ایل این جی ریفرنس : شاہد خاقان کے علاوہ تمام شریک ملزمان نے ترمیمی آرڈیننس کا سہارا لے لیا

منگل 26 اکتوبر 2021 22:21

ایل این جی ریفرنس : شاہد خاقان کے علاوہ تمام شریک ملزمان نے ترمیمی آرڈیننس کا سہارا لے لیا
اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - آن لائن۔ 26 اکتوبر2021ء) احتساب عدالت اعظم خان کی عدالت میں ایل این جی ریفرنس میں سابق وزیراعظم شاہد خاقان کے علاوہ تمام شریک ملزمان نے ترمیمی آرڈیننس کا سہارا لے لیا ۔احتساب عدالت کے جج اعظم خان نے شاید خاقان عباسی کے وکیل بیرسٹر ظفراللہ کو روسٹرم پر بلا کر پوچھا کہ آپ بھی ترمیمی آرڈیننس کا سہارا لینا چاہتے ہیں جس پر انھوں نے عدالت کو بتایا کہ مجھے اس بارے میں بتایا نہیں گیا عبداللہ خاقان کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ عبداللہ خاقان کے اکاونٹ میں گئی رقم کو ایم ڈی ائیر بلیو چوہدری اسلم کے وکیل نے مالی مدد قرار دیا،شاہد خاقان جب وزیر بنے تو ائیر بلیو سے مستعفی ہوئے، اخراجات پورے کرنا مشکل تھاچوہدری اسلم اس مشکل وقت میں شاہدخاقان کیساتھ کھڑے ہوئے یہی ان کا قصور ہے جو رقم مالی مدد کیلئے دی بعد میں واپس لے لی نیب اسے منی لانڈرنگ کہتا ہے شاہد خاقان کے بیٹے سمیت تمام ملزمان کے وکلا کی کیس ٹرانسفر کرنے کی استدعا کی ،چوہدری اسلم، عبداللہ خاقان، عظمی عادل، عامر نسیم کے وکلا کے دلائل مکمل ہوگئے۔

(جاری ہے)

اس موقع پر عظمیٰ عادل کے وکیل بیرسٹر شعیب نے عدالتی کارروئی پر اعتراض اٹھا دیاعظمیٰ عادل کو جن فیصلوں پر چارج کیا گیا ان پر اب نیب کا اختیار نہیں ہمیں پہلے طے کرنا ہو گا ترمیمی آرڈیننس کے بعد اس کیس کی حیثیت کیا ہے ،اس کیس میں فرد جرم نیب آرڈیننس 1999 کے مطابق عائد ہوئی اب اٴْس آرڈیننس کی سیکشن چار کو تبدیل کیا جا چکاآرڈیننس نے صاف کہہ دیا یہ کیسز اب ٹرانسفر ہو جائیں گیاس وقت اگر یہاں کوئی بھی کارروائی جاری رہتی ہے تو وہ خلاف قانون ہے اس موقع پر جج اعظم خان نے استفسار کیا کہ آپ عظمی عادل کی حد تک بتائیں یہ آرڈیننس انہیں کیسے فائدہ دے گاجس پر وکیل صفائی نے عدالت کو بتایا کہ عظمیٰ عادل پر کوئی مالی فائدہ حاصل کرنے کا الزام نہیں عظمیٰ عادل نے اگر کوئی دستخط کیا بھی تو ابھی نیت سے کیاترمیمی آرڈیننس اچھی نیت سے کیے گئے فیصلوں پر استشنیٰ دیتا ہے عدالت نے استفسار کیا کہ نیب ان اعتراضات پر کیا کہتاہی جس پر نیب پراسیکیوٹر نے عدالت کو بتایا کہ سب ملزمان کے وکلا کو سن لیں پھر میں جواب دوں گا سابق ممبر اوگرا عامر نسیم کے وکیل عمران شفیق ایڈوکیٹ نے بھی اعتراض کیا انھوں نے عدالت کو بتایا کہ عامر نسیم کی حد تک بھی اب یہ ٹرائل نہیں چل سکتا نیب کے پاس اب مالی فوائد کے ثبوت ہونا لازم ہیعامر نسیم کیخلاف مالی فوائد لینے کے کوئی شواہد موجود نہیں بیوروکریٹ کے محض کسی فیصلے پر کیس نہیں بن سکتا فیصلہ ٹھیک نکلا یا نہیں اس کو جرم کیسے بنایا جا سکتا ہے فیصلے عدالتوں کے بھی اوپر جا کر کئی بار غلط قرار دیئے جاتے ہیں اس کیس میں مرکزی ملزم شاہد خاقان عباسی ہیں اب تو شاہد خاقان پر ہی یہ کیس نہیں بنتاباقی ملزمان تو ساتھ ٹانگے کی سواریاں ہیں جنہیں ساتھ بٹھا دیا گیامرکزی ملزم پر ہی جب نیب کا اختیار باقی نہیں تو شریک ملزمان یوں ہی بری ہوتے ہیں ہم یہ بھی سمجھتے ہیں کہ یہ آرڈیننس ایک شخص کو فائدہ دینے کیلئے تھاایک شخص کو ایکسٹینشن دی گئی لیکن ساتھ اختیار کے غلط استعمال کی بات بھی ہیآرڈیننس اچھی نیت سے آیا ہے ملزمان کے اعتراضات کے جواب میں نیب پراسیکیوٹر عثمان مرزا نے اپنے دلائل میں عدالت کو بتایا کہ پرانے کیسز پر آرڈیننس کا اطلاق ہوا تو تمام سزائیں متنازعہ ہو جائیں گی ایسا ہوا مضاربہ اسکینڈل میں ہوئی ریکوری بھی متنازعہ ہو جائے گی ہم جو لوٹی گئی رقوم برآمد کر کے واپس کر چکے عوام کو وہ بھی متنازعہ ہوں گی ایسا ممکن ہی نہیں کہ پہلے سے موجود کیسز پر آرڈیننس کا اطلاق ہوآرڈیننس کا اطلاق پہلے سے موجود کیسز پر ہوتا تو الگ لکھا جاتا 1999 کے آرڈیننس میں الگ سے لکھا گیا تھا کہ 1985سے اطلاق ہوگاموجود آرڈیننس میں ایسا الگ سے کچھ بھی نہیں لکھا گیا اس موقع پر سینئر وکیل شاہ خاور نے نیب پراسیکیوٹر کے دلائل پر اعتراض عائد کرتے ہوئے عدالت کو بتایا کہ نیب اس معاملے میں اسٹیک ہولڈر ہے اس کی رائے نہ لی جائے ،اس معاملے پر اگر تشریح کرنی ہے تو اٹارنی جنرل ہی متعلقہ شخص ہیں عدالت میں ملزمان نے اعتراض اٹھایا میں جواب تو دوں گا اس موقع پر جج اعظم خان نے استفسار کیا کہ کیا آرڈیننس میں لکھا ہے کیسز ٹرانسفر ہوں ،اگر اطلاق پہلے سے نہیں تو یہ کیوں لکھا گیا ہی جس پر نیب پراسیکیوٹر نے عدالت کو بتایا کہ یہ ان کیسز کیلئے لکھا ہے جن پر اس عدالت کا دائرہ اختیار نہیں ہو گاایل این جی کیس کی حد تک اس عدالت کا اختیار بنتا ہے ۔

اسلام آباد شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments