شوکت ترین آئی ایم ایف کے ساتھ مذاکرات کی کامیابی کے لیے پُر امید

آئی ایم ایف سے بہترین مذاکرات ہوئے۔ مشیر خزانہ و ریونیو شوکت ترین

Sumaira Faqir Hussain سمیرا فقیرحسین پیر 18 اکتوبر 2021 12:27

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔ 18 اکتوبر 2021ء) : عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) سے مذاکرات کے لیے شوکت ترین کافی پُر اُمید ہیں۔ تفصیلات کے مطابق مشیر خزانہ و ریونیو شوکت ترین نے کہا کہ آئی ایم ایف سے مذاکرات کی ناکامی کا تاثر غلط ہے۔ پاکستان میں تاثر دیا جارہا ہے کہ مذاکرات ناکام ہوگئے ہیں، بینکر ہمیشہ ہی ڈومور کا مطالبہ کرتا ہے اور ہم نے اپنی ڈیڈ لائن عبور نہیں کی۔

شوکت ترین نے کہا کہ آئی ایم ایف سے بہترین مذاکرات ہوئے ہیں۔ آئی ایم ایف سے مذاکرات کے جلد نتائج سامنے آئیں گے، مگر کوئی ٹائم فریم نہیں دے سکتے۔ شوکت ترین کا کہنا ہے کہ ایم ڈی آئی ایم ایف سے ملاقات کافی مفید رہی ہے، ماضی میں ہماری برآمدات اچھی نہیں تھیں، کیونکہ جب تک مہنگائی پر قابو نہیں پایا جاتا، برآمدات میں اضافہ نہیں ہوسکتا۔

(جاری ہے)

انہوں نے مزید کہا کہ قوم کو نا امید نہیں ہونا چاہئیے، زراعت کے شعبے میں انقلابی اقدامات اٹھائے جارہے ہیں۔ پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان مذاکرات مثبت سمت میں آگے بڑھ رہے ہیں، آئی ایم ایف کے ساتھ وفود کی سطح پر تکنیکی بات چیت جاری ہے۔ خیال رہے کہ اب سے کچھ دیر قبل شوکت ترین کو مشیر خزانہ و ریونیو بنانے کا نوٹی فکیشن بھی جاری کیا گیا ہے۔

وفاقی حکومت نے سابق وزیرخزانہ شوکت ترین کو مشیر خزانہ اورریونیو مقرر کر دیا ۔ ان کی تقرری کے سلسلے میں جاری نوٹیفکیشن کے مطابق شوکت ترین اب وزیراعظم کے مشیر برائے فنانس اینڈ ریونیو ہوں گے۔ یاد رہے کہ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت نے اپریل 2021 ء میں شوکت ترین کو وفاقی وزیرخزانہ بنایا تھا۔ آئین کے تحت وزیراعظم کسی بھی غیر منتخب شخص کو 6 ماہ کے لئے وفاقی وزیر بنا سکتے ہیں۔

یہ خبریں بھی سامنے آئی تھیں کہ وزیراعظم عمران خان نے وفاقی وزیر خزانہ شوکت ترین کو سینیٹر بنانے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ ذرائع نے بتایا کہ شوکت ترین کو خیبرپختونخواہ سے سینیٹ کی نشست پر منتخب کروایا جائے گا تاہم شوکت ترین کو سینیٹر منتخب کروانے کے لیے خیبرپختونخواہ سے کون سا سینیٹر استعفی دے گا اس حوالے سے تاحال کوئی فیصلہ نہیں ہوا۔ سیینٹر منتخب ہونے کے بعد شوکت ترین کو وفاقی وزیر بنایا جائے گا۔

اسلام آباد شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments