انتخابی اصلاحات کا پیکج انتخابات میں دھاندلی کا پیکج ، انتخابی اصلاحات کے نام پر الیکشن چرائے جائینگے، احسن اقبال

نارووال سپورٹس کمپلیکس التوا کے باعث کروڑوں روپے کی مشینری خراب ہو گئی،دو سال سے حکومت ایک بھی ثبوت عدالت میں پیش نہ کرسکی،اپنی نالائقی نااہلی کو الزامات کے پیچھے چھپاتے ہیں،ملکی معیشت سیاست کا بیڑا غرق کردیا ،غیر ملکی ٹیموں کا پاکستان پرعدم اعتماد ہے ،اس کو ناکام سفارتکاری کہیں یا سیکورٹی ،کھیل کے میدان ویران ہورہے ہیں،عالمی سطح پر جگ ہنسائی ہورہی ہے،میڈیا سے گفتگو سابق وزیر داخلہ احسن اقبال کے خلاف نارووال سپورٹس سٹی ریفرنس کی سماعت 6اکتوبر تک ملتوی

منگل 21 ستمبر 2021 13:01

انتخابی اصلاحات کا پیکج انتخابات میں دھاندلی کا پیکج ، انتخابی اصلاحات ..
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 21 ستمبر2021ء) سابق وزیر داخلہ احسن اقبال نے کہا ہے کہ انتخابی اصلاحات کا پیکج انتخابات میں دھاندلی کا پیکج ہے، انتخابی اصلاحات کے نام پر الیکشن چرائے جائینگے، نارووال سپورٹس کمپلیکس التوا کے باعث کروڑوں روپے کی مشینری خراب ہو گئی،دو سال سے حکومت ایک بھی ثبوت عدالت میں پیش نہ کرسکی،اپنی نالائقی نااہلی کو الزامات کے پیچھے چھپاتے ہیں،ملکی معیشت سیاست کا بیڑا غرق کردیا ،غیر ملکی ٹیموں کا پاکستان پرعدم اعتماد ہے ،اس کو ناکام سفارتکاری کہیں یا سیکورٹی ،کھیل کے میدان ویران ہورہے ہیں،عالمی سطح پر جگ ہنسائی ہورہی ہے۔

منگل کو احتساب عدالت اسلام آباد میں سابق وزیر داخلہ احسن اقبال کے خلاف نارووال سپورٹس سٹی ریفرنس کی سماعت احتساب عدالت کے جج سید اصغر علی نے کی۔

(جاری ہے)

نیب پراسیکیوٹر وسیم جاوید اور نیب گواہ اظہار الحق عدالت کے روبرو پیش ہوئے ۔نیب گواہ اظہار الحق کا بیان قلمبند کر لیاگیا ۔عدالت نے کیس کی سماعت 6 اکتوبر تک ملتوی کر دی۔بعد ازاں میڈ یا سے گفتگو کرتے ہوئے احسن اقبال نے کہاکہ نارووال سپورٹس کمپلیکس التوا کے باعث کروڑوں روپے کی مشینری خراب ہو گئی،مصباح الحق نے نارووال سپورٹس کمپلیکس کومثالی کمپلیکس قرار دیا۔

انہوں نے کہاکہ آج نارووال سپورٹس کمپلیکس کے کرکٹ گراؤنڈ میں تین تین فٹ گھاس ہے ،بدین کی طرح نارووال بھی پاکستان کا حصہ ہے ،بدین کی طرح نارووال میں سپورٹس کمپلیکس بننا غلط کیسے ہوا۔انہوں نے کہاکہ بتیس سو ارب کے ترقیاتی منصوبوں پر (ن) لیگ نے کام کیا ،اگر ان منصوبوں میں کرپشن ہوئی تو سامنے لاؤ۔انہوں نے کہا کہ مجھ پر ملتان سکھر موٹروے میں کمیشن کھانے کا الزام لگایا گیا،دو سال سے حکومت ایک بھی ثبوت عدالت میں پیش نہ کرسکی ۔

انہوں نے کہاکہ اپنی نالائقی نااہلی کو الزامات کے پیچھے چھپاتے ہیں،ملکی معیشت سیاست کا بیڑا غرق کردیا ،کھیلوں کے میدان مشکلوں سے آباد کیے ۔انہوں نے کہا کہ (ن) لیگ نے امن و امان کی صورتحال ٹھیک کی ۔احسن اقبال نے کہاکہ دو ہزار نو میں بدقسمتی سے سری لنکن کرکٹ ٹیم پر حملہ ہوا،غیر ملکی ٹیموں کا پاکستان پرعدم اعتماد ہے ،اس کو ناکام سفارتکاری کہیں یا سیکورٹی ،کھیل کے میدان ویران ہورہے ہیں،عالمی سطح پر جگ ہنسائی ہورہی ہے۔

انہوں نے کہاکہ پی ٹی آئی کے خلاف کیسز کی رپورٹ منظر عام پر آنے والی ہے ،تحریک انصاف کو رپورٹ کی تفصیلات کا علم ہے تبھی وزرا الیکشن کمیشن پر حملہ کررہے ہیں۔انہوں نے کہاکہ چیف الیکشن کمشنر کا نام اپوزیشن نے تجویز نہیں کیا تھا،جس شخص کو خود نامزد کیا اس پر منفی الزام تراشیاں اور پراپیگنڈا کررہے ہیں۔انہوں نے کہاکہ سپریم کورٹ کے فیصلے کو ردی کی ٹوکری میں پھینک دیا گیا،مجھے حیرت ہے سپریم کورٹ بھی توہین عدالت پر خاموش ہے،ہم نے توہین عدالت سزائیں بھگتیں ہیں۔

انہوں نے کہاکہ انتخابی اصلاحات کا پیکج انتخابات میں دھاندلی کا پیکج ہے ،حکومت جتنے دل چاہے ووٹ نکال دے کوئی نہیں پوچھ سکتا۔انہوں نے کہاکہ انتخابی اصلاحات کے نام پر الیکشن چرائے جائینگے۔انہوں نے کہا کہ آی وی ایم کا دفتر دبئی میں ہے ،حلقہ بندیوں کی بنیاد علاقے سے ہٹا کر آبادی پر کردی جائے گی،پسماندہ علاقوں کی نمائندگی کم ہو جائے گی۔

اسلام آباد شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments