شہباز شریف پارٹی کے صدر ہیں، انہیں ناپ تول کر بات کرنی چاہیے تھی، شاہد خاقان عباسی

دو بیانیےکی بات کرنے والے میرے پاس آئیں میں انہیں بیانیہ پڑھاتا ہوں، شاہد خاقان عباسی نے ن لیگ میں دو بیانے کی خبروں کو بے بنیاد قرار دے دیا

Danish Ahmad Ansari دانش احمد انصاری بدھ 4 اگست 2021 23:32

شہباز شریف پارٹی کے صدر ہیں، انہیں ناپ تول کر بات کرنی چاہیے تھی، شاہد ..
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ، اخبار تازہ ترین، 4اگست 2021) شہباز شریف پارٹی کے صدر ہیں، انہیں ناپ تول کر بات کرنی چاہیے تھی، دو بیانیےکی بات کرنے والے میرے پاس آئیں میں انہیں بیانیہ پڑھاتا ہوں، شاہد خاقان عباسی نے ن لیگ میں دو بیانے کی خبروں کو بے بنیاد قرار دے دیا- تفصیلات کے مطابق نجی ٹیلی ویژن چینل کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے مسلم لیگ ن کے سینئر رہنما شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ مسلم لیگ ن میں کوئی دو بیانیہ نہیں، صرف ایک بیانیہ ہے اور جو لوگ دو بیانیے کی بات کرتے ہیں، انہیں میرے پاس لایا جائے اور میں انہیں شبہاز شریف صاحب کے پاس لے کر جاو گا، وہ انہیں ایک بیانیہ پڑھا دیں گے، انہوں نے کہا کہ شہباز شریف صاحب کو اپنے انٹرویو میں ناپ تول کر بات کرنی چاہیے تھی، لیکن انسان خطا کا پتلا ہے، انسان سے ہی غلطی ہوتی ہے، شہباز شریف صاحب میری پارٹی کے صدر ہیں، انہیں ہر بات کہنے کا حق حاصل ہے، ان سے غلطی سے کچھ باتیں ہو گئیں، لیکن اگلے انٹرویو میں، انہوں نے تمام باتوں کی وضاحت کر دی تھی- واضح رہے کہ گزشتہ روز مسلم لیگ ن کے صدر شہباز شریف کی جانب سے 2018 کے انتخابات میں پارٹی شکست کو غلط حکمت عملی کا نتیجہ قرار دینے پر شاہد خاقان عباسی نےکہا ہےکہ اس میں ن لیگ کی کوئی غلطی نہیں تھی۔

(جاری ہے)

نجی ٹیلی ویژن چینل کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے سابق وزیراعظم اور ن لیگ کے سینیئر نائب صدر شاہد خاقان عباسی نے واضح کیا کہ اس میں ن لیگ کی کوئی غلطی نہیں تھی اور نہ ہی نواز شریف کی نااہلی تھی۔ جب فیصلے بند کمروں میں ہوں تو ہم اور عوام کچھ نہیں کر سکتے- شاہد خاقان عباسی کا کہنا تھا کہ یہ ایک طے شدہ معاملہ تھا،سیاسی جماعت کی الیکشن میں غلطیاں نہیں ہوتیں،ہم الیکشن میں گئے اور جوکچھ الیکشن میں ہوا وہ تاریخ کا حصہ ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کی تاریخ کی بہترین حکومت 2013 سے 2018 کی تھی، اگرانصاف کے دوہرے معیارہوں گے تو اس میں ن لیگ اورنوازشریف کی کیا غلطی ہے؟ شہبازشریف نوازشریف کے ساتھ کھڑے تھے اورکھڑے ہیں۔ سابق وزیراعظم کا کہنا تھا کہ جوکچھ 2018 کے الیکشن میں ہوا اس کی حقیقت سامنے آنی چاہیے، سیاست میں مفاہمت یا مزاحمت نہیں ہوتی، سیاست میں اصول ہوتے ہیں،ن لیگ میں کوئی سخت یا نرم بیانیہ نہیں،ملک کوآئین کے مطابق چلنا چاہیے۔

انہوں نے مزید کہا کہ الیکشن میں دھاندلی پرسمجھوتہ نہیں ہوسکتا، ٹرتھ کمیشن بنایا جائے جس میں حقائق کوسامنے لایا جائے۔ خیال رہے کہ گذشتہ روز نجی ٹیلی ویژن چینل کو انٹرویو دیتے ہوئے شہباز شریف کا کہنا تھاکہ اگر 2018 کے انتخابات سے قبل مشاورت کے بعد صحیح حکمت عملی بناتے تو نوازشریف چوتھی مرتبہ ملک کے وزیراعظم بن جاتے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ دور کے راز سینے میں دفن ہیں،ہم فرشتے نہیں نواز شریف سے بھی ماضی میں غلطیاں ہوئی ہوں گی۔

وہ انسان ہیں آدمی جذبات میں آکر بات کر دیتا ہے۔آگے بڑھیں اور عوام کے دکھوں کا مداوا کریں۔انہوں نے مزید کہا کہ عمران خان کو اسٹیبلشمنٹ کی بھرپور حمایت حاصل ہے اس کے باوجود ملک کے حالات اتنے خراب ہیں۔ جتنی سپورٹ عمران خان کو ملی اس کا 30واں حصہ کسی اور کو ملا ہوتا تو آج ملک کے حالات کچھ اور ہوتے۔موجودہ حکومت آج بھی کشکول لے کر دوسروں کے پاس کھڑی ہوتی ہے۔ملک میں آج مہنگائی عروج پر پہنچ چکی ہے۔شہباز شریف نے کہا کہ حکمت عملی بناتے تو نواز شریف چوتھی بار ملک کے وازیراعظم ہوتے،انہوں نے مزید کہا کہ جب پی ڈی ایم بنی تو میں جیل میں تھا اور جب تقسیم ہوئی تب بھی میں جیل میں تھا۔

اسلام آباد شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments