گردشی قرضوں میں اضافے کی وجہ سابقہ حکومت کے بجلی کے مہنگے معاہدے ہیں، حماد اظہر

حکومت جس قیمت پر بجلی خرید کر صارفین کو مہیا کررہی ہے اس میں ڈیڑھ سے دو روپے کا فرق آرہا ہے،انڈسٹریل پیکج پر بھی اس اضافے کا اطلاق نہیں ہوگا، ٹیرف میں اضافہ یکم نومبر سے ہوگا، درآمد شدہ گیس کے بل کے لیے قیمتوں کا نیا طریقہ کار ہوگا،گیس کا بحران نہیں ہوگا،وزیر توانائی

جمعہ 15 اکتوبر 2021 22:58

گردشی قرضوں میں اضافے کی وجہ سابقہ حکومت کے بجلی کے مہنگے معاہدے ہیں، حماد اظہر
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 15 اکتوبر2021ء) وفاقی وزیر توانائی حماد اظہر نے کہا ہے کہ گردشی قرضوں میں اضافے کی وجہ سابقہ حکومت کے بجلی کے مہنگے معاہدے ہیں،حکومت جس قیمت پر بجلی خرید کر صارفین کو مہیا کررہی ہے اس میں ڈیڑھ سے دو روپے کا فرق آرہا ہے، جب اس فرق کو سالانہ استعمال ہونے والے اربوں یونٹس کے تناظر میں دیکھا جائے تو غیرمعمولی رقم بنتی ہے اور یہ ہی گردشی قرضوں میں اضافے کی بنیادی وجہ ہے،انڈسٹریل پیکج پر بھی اس اضافے کا اطلاق نہیں ہوگا، ٹیرف میں اضافہ یکم نومبر سے ہوگا،درآمد شدہ گیس کے بل کے لیے قیمتوں کا نیا طریقہ کار ہوگا۔

جمعہ کو وزیر مملکت فرخ حبیب کے ہمراہ پریس کانفرنس کے دوران وفاقی وزیر حماد اظہر نے مہنگی بجلی کی ذمہ داری سابقہ حکومت پر ڈالتے ہوئے کہا کہ مسلم لیگ (ن) نے مہنگے داموں معاہدے کیے جس کے سنگین نتائج کا سامنا ہے۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ بجلی کے صنعتی پیکج سے بہت فائدہ ہوا، گزشتہ سال کے برعکس 15 فیصد ، مجموعی طور پر 6 سے 10 فیصد بجلی کی کھپت میں اضافہ ہوا۔

حماد اظہر نے کہا کہ ریکوریز میں بہتری اور لاسز میں کمی آئی ہے، نیپرا نے 15 سے 13فیصد کے ہدف پر نظرثانی کی اور حکومت نے اپنے پرانے جینکوز کو بند کردیا ہے جہاں موجود افسران اور عملے کو محض تنخواہیں دی جارہی تھیں۔وفاقی وزیر توانائی نے کہا کہ مہنگے اور غیر ضروری بجلی کے معاہدوں کے باعث ہمیں بجلی کے ٹیرف میں اضافہ کرنا پڑتا ہے اور آج بھی ایک مرتبہ پھر بجلی مہنگی کرنی پڑ رہی ہے، ری کوریز اور لائن لاسز میں 3 سال سے بہتر آرہی ہے۔

حماد اظہر نے بجلی کی قیمتوں میں اضافے سے متعلق کہا کہ ہم نے نیپرا کو ایک روپے 39 پیسے فی یونٹ اضافے کی سمری ارسال کردی ہے، ایسے صارفین جن کا بجلی کا استعمال 200 یونٹ سے کم ہوگا، اس اضافے کا اطلاق ان پر نہیں ہوگا۔انہوں نے واضح کیا کہ انڈسٹریل پیکج پر بھی اس اضافے کا اطلاق نہیں ہوگا، ٹیرف میں اضافہ یکم نومبر سے ہوگا۔وزیر توانائی حماد اظہر نے اعلان کیا کہ حکومت نے صارفین کو درآمد شدہ گیس کے بل کے لیے قیمتوں کا نیا طریقہ کار متعارف کرانے کا ارادہ کیا ہے اس سلسلے میں انہوں نے کہا کہ جب تک نئے میکانزم کے لیے قانون سازی مکمل نہیں ہو جاتی سوئی گیس کمپنیوں کے تمام جاری اسکیموں اور نئے کنکشنز کو روکنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

حماد اظہر نے کہا کہ ملکی سطح پر گیس کی پیداوار میں 9 فیصد سے بتدریج کمی آرہی ہے اور یہ عمل گزشتہ 15 برس سے جاری ہے۔وفاقی وزیر نے کہا کہ اکثر یہ تجویز پیش کی جاتی ہے کہ حکومت کو زیادہ مائع قدرتی گیس (ایل این جی) خریدنی چاہیے اور اسے گیس پائپ لائنوں میں شامل کرنا چاہیے تاکہ مقامی ذخائر سے گیس فراہم کی جا سکے۔انہوں نے اس تجویز کو مسئلے کے حل کے طور پر مسترد کرتے ہوئے کہا کہ درآمد شدہ گیس کو پائپ لائنوں میں 1200-1300 ملین مکعب فٹ فی دن شامل کرنے کے لیے انفراسٹرکچر درکار ہے۔

گیس کے بحران سے متعلق بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ برطانیہ سے لے کر بھارت تک بجلی کا بحران ہے، کووڈ 19 کے بعد گیس کی لائنز بھی متاثر ہوئی ہیں۔وزیر خزانہ حماد اظہر نے کہا کہ پاکستان میں برطانیہ، یورپ یا روس کی طرح گیس کا بحران نہیں ہے جبکہ برطانیہ میں 500 فیصد گیس کی قیمت بڑھی ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان میں 2019 سے گیس کی قیمتوں میں اضافہ نہیں ہوا جبکہ نومبر اور دسمبر کے لیے آر ایل این جی کے 10 کارگوز کے ٹینڈر حاصل کرچکے ہیں، گزشتہ سال 9 کارگوز حاصل کیے تھے۔

وفاقی وزیر خزانہ نے ملک میں گیس کے بحران سے متعلق خبروں کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اگر درآمد شدہ گیس کو اپنی گیس کی لائنز میں شامل کیا تو گزشتہ برس 30 سے 35 ارب روپے نقصان ہوا تھا، اب جبکہ درآمد شدہ گیس کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے تو نقصان اور زیادہ ہوگا۔انہوں نے کہا کہ قیمتوں کے نظام میں تبدیلی کرنے جارہے ہیں جس کے تحت درآمد شدہ گیس اپنی پائپ لائنوں میں ڈال سکیں گے اور سوئی کمپنیوں کو 40 ارب روپے کا نقصان نہیں ہوگا۔

انہوںنے کہاکہ ایسا نہیں ہوگا کہ سابقہ حکومتوں کی طرح کہ سپلائی بڑھائے بغیر طلب کی ضرورت کو نظر انداز کرتے رہیں اور سیاسی بنیادوں پر پائپ لائنز ڈالتے جائیں۔حماد اظہر نے کہا کہ انہیں معلوم تھا کہ گیس نہیں ہے اور پائپ لائنز ڈال دی اور اب ہمیں کہتے ہیں کہ گیس دو، انہوں نے عوام کو دھوکا دینے کے لیے ایسا کیا۔

اسلام آباد شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments