اگر مریم نواز کی آڈیو میں کوئی غیر قانونی بات ہے تو تحقیقات ہونی چاہئیے

سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے آڈیو اور ویڈیو لیک ہونا ملک کی بدقسمتی قرار دے دیا

Muqadas Farooq مقدس فاروق اعوان منگل 30 نومبر 2021 11:13

 اگر مریم نواز کی آڈیو میں کوئی غیر قانونی بات ہے تو تحقیقات ہونی چاہئیے
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 30 نومبر2021ء) سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے آڈیو اور ویڈیو لیک ہونا ملک کی بدقسمتی قرار دیا۔انہوں نے سماء نیوز کے پروگرام ندیم ملک لائیو میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اگر مریم نواز کی آڈیو میں کوئی غیر قانونی بات ہے تو تحقیقات ہونی چاہئیے۔انہوں نے مزید کہا کہ ہم نے کبھی ووٹ نہیں خریدا، اگر ووٹ خریدنے کی ویڈیو درست ہے تو اس پر بھی کارروائی ہونی چاہئیے۔

مزید کہا کہ ہمارے کابینہ اجلاس چل رہے ہوتے تھے اور باہر خبریں نکل جاتی تھیں جس کی روک تھام کے لیے جیمرزلگانے پڑے تھے۔لیگی رہنما نے مزید کہا کہ پی ڈی ایم کا مقصد ملک کے نظام کو آئین کے مطابق کرنا ہے۔ان کا مزید کہنا تھا کہ پی ڈی ایم کے پلیٹ فارم سے 6 دسمبر تک استعفیٰ دینے یا لانگ مارچ کا فیصلہ کریں گے۔

(جاری ہے)

پیپلز پارٹی کی پی ڈی ایم میں شمولیت کے امکان کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ اگر پی پی اعتماد بحال کرا دے تو اتحاد کا حصہ بن سکتی ہے۔

شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ پیپلز پارٹی کی اتحاد سے علحیدگی کی وجہ استعفی نہیں لیکن اگر پی ڈی ایم فیصلہ کرے گی تو ہم استعفیٰ دینےکے لیے تیار ہیں۔دوسری جانب : حکومت کے خلاف احتجاجی تحریک اور لانگ مارچ کے معاملے پر حکومت مخالف اپوزیشن جماعتوں کا اتحاد پاکستان ڈیموکریٹک الائنس (پی ڈی ایم) ایک مرتبہ پھر سے تذبذب کا شکار ہو گئی ہے۔کہ حکومت مخالف اپوزیشن کا اتحاد یہ تاثر دے رہا ہے کہ سڑکوں پر احتجاج شروع کرنے کے بارے میں کسی حتمی فیصلے پر پہنچنے والا ہے لیکن ہر بار اس کے اجزاء کے درمیان اتفاق رائے کی کمی کی وجہ سے یہ کانپ کر رہ جاتا ہے۔

پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) وفاقی دارالحکومت تک لانگ مارچ لے جاتے ہوئے اپنی احتجاجی تحریک دوبارہ شروع کرنے پر عدم فیصلہ اور تذبذب کا شکار ہے۔ میڈیا رپورٹ میں بتایا گیا کہ پی ڈی ایم کے سربراہ مولانا فضل الرحمان اس بار ای فیصلہ کن حملہ چاہتے ہیں لیکن ان کے دیگر ساتھی ان کے اس خیال سے قطعی متاثر نہیں ہیں جس نے مولانا فضل الرحمان کو مایوس کر دیا ہے۔

اسلام آباد شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments