آئی ایم ایف سے مذاکرات ناکام ‘ حکومت سے قیمتوں میں اضافہ واپس لینے کا مطالبہ

آئی ایم ایف کی اندھی تابعداری کر کے عوام کو مہنگائی سے لہولہان کردیا گیا ، حکومت نے عوام کو دھوکہ دیا اور آئی ایم ایف کو بھی چکر دیا۔ قائد حزب اختلاف شہباز شریف کا بیان

Sajid Ali ساجد علی اتوار 17 اکتوبر 2021 15:05

آئی ایم ایف سے مذاکرات ناکام ‘ حکومت سے قیمتوں میں اضافہ واپس لینے کا مطالبہ
اسلام آباد ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین ۔ 17 اکتوبر 2021ء ) اپوزیشن لیڈر قومی اسمبلی شہباز شریف نے کہا ہے کہ بجلی ، گیس ، پیٹرول مہنگا اور آئی ایم ایف سے مذاکرات کیوں ناکام ہوئے؟ قوم کو بتایا جائے اور آئی ایم ایف سے مذاکرات کی ناکامی کے بعد حکومت قیمتوں میں اضافہ واپس لے۔ تفصیلات کے مطابق پاکستان مسلم لیگ ن کے صدر شہبازشریف نے اپنے ایک بیان میں حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ آئی ایم ایف کی اندھی تابعداری کر کے عوام کو مہنگائی سے لہولہان کردیا گیا ، آئی ایم ایف کی تمام شرائط پہلے مان لیں پھر بھی مذاکرات ناکام ہوگئے ، یہ ہے حکومت کی حکمت عملی؟ حکومت نے عوام کو دھوکہ دیا اور آئی ایم ایف کو بھی چکر دیا۔

شہباز شریف نے کہا کہ 3 سال سے عوام کا معاشی قتل جاری ہے ، بجلی گیس پیٹرول کی قیمت میں اضافہ کے بعد بھی آئی ایم ایف سے مذاکرات کیوں ناکام ہوئے؟ قوم کو بتایا جائے ، عمران نیازی آئی ایم ایف نہیں جاؤں گا خود کشی کر لوں گا کے نعرہ لگاتے تھے ، ن لیگ نے آئی ایم ایف کا پروگرام مکمل کیا تو عمران نیازی نے اس پر تنقید کی ، وزیر خزانہ کو سینیٹر بنوانے میں عمران نیازی نے دلچسپی لی ، شوکت ترین نے بھی اتنی ہی دلچسپی سے مذاکرات کیے۔

(جاری ہے)

خیال رہے کہ اضافی ٹیکس کے ہدف اور پاورسیکٹر کے مالی مسائل کے باعث حکومت پاکستان اور آئی ایم ایف کا ڈیڈلاک برقرار ہے جس کی وجہ سے پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان تاحال سمجھوتہ نہیں ہوسکا ، نمائندوں کے درمیان گفتگو جاری رکھی جائے گی ، ای ایف ایف پروگرام کے تحت 1 ارب ڈالر منظوری کی راہ ہموار کرنے کے لیے سیکرٹری خزانہ آئندہ چند روز تک واشنگٹن ڈی سی میں قیام کریں گے۔

میڈیا رپورٹ کے مطابق پاکستان کی جانب سے آئی ایم ایف کی سخت شرائط ماننے کے باوجود آئی ایم ایف اسٹاف اب بھی میکرو اکنامک فریم ورک سے مطمئن نہیں ہے ، جس کے باعث آئی ایم ایف اور پاکستان کے درمیان اقتصادی اور مالیاتی پالیسیوں کی یادداشت (ایم ای ایف پی) پر مفاہمت نہیں ہوسکی اور ابھی تک 6 ارب ڈالرز کی توسیعی فنڈ سہولت (ای ایف ایف) کے تحت اسٹاف لیول معاہدہ نہیں ہوسکا۔

اسلام آباد شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments