پاکستان پرامن اور مستحکم افغانستان کا خواہاں ہے،اسد قیصر

سوات کے عوام نے دہشتگردی کے خلاف جنگ میں بھاری قیمت ادا کی ہے،*سابق فاٹا کے عوام سے کیے گئے وعدوں پر عملدرآمد کو یقینی بنانے کے لیے خصوصی اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں،ملک کو تعمیر وترقی کی راہ پر گامزن کرنے کے لیے ینگ پارلیمنٹرین کا کردار کلیدی اہمیت کا حامل ہے،اسپیکر قومی اسمبلی

ہفتہ 16 اکتوبر 2021 23:19

پاکستان پرامن اور مستحکم افغانستان کا خواہاں ہے،اسد قیصر
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 16 اکتوبر2021ء) اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے کہا ہے کہ پاکستان ایک پرامن اور مستحکم افغانستان کا خواہاں ہے، خطے کی سلامتی اور خوشحالی کے لیے افغانستان میں میں پائیدار امن کا قیام ناگزیر ہے، افغانستان میں امن کے قیام سے خطے میں روابط کو فروغ حاصل ہو گا، جس سے معاشی سرگرمیوں میں اضافہ ہو گا،خطے میں قیام امن کے لیے مصالحانہ کوششیں جاری رکھیں گے۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے ہفتہ کے روز مالم جبہ سوات میں ینگ پارلیمنٹرین کے اعزاز میں منعقد پیس بلڈنگ تقریب کے افتتاحی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ ہمارا ملک جنگ سے گزرا ہے جس کی وجہ سے قوم کو معاشی مسائل کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ ہماری قوم نے کسی کی جنگ میں 70 ہزار جانوں کی قربانی دی ہیں۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ پاکستان اس خطے میں امن چاہتا ہے، امن کا قیام خطے کی ترقی اور خوشحالی کے لیے ناگزیر ہے۔

انہوں نے کہا کہ خطے میں امن کے قیام سے خوشحالی آئے گی، امن کے قیام کے لیے قوم نے بھاری قیمت ادا کی ہے جسے تاریخ میں ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔اسپیکر اسد قیصر نے کہا کہ سوات میں امن کے قیام کے لیے سوات کے عوام نے دہشتگردی کے خلاف جنگ میں ناقابل فراموش قربانیاں دی ہیں جنہیں کبھی فراموش نہیں کیا جا سکتا۔انہوں نے کہا کہ سابق فاٹا کے انضمام کے وقت سابق فاٹا کے عوام سے کیے گئے وعدوں کو پورا کیا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ اس سلسلے میں قومی اسمبلی کی خصوصی کمیٹی برائے سابق فاٹا کی ترقی روزنہ کی بنیاد پر کام کر رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ سابق فاٹا کے کے پی کے ضم شدہ اضلاع میں عوام کو تعلیم، صحت، تعمیری ڈھانچے سمیت دیگر بنیادی سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے پارلیمنٹ اپنا بھرپور کردار ادا کر رہا ہے اور بہت جلد فاٹا میں ترقی اور خوشحالی کے نئے دور کا آغاز ہو گا۔

انہوں نے کہا کہ نوجوان ملک کا قیمتی اثاثہ ہیں نوجوان پارلیمنٹرین کی صلاحیتوں کو بروئے کار لانا ملکی ترقی اور خوشحالی کے لیے ضروری ہے۔انہوں نے کہا کہ نوجوان پارلیمنٹرین کا کردار قابل ستائش ہے نوجوانوں کو ہر شعبے میں آگے بڑھنے کے لیے حوصلہ افزائی کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہا کہ ہمیں بحیثیت پارلیمنٹرین رولز اور آئین سے آگاہی ہونی چاہیے۔

انہوں نے ملک کو درپیش چیلنجر سے نکالنے کے لیے قومی اور پارلیمانی سطح پر مشترکہ کوششوں کو اپنانے کی ضرورت پر زور دیا۔انہوں نے کہا ملک کو درپیش چیلنجز کو دیکھتے ہوئے ہمیں اپنی پارٹی کے اندر بھی جدوجہد کرنی ہو گی۔انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی حالات بدل رہے ہیں جس کے پاکستان پر اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ہمیں دنیا کے ساتھ مل کر چلنا ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ گلوبل سیاست پر سمینار منعقد ہونے چاہیے تک کے سیاستدانوں سمیت عوام اور بلخصوص نوجوانوں کو آگاہی حاصل ہو سکے۔اسپیکر اسد قیصر نے مسلسل جدو جہد اور مصمم ارادے سے کام کرنے والے نوجوانوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے کہا کہ انسان پختہ ارادہ کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ کی مدد بھی شامل حال ہو جاتی ہے۔انہوں نے کہ اچھی امید رکھنی چاہیے مثبت سوچ سے ہی انسان دنیا کا کامیاب انسان کہلاتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ مسلسل محنت اور لگن سے کام کریں کامیابی آپ کے قدم چومے گی اور معاشرہ بھی آپ کی قدر کرے گا۔انہوں نے کہا کہ میں اپنی جماعت کا نو سال صوبائی صدر رہا ہوں اور وزیراعظم عمران خان نے مجھے صدر مملکت بننے کا کہا تھا۔انہوں نے مزید کہا کہ معاشرے میں بسنے والا ہر انسان بہت اہم ہے اور وہ بہت کچھ کر سکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ عوام کے فلاح و بہبود کے لیے کام کرنے میں انسان کی سوچ اور نیت بنیادی اہمیت کی حامل ہے، انسان جتنی بڑی سوچ کے ساتھ آگے بڑھتا ہے اللہ تعالیٰ اس انسان سے اتنا ہی بڑا کام لیتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ملک میں بہت سارے وزراء اعظم آئے اور چلے گے، لیکن تاریخ ان لوگوں کو یاد رکھتی ہے جو انسانیت کی فلاح و بہبود، قوم اور ملک کے لیے کچھ کرنے کا ادارہ رکھتے ہوں۔انہوں نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان ملک کو اسلامی فلاحی ریاست اور قوم کو عظیم قوم بنانے کے لیے پر عزم ہیں۔انہوں نے کہا کہ قوم کو مشکلات حالات سے نکالنے کے لیے رکاوٹیں اور مسائل برداشت کرنے پڑتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ہمیں اپنے سامنے ایک مشن اور مقصد رکھنا ہے جس پر چل کر ہم اپنی منزل تک پہنچ سکیں۔

اسلام آباد شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments