نور مقدم قتل کیس; سپریم کورٹ نے ظاہر جعفر کی والدہ کی ضمانت منظور کر لی ، 10 لاکھ روپے کے ضمانتی مچلکے جمع کروانے کا حکم

بظاہر ماں کے جُرم میں شامل ہونے کے شواہد نہیں ہیں، وقوعہ کے وقت عصمت آدم جی اسلام آباد میں موجود نہیں تھیں۔ سپریم کورٹ

Sumaira Faqir Hussain سمیرا فقیرحسین پیر 18 اکتوبر 2021 12:56

نور مقدم قتل کیس; سپریم کورٹ نے  ظاہر جعفر کی والدہ کی ضمانت منظور کر لی ، 10 لاکھ روپے کے ضمانتی مچلکے جمع کروانے کا حکم
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔ 18 اکتوبر 2021ء) : نور مقدم قتل کیس میں سپریم کورٹ نے ظاہر جعفر کی والدہ کی ضمانت منظور کر لی۔ تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ آف پاکستان میں نور مقدم قتل کیس کے مرکزی ملزم ظاہر جعفر کے والدین کی درخواست ضمانت پر سماعت ہوئی۔ درخواستگزاروں کے وکیل خواجہ حارث نے آج کی سماعت میں اپنے دلائل پیش کیے۔ انہوں نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ ذاکر جعفر اور عصمت آدم جی مقدمے میں نامزد نہیں تھے۔

مرکزی ملزم ظاہر جعفر کے پولیس کو بیان کے بعد والدین کو نامزد کیا۔ انہوں نے کہا کہ کال ریکارڈز کے مطابق عصمت جعفر نے مرکزی ملزم سے کوئی رابطہ نہیں کیا۔ جس پر جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ آپ ملزم اور اس کے والدین کے کال ریکارڈ اور رابطے پر دلائل دیں۔

(جاری ہے)

وقوعہ کے روز درخواستگزاروں کی جانب سے ملزم کو کئی کالز کی گئیں۔ اس موقع پر ضمانت کا فیصلہ کرنے سے مرکزی کیس متاثر ہو سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ عصمت جعفر کےا س واقعہ میں کردار سے متعلق دلائل دیں۔ جسٹس منصور علی شاہ نے استفسار کیا کہ قتل کا وقت کیا تھا ؟ جس پر خواجہ حارث نے کہا کہ استغاثہ کے مطابق شام 6:35 سے 7:30 کے درمیان قتل ہوا۔ ایف آئی آر میں قتل کا درج وقت رات دس بجے ہے۔ جس پر جسٹس قاضی امین نے کہا کہ اس موقع پر ضمانت دے کر استغاثہ کا پورا کیس فارغ نہیں کیا جا سکتا۔

درخواستگزار کے وکیل خواجہ حارث نے کہا کہ ملزمان پر صرف قتل چُھپانے کا الزام ہے۔ جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ ظاہر جعفر کی دماغی حالت کو ٹیسٹ کیا گیا ہے ؟ جس پر خواجہ حارث نے بتایا کجہ ملزم کی ذہنی حالت سے متعلق کوئی ٹیسٹ نہیں کیا۔ جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ کیس میں منشیات کا بھی ذکر ہے، کیا ملزم منشیات پر تھا؟ مدعی کے وکیل شاہ خاور نے کہا کہ ملزم کا صرف منشیات کا ٹیسٹ کروایا گیا ہے۔

ذہنی کیفیت جانچنے کے لیے کوئی معائنہ نہیں کیا گیا۔ جس پر جسٹس قاضی محمد امین نے کہا کہ ملزم انکار کرے تو ذہنی کیفیت نہیں دیکھی جاتی۔ ذہنی کیفیت کا سوال صرف اقرار جُرم کی صورت میں اُٹھتا ہے۔ سماعت کے دوران جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ ممکن ہے فون پر والد قتل کا کہہ رہا ہو، یہ بھی ممکن ہے کہ روک رہا ہو۔ جس پر وکیل خواجہ حارث نے کہا کہ ممکن تو یہ بھی ہے کہ بیٹا باپ کو سچ بتا ہی نہ رہا ہو۔

جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ ٹرائل کی کیا صورتحال ہے؟ جس پر ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد نے جواب دیا کہ فرد جُرم عائد ہو چکی ہے، 8 ہفتوں میں ٹرائل مکمل کرنے کی ہدایت بھی کی ہے۔ جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ بظاہر ماں کے جُرم میں شامل ہونے کے شواہد نہیں ہیں۔ وکیل خواجہ حارث نے کہا کہ ماں نے دو ٹیلی فون کالز گارڈ کو کی تھیں۔ جس پر جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ یہ ایک سفاک قتل ہے، جس کو چُھپانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

اتنے سفاک قتل میں تمام پہلوؤں کو دیکھتے ہوئے ضمانت کس بنیاد پر ہو؟ وکیل خواجہ حارث نے کہا کہ کال ریکارڈز کی قانوناً کوئی اہمیت نہیں ہوتی۔ جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ اگر کال ریکارڈز بھول بھی جائیں تو ذاکر جعفر نے قتل کی اطلاع پولیس کو کیوں نہیں دی ؟ جسٹس قاضی محمد امین نے کہا کہ وقوعہ کے بعد بھی ملزمان کا رویہ دیکھا جاتا ہے۔ ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد نے کہا کہ والدہ کی بھی 11 کالز کا ریکارڈ موجود ہے۔

جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ جائزہ لیں گے کہ پولیس کو بلانے کی بجائے تھیراپی ورکس کو کیوں کہا گیا ؟جس کے بعد سپریم کورٹ نے ظاہر جعفر کے والدین کی درخواست ضمانت کی سماعت میں وقفہ کر دیا تھا تاہم وقفے کے بعد سپریم کورٹ نے نور مقدم قتل کیس کے مرکزی ملزم ظاہر جعفر کی والدہ عصمت جعفر کی ضمانت منظور کر لی۔ سپریم کورٹ نے عصمت آدم جی کو 10 لاکھ روپے کے ضمانتی مچلکے بھی جمع کروانے کا حکم دیا۔

سپریم کورٹ کا کہنا ہے کہ وقوعہ کے وقت عصمت آدم جی اسلام آباد میں موجود نہیں تھیں۔ سپریم کورٹ نے ظاہر جعفر کے والد ذاکر جعفر کی ضمانت کی درخواست مسترد کر دی۔ اس حوالے سے جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ والد کو ضمانت نہیں دی جا سکتی، ممکن ہے وہ گواہوں پر اثر انداز ہوں۔ دوران سماعت وکیل خواجہ حارث نے عدالت سے استدعا کی کہ کیس کا دو ماہ میں ٹرائل مکمل کرنے کی ہدایت کو مسترد کیا جائے۔

سپریم کورٹ نے اسلام آباد ہائیکورٹ کا دو ماہ میں ٹرائل مکمل کرنے کا فیصلہ برقرار رکھا اور خواجہ حارث کی استدعا مسترد کر دی ۔ سپریم کورٹ نے ہدایت کی کہ نور مقدم قتل کیس کے ملزمان کو شفاف ٹرائل کا حق دیا جائے۔ جسٹس قاضی امین نے کہا کہ فوجداری مقدمات میں روایات کی کوئی عملداری نہیں ہوتی۔ ہر فوجداری مقدمے کی نوعیت مختلف ہوتی ہے۔ جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ موجودہ کیس کے معاشرتی اثرات ہیں، روزانہ کی بنیاد پر ٹرائل کر کے مکمل کریں۔ سپریم کورٹ نے والدہ کو ضابطہ فوجداری کی شق 497 کی ذیلی شق ایک کے تحت ضمانت دی۔ شق 497 کی ذیلی شق ایک کے تحت 16 سال سے کم عمر ملزم خاتون یا بیمار ملزم کو ضمانت دی جا سکتی ہے۔

اسلام آباد شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments