آئی جی پنجاب راؤ سردار علی خان کی زیر صدارت سنٹرل پولیس آفس میں ویڈیو لنک آر پی اوز کانفرنس

۵سپروائزری افسران یا انکے نمائندے تھانوں اور دفاتر میں جا کر سٹاف کے رویے اور پبلک سروس ڈلیوری کا جائزہ لیں -لاہور میں اسٹینگ آپریشنز بالخصوص گداگروں کے خلاف کاروائیاں قابل ستائش ہیں جسے اسی جذبے سے پنجاب بھر میں جاری رہنا چاہئیے۔ مستقل ناکوں سے ہر صورت گریز کیا جائے اور موبائل ناکوں کی صورت میں سرکل افسر اور ایس ایچ او اسکے ذمہ دار ہونگے۔ کرپشن، شہریوں کے ساتھ بدتمیزی یا انکے مسائل کے حل میں دانستہ تاخیری حربوں کے استعمال پر سخت ترین کاروائی کی جائے۔ آئی جی پنجاب

منگل 21 ستمبر 2021 00:16

لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - آن لائن۔ 20 ستمبر2021ء) انسپکٹرجنرل پولیس پنجاب رائو سردار علی خان نے کہا ہے کہ پولیس اسٹیشن آنے والے شہریوں کے مسائل کے فوری حل اور انہیں مزید بہتر اور آسان سروس ڈلیوری کی فراہمی کو یقینی بنائے بغیرتھانہ کلچر میں تبدیلی ممکن نہیں لہذاسپروائزاری افسران تھانوں اور پولیس دفاتر کے اچانک دورے کریں اور وہیں پر کھلی کچہریاں بھی لگائیں، تھانوں اور پولیس دفاتر کی اچانک انسپکشنز کے دوران سٹاف کے رویے اور پبلک سروس ڈلیوری کی فراہمی کے عمل کا بطور خاص جائزہ لیں اورکرپشن، شہریوں کے ساتھ بدتمیزی یا انکے مسائل کے حل میں دانستہ تاخیری حربوں کے استعمال پرذمہ داران کے خلاف زیرو ٹالرینس کے تحت سخت ترین کاروائی کی جائے۔

انہوں نے مزید کہا کہ اچانک دوروں سے جہاں تھانوں اور دفاتر میں پولیس افسران و اہلکاروں کے شریف شہریوں سے برتائو کا فیڈ بیک ملے گا وہیں دوسری جانب سروس ڈلیوری کو بہتر سے بہتر کرکے تھانہ کلچر میں تبدیلی کا سفر آگے بڑھتا جائے گا۔

(جاری ہے)

انہوں نے مزیدکہاکہ لاہور میں اسٹینگ آپریشنز بالخصوص گداگروں کے خلاف آپریشنز قابل ستائش ہیں جسے اسی جذبے سے پنجاب بھر میں جاری رہنا چاہئیے جبکہ اشتہاریوں، عدالتی مفروران، قبضہ مافیا اور سماج دشمن عناصر کے خلاف بھی اسٹنگ آپریشنز میں مزید تیزی لاتے ہوئے مجرمان کو پابند سلاسل کیا جائے ۔

انہوں نے مزیدکہاکہ صوبہ بھر میں پٹرولنگ پلان بدلتی صورتحال سے ہم آہنگ کیلئے ہفتہ وار بنیادوں پر اپ ڈیٹ کیا جائے اور اس کی موثر مانیٹرنگ کو یقینی بنایا جائے جبکہ پٹرولنگ گاڑیوں میں ٹریکرزہر صورت فعال ہونے چاہئیے ۔ انہوں نے مزیدکہاکہ جن اضلاع میں گاڑیوں کے ٹریکرز خراب ہیں آر پی اوز انکی درستگی کیلئے قابل عمل تجاویز پر مبنی رپورٹس ایک ہفتہ میں سی پی او بھجوائیں تاکہ انہیں جلداز جلد فعال بنانے کیلئے تیز اقدامات کئے جائیں اور اس دوران E POLICE POSTایپ کے ذریعے پٹرولنگ گاڑیوں اور عملے کی موثر نگرانی کو یقینی بنائیں۔

انہوں نے مزید کہاکہ غیر ملکیوں بالخصوص چینی شہریوں کو ہر ممکن سیکیورٹی کی فراہمی کیلئے تمام دستیاب وسائل کوبروئے کار لایاجائے جبکہ مستقل ناکوں سے ہر صورت گریز کیا جائے اور موبائل ناکوں کی صورت میں سرکل افسر اور ایس ایچ او انکی پوری ذمہ داری لیں۔انہوں نے کہا کہ پولیس کی تمام فارمیشنز سے ان کے اصل مقاصد کے مطابق کام لیتے ہوئے بہترین نتائج حاصل کئے جائیں۔

انہوں نے کہاکہ آرگنائزڈ کرائم کے خاتمے کیلئے فرنٹ فٹ پر آکر کام کریں کیونکہ میں نے یا میرے نمائندوں نے جب آپ لوگوں کو چیک کرنا شروع کرنا ہے تو جہاں جوئے ، منشیات سمیت آرگنائزڈ کرائم پکڑا گیا تو پھر میں آپ کو پہلے ہی بتا چکا ہوں کہ میرے نزدیک معطلی کوئی سزا نہیں پھر اسکے ذمہ دار پنجاب پولیس کا حصہ نہیں رہیں گے لہذا میں بار بار آپ سے کہہ رہا ہوں کہ عوام کے مسائل کے حل اور ان سماجی برائیوں بالخصوص منشیات جیسی لعنت کے خاتمے کیلئے جذبہ جہاد سے کام کریں اور ایسی سرگرمیوں میں ملوث افراد کے خلاف زیرو ٹالرینس کے تحت کاروائیوں کو تیز سے تیز کیاجائے ۔

یہ ہدایات انہوںنے آج سنٹرل پولیس آفس میں منعقدہ آر پی اوز ویڈیو لنک کانفرنس کے دوران صوبے کے تمام آر پی اوز کو ہدایات دیتے ہوئے جاری کیں ۔ آئی جی پنجاب نے افسران کو ہدایات دیتے ہوئے مزیدکہا کہ عوام دوست پولیسنگ کے فروغ اور جرائم کی بروقت بیخ کنی کیلئے فورس کی جدید تقاضوں کے مطابق بہترین پیشہ ورانہ تربیت وقت کی اہم ضرورت ہے لہذا پنجاب پولیس کو کرائم فائٹنگ فورس سے عوام دوست سروس میں تبدیلی کیلئے تمام دستیاب وسائل کو بروئے کار لا کر اقدامات جاری رکھے جائیں جبکہ زیر تربیت اہلکاروں کو تربیتی کورسز کے ساتھ پبلک ڈیلنگ اور سٹریس مینجمنٹ کے حوالے سے خصوصی کورسز کروائے جائیں۔

انہوں نے مزیدکہاکہ جرائم کی روک تھام کیلئے پولیس ٹیموں کو اپنا کردار مزید فعال ہو کر ادا کرنا ہوگا جبکہ کنوکشن ریٹ میں بہتری کیلئے سپروائزری افسران اپنا کردار مزید موثر بنائیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ بیٹ بکس میں اندراج کو ہرصورت یقینی بنایا جائے کیونکہ بیٹ بکس کو کسی بھی وقت چیک کیا جاسکتا ہے اور سپروائزری افسران بھی بیٹ بکس کو مستقل بنیادوں پر چیک کرتے رہیں ۔

انہوں نے مزیدکہاکہ سنگین جرائم میں ایف آئی آر کے اندراج سے مقدمہ کے منطقی انجام پر پہنچنے تک تمام مراحل کی ڈیجیٹل مانیٹرنگ پر بطور خاص توجہ دی جائے جبکہ معاشرے کے ناسور بدمعاشوں کے گرد گھیرا تنگ کرنے کے لیے انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز میں تیزی لائی جائے ۔اجلاس میں ایڈیشنل آئی جی ٹریننگ کنور شاہ رخ، ایڈیشنل آئی جی آپریشنز صاحبزادہ شہزاد سلطان، ایڈیشنل آئی جی انویسٹی گیشن فیاض احمد دیو، ایڈیشنل آئی جی سپیشل برانچ زعیم اقبال شیخ، ڈی آئی جی کرائمز /انویسٹی گیشن شارق کمال صدیقی، ڈی آئی جی ٹریننگ سلیمان، سلطان رانا، ڈی آئی جی آئی ٹی وقاص نذیر اورڈی آئی جی ایس پی یو منیر احمد ضیاء سمیت دیگر افسران موجود تھے جبکہ صوبے کے آر پی اوز نے بذریعہ ویڈیو لنک شرکت کی

اسلام آباد شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments