سعودی عرب سے 3 ارب ڈالرکا قرضہ 4 سے 3.8 فیصد شرح سود پر لیاگیا، وزارت خزانہ

رقم واپس لینےکا اختیار ادھار دینے والے ملک کے پاس ہوتا ہے، کسی تنازع کی صورت میں ادھار دینے والے ملک کے قوانین کا اطلاق ہوتا ہے، وزارت خزانہ

Danish Ahmad Ansari دانش احمد انصاری اتوار 28 نومبر 2021 22:42

سعودی عرب سے 3 ارب ڈالرکا قرضہ 4 سے 3.8 فیصد شرح سود پر لیاگیا، وزارت خزانہ
‏اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ،اخبارتازہ ترین ۔ 28 نومبر 2021ء ) سعودی عرب سے 3 ارب ڈالر کا قرضہ 4 سے 3.8 فیصد شرح سود پر لیا گیا، وزارت خزانہ نے سعودی عرب سے قرض پر بیان جاری کر دیا۔ تفصیلات کے مطابق وزارت خزانہ نے سعودی عرب سے قرض پر بیان جاری کیا ہے۔ترجمان وزارت خزانہ کے مطابق کابینہ نے سعودی عرب سے 4.2 ارب ڈالرز قرض کی منظوری دی جبکہ سعودی عرب سے 3 ارب ڈالر کا قرضہ 4 سے 3.8 فیصد شرح سود پر لیا گیا۔

ترجمان وزارت خزانہ نے بتایا کہ رقم واپس لینےکا اختیار ادھار دینے والے ملک کے پاس ہوتا ہے، کسی تنازع کی صورت میں ادھار دینے والے ملک کے قوانین کا اطلاق ہوتا ہے۔وزارت خزانہ کے مطابق ملکی خودمختاری پر سمجھوتہ نہیں کیا گیا، قرض دینے پر سعودی عرب کے شکرگزار ہیں۔خیال رہے کہ وزیراعظم کے حالیہ دورہ سعودی عرب کے بعد وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات فواد چوہدری نے بتایا تھا کہ سعودی عرب نے پاکستان کو 3 ارب ڈالرز کے سپورٹ فنڈ کا اعلان کیا ہے، یہ رقم سعودی فنڈ برائے ترقی اسٹیٹ بینک آف پاکستان میں جمع کرائے گا۔

(جاری ہے)

فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ اس کے علاوہ سعودی عرب ایک سال کے دوران ریفائنڈ پیٹرولیم مصنوعات کی مد میں 1.2 ارب ڈالرز کی فنانسنگ بھی فراہم کرے گا۔یاد رہے کہ گزشتہ روز وفاقی کابینہ نےسعودی عرب سےادھارپرتیل خریداری کامعاہدہ کرنےکی منظوری دے دی تھی۔معاہدے کے متن کے مطابق سعودی عرب پاکستان کو ماہانہ 100ملین ڈالر کا ادھار تیل دےگا اور پاکستان کو تیل کی ادائیگی کے ساتھ 3.8 فیصد مارجن بھی دینا ہوگا۔

ذرائع کے مطابق معاہدہ ابتدائی طورپر ایک سال کے لیے ہے جسے بعد میں توسیع بھی دی جاسکتی ہے جب کہ وزارت خزانہ، اسٹیٹ بینک اور ایف بی آر نے پاک سعودی معاہدے کے ڈرافٹ پر اتفاق کیا ہے۔ذرائع کا بتانا ہےکہ ادھارپرتیل دینےکا وعدہ وزیراعظم عمران خان کےدورہ سعودی عرب کے دوران ہوا جس میں سعودی ولی عہد نے ایک سال تک پاکستان کو ادھار تیل دینے کا وعدہ کیا تھا۔

اسلام آباد شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments