شوکت ترین کو بطور ممبر قومی اقتصادی کونسل برقرار رکھنےکی سمری منظور

شوکت ترین بطور وزیرخزانہ مدت پوری ہونے کے بعد ممبر این ای سی بھی نہیں رہے تھے،اب بطور مشیر خزانہ رکن رہیں گے

sanaullah nagra ثنااللہ ناگرہ جمعرات 21 اکتوبر 2021 19:24

شوکت ترین کو بطور ممبر قومی اقتصادی کونسل برقرار رکھنےکی سمری منظور
اسلام آباد (اُردوپوائنٹ اخبار تازہ ترین۔ 21 اکتوبر2021ء) صدرمملکت نے شوکت ترین کو بطور ممبر قومی اقتصادی کونسل برقرار رکھنے کی سمری منظورکرلی ہے، شوکت ترین بطور وزیرخزانہ مدت پوری ہونے کے بعد ممبر این ای سی بھی نہیں رہے تھے،اب بطور مشیر خزانہ رکن رہیں گے۔ تفصیلات کے مطابق صدرمملکت عارف علوی نے آئین کے آرٹیکل 156 کے تحت وزیراعظم کی ایڈوائس پر شوکت ترین کو ممبر این ای سی مقرر کرنے کی سمری منظور کرلی ہے۔

شوکت ترین اب وزیر خزانہ کی بجائے بطور مشیرخزانہ قومی اقتصادی کونسل کے رکن رہیں گے۔ یاد رہے شوکت ترین کی بطور وزیرخزانہ 16 اکتوبر کو چھ ماہ کی مدت پوری ہوئی، جس کے بعد وزیراعظم عمران خان نے ان کی بطور مشیر خزانہ تقرری کا نوٹیفکیشن جاری کردیا ہے۔ دوسری جانب تحریک انصاف کے سینیٹر ایوب آفرید ی نے سینیٹ کی نشست سے استعفیٰ دے دیا ہے۔

(جاری ہے)

ذرائع کے مطابق سینیٹ کی نشست سے مستعفی ہونیوالے سنیٹر ایوب آفریدی کی جگہ خیبر پختونخوا سیشوکت ترین کو سینیٹر بنوایا جائے گا۔ سینیٹرشپ سے استعفیٰ دینے والے ایوب آفریدی کو وزیراعظم کا مشیر برائے سیفران بنایا جائے گا۔ دوسری جانب عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی ترجمان زاہد خان نے مشیرخزانہ شوکت ترین کو خیبرپختونخوا کے سینیٹر بنانے کے فیصلے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ حکومت پختونخوا کے مینڈیٹ اور عوام کا مذاق اڑارہی ہے، کراچی سے تعلق رکھنے والے شخص کو اپنے مفادات کیلئے پختونخوا کو استعمال کرکے سینیٹر بنایا جارہا ہے۔

یہ وہی شخص ہے جس نے معیشت کا بیڑا غرق کردیا ہے لیکن عمران خان ان کا کچھ نہیں کرسکتے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہی عمران خان بین الاقوامی میڈیا میں پشتونوں کو دہشتگرد ثابت کررہے ہیں اور ضرورت آنے پر استعمال بھی کرتے ہیں۔پختونخوا کے پارلیمانی اراکین کو اس فیصلے سے انکار کرنا چاہئیے، کیا پنجاب میں پی ٹی آئی کی حکومت نہیں مرکزی حکومت ایک طرف پختونوں پر دہشتگردی کا لیبل لگارہی ہے تو دوسری جانب حقوق بھی نہیں دے رہی۔

اے این پی کے مرکزی ترجمان کا مزید کہنا تھا کہ پختونخوا کے حقوق پر ڈاکہ ڈالنے والی مرکزی حکومت پختونخوا کے عوام اور نمائندوں کی توہین کررہی ہے۔ پختونخوا میں بیٹھے حکمرانوں نے صوبائی حقوق پر چپ کا روزہ رکھا ہوا ہے جبکہ مرکز حقوق غصب کررہا ہے۔ عوامی نیشنل پارٹی مرکزی حکومت کے اس رویے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتی ہے۔

اسلام آباد شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments