بڑھتی ہوئی مہنگائی اور غربت عوامی مسائل ہیں نہ ای وی ایم ہے ، رحمان ملک

عوام سڑکوں پر آنے پر مجبور نہ کیا جائے ورنہ حکومت اور اپوزیشن دونوں کے لیے کوئی راستہ نہیں بچے گا، بیان

جمعہ 17 ستمبر 2021 00:43

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 16 ستمبر2021ء) سابق وزیر داخلہ اور چیئرمین انسٹی ٹیوٹ آف ریسرچ اینڈ ریفارمز (آئی آر آر) سینیٹر رحمان ملک نے کہا ہے کہ پاکستان کا اصل مسئلہ بڑھتی ہوئی غربت اور مہنگائی ہے، غریب آدمی کا اصل مسئلہ غربت اور مہنگائی ہے جو دن بہ دن بڑھ رہی ہے اور اس کا الیکٹرانک ووٹنگ مشین (ای وی ایم) وغیرہ سے کوئی لینا دینا نہیں ہے جس پر حکومت اور اپوزیشن دونوں اپنی سیاست کھیل رہے ہیں۔

اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ میں اپوزیشن اور حکومت کو مشورہ دینا چاہتا ہوں کہ وہ غریبوں کے مسائل پر توجہ دے اور غریب آدمی کے مسائل کو حل کرنے کے لیے حکمت عملی وضع کرے اور ای وی ایم جیسے مسائل کو پارلیمنٹ میں حل کیا جائے۔انہوں نے کہا کہ جمہوریت کا مطلب عوام کی خدمت ہے لیکن ایسا لگتا ہے کہ ہماری سیاست کسی غریب کے مسائل کا تحفظ نہیں کر پا رہی ہے۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ عوام سڑکوں پر آنے پر مجبور نہ کیا جائے ورنہ حکومت اور اپوزیشن دونوں کے لیے کوئی راستہ نہیں بچے گا۔سینیٹر رحمان ملک نے کہا کہ روپے کی قیمت دن بہ دن گر رہی ہے اور پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں پانچ روپے فی لیٹر کا اضافہ کیا گیا جو کہ ایک غریب آدمی کی زندگی پر سب سے زیادہ اثر ڈالے گا۔ انہوں نے کہا کہ وہ کئی سالوں سے کہہ رہے تھے کہ روپے کی قدر خطرناک سطح تک گر سکتی ہے اس لیے حکومت کو ضروری اقدامات کرنے چاہئیں لیکن بدقسمتی سے آج روپے کی قیمت 170 روپے فی ڈالر تک پہنچ گئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ انہوں نے 2019 میں کہا تھا کہ اگر ضروری اقدامات نہ کیے گئے تو روپے کی قدر 170 ڈالر فی ڈالر تک گر سکتی ہے جس کا آج ہم نے مشاہدہ کیا ہے۔ سابق وزیر داخلہ نے اظہار کیا کہ یہ ہمیشہ ہمارا مسئلہ رہا ہے کہ ہم صحیح وقت پر غلط کام کرتے ہیں اور غلط کام صحیح وقت پر کرتے ہیں، یہ وقت ہے مہنگائی اور غربت کو ختم کرنے کا نہ کہ ای وی ایم پر شور مچانے کا۔

انہوں نے کہا کہ اپوزیشن اور حکومت دونوں کو مل بیٹھ کر پارلیمنٹ میں ای وی ایم پر بحث کرنی چاہیے اور قانونی حل تلاش کرنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ ای وی ایم کا فیصلہ صرف حکومت نہیں لے سکتی بلکہ حکومت کو اپوزیشن کو اعتماد میں لینا ہوگا۔ رحمان ملک نے کہا کہ انہوں نے پاکستان میں سب سے پہلے ای وی ایم متعارف کروائی کیونکہ انہوں نے اس وقت کے چیئرمین نادرا سے ای وی ایم پر تحقیق کرنے کو کہا تھا۔

انہوں نے کہا کہ ہماری حکومت نے ای وی ایم کو مسترد کر دیا کیونکہ چھ ممالک جنہوں نے اسے استعمال کیا تھا نتائج کو مسترد کر دیاتھا۔ نہوں نے کہا کہ ای وی ایم انٹرنیٹ کے ذریعے انتخابی نتائج منتقل کرے گی جو کہ محفوظ نہیں ہے اور ہمارے پاس پہلے ہی آر ٹی ایس کا تجربہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کو الیکٹرانک ووٹنگ مشین (ای وی ایم) میں جلدی بازی نہیں کرنی چاہیے بلکہ اپوزیشن کے ساتھ مل کر باہمی افہام و تفہیم سے حل تلاش کرنا چاہیے۔

سینیٹر رحمان ملک نے کہا کہ اس وقت پاکستان کو مختلف قومی اور بین الاقوامی چیلنجز کا سامنا ہے لہذا اپوزیشن اور حکومت کو قومی مسائل پر چوکس اور متحد رہنا چاہیے۔ایک سوال کے جواب میں رحمان ملک نے کہا کہ ان کا اپنی قیادت سے کوئی اختلاف نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ پارٹی قیادت انہیں قومی اسمبلی میں دیکھنا چاہتی تھی لیکن انہوں نے کتابیں لکھنے کے لیے کچھ وقت مختص کیا تھا تاکہ آنے والی نسل کو ماضی اور ان کہی تاریخ کے حقائق سے آگاہ رکھا جائے۔

افغانستان سے متعلق ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ پاکستان نے پرامن افغانستان کے لیے مثبت کردار ادا کیا ہے اور کرتا رہے گا لیکن طالبان حکومت کو عالمی برادری کی مرضی کے مطابق قبول کرنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ طالبان حکومت کو انسانی اور خواتین کے حقوق کے حوالے سے عالمی برادری کے خدشات کو دور کرنا چاہیے۔

اسلام آباد شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments