کی وجہ سے کورو نا اموات صرف 102 فی ملین اموات ہوئیں۔کورونا کا خطرہ ابھی ٹلا نہیں ہے عوام ویکسینیشن کروائیں اور ایس او پیز پر عمل کریں۔

اسلام آباد شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments