ہائی کورٹ نے وفاقی حکومت کو متاثرہ فیملی کو مطمئن کرنے اور متاثرہ فیملی کو معاوضہ کی ادائیگی سے متعلق رائے طلب کرلی

بدھ 1 دسمبر 2021 15:16

 ہائی کورٹ نے وفاقی حکومت کو متاثرہ فیملی کو مطمئن کرنے اور متاثرہ فیملی کو معاوضہ کی ادائیگی سے متعلق رائے طلب کرلی
 اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ یکم دسمبر2021ء) اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ کی عدالت نے لاپتہ مدثر نارو کی بازیابی کیس میں وفاقی حکومت کو متاثرہ فیملی کو مطمئن کرنے اور وفاقی وزیر انسانی حقوق شیریں مزاری سے جس دور میں شہری لاپتہ ہوتاہے اس وقت کے چیف ایگزیکٹیوکی جیب سے متاثرہ فیملی کو معاوضہ کی ادائیگی سے متعلق رائے طلب کرلی۔

گذشتہ روز سماعت کے دوران وزیر انسانی حقوق ڈاکٹر شیریں مزاری،سیکرٹری داخلہ یوسف نسیم کھوکھر،لاپتہ مدثر نارو کے والد کی جانب سے عثمان وڑائچ ایڈووکیٹ پیش ہوئے جبکہ ایمان مزاری ایڈووکیٹ بیماری کے باعث پیش نہ ہوئیں اس موقع پر وفاقی کی جانب سے ایڈہشنل اٹارنی جنرل قاسم ودود اور ڈپٹی اٹارنی جنرل سید طیب شاہ بھی کمرہ عدالت میں موجودتھے،چیف جسٹس نے کہاکہ شیریں مزاری صاحبہ ، آپ کو اس لیے زحمت دی کہ ریاست نظر نہیں آ رہی،ملک میں جبری گمشدگیوں کاphenomena ہے،کسی کا لاپتہ ہو جانا انسانیت کے خلاف جرم ہے، وزیراعظم اور کابینہ ارکان لوگوں کی خدمت کے لیے ہیں،لاپتہ شخص کی بازیابی کے لیے ریاست کا رد عمل pathetic ہے، چیف جسٹس نے کہاکہ ریاست ماں کے جیسی ہوتی ہے مگر وہ کہیں نظر نہیں آ رہی،اگر اس عدالت میں کوئی بھی متاثرہ شخص آتا ہے کہ اس کا کوئی عزیز لاپتہ ہو گیا تو یہ ریاست کی ناکامی ہے،شیریں مزاری نے کہاکہ آپ نے پہلے بھی قیدیوں کے ایشو پر بلوایا تھا،جبری گمشدگیوں کا معاملہ ہمارے منشور میں تھا،ہم نے اس حوالے سے قانون سازی کی ہے، سینیٹ میں جلد بھجوایا جائیگا،پرائم منسٹر بننے سے پہلے بھی عمران خان کا اس ایشو پر واضح موقف رہا ہے،چیف جسٹس نے کہاکہ ریاست کی طرف سے کسی کو اغوا کرنا انتہائی سنگین جرم ہے،کسی آفس ہولڈر کا کوئی عزیز غائب ہو جائے تو ریاست کا رد عمل کیا ہو گا؟،پبلک آفس ہولڈر کا کوئی عزیز غائب ہو جائے تو پوری مشینری حرکت میں آ جائیگی، ریاست کا رد عمل عام شہری کے غائب ہونے پر بھی یہی ہونا چاہیے،عدالت کو بتایا گیا ہے کہ لاپتہ شخص کی اہلیہ بھی چل بسی ہے،تمام ایجنسیاں وفاقی حکومت کے کنٹرول میں ہیں،یہ سمریوں یا رپورٹس کی بات نہیں، مسنگ پرسن کے بچے اور والدین کو مطمئن کریں، ریاست کی ذمہ داری ہے کہ بچے کی دیکھ بھال کرے اور متاثرہ فیملی کو سنے،وزیر انسانی حقوق ڈاکٹرشیریں مزاری نے کہاکہ بیان حلفی ابھی تک نہیں ملا، اس کے مطابق اخراجات کی ادائیگی کے لیے پراسیس کریں گے، چیف جسٹس نے کہاکہ وزیراعظم کے پاس لے کر جائیں، کابینہ ارکان سے ملاقات کرائیں،شیریں مزاری نے کہاکہ وزیراعظم ان کو ضرور سنیں گے، پہلے ہم چاہتے ہیں کہ ان کیلئے اخراجات کی ادائیگی کا بھی پراسیس کر لیں،لاپتہ شخص کے کمسن بچے اور دادی کی وزیراعظم سے ملاقات کرائی جائے گی،ہماری حکومت جبری گمشدگی کو سنگین جرم سمجھتی ہے، جمہوریت میں کسی کو لاپتہ کرنے کی اجازت کسی صورت نہیں دی جا سکتی، چیف جسٹس نے کہاکہ آپ کوشش کریں کہ یہ وزیراعظم سے ملاقات کے بعد مطمئن ہو کر واپس آئیں،لاپتہ افراد کی ذمہ داری تو وزیراعظم کو کابینہ ارکان پر آتی ہے،ریاست کی بجائے compensation کی رقم وزیراعظم اور کابینہ ارکان کیوں نہ ادا کریں؟،تاکہ یہ معاملہ ہی ہمیشہ کے لیے ختم ہو سکے،اگر کوئی 2002ء میں لاپتہ ہوا تو اس وقت کے چیف ایگزیکٹو کو ذمہ دار ٹھہرا کر اسے ازالے کی رقم ادا کرنے کا کیوں نہ کہا جائے؟،چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے کہاکہ اگر کوئی ایک لاپتہ ہو جائے تو اس کا پورا خاندان مشکلات کا شکار ہو جاتا ہے۔

(جاری ہے)

شیریں مزاری نے کہاکہ آپ کی بات سے اتفاق ہے کہ تمام شہریوں کے حقوق برابر ہیں، ریاست کا رد عمل ہر مسنگ پرسن کیس میں ایک جیسا ہونا چاہئے سابقہ حکومتوں نے اس حوالے سے کوئی سنجیدہ کوشش نہیں کی، ہم کر رہے ہیں،چیف جسٹس نے کہاکہ ہماری آدھی زندگی نان ڈیموکریٹک حکومتوں میں گزری اور یہ انہی کا کیا کرایا ہے،ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہاکہ ایک ہفتے کا مزید ٹائم دے دیں۔

عدالت نے سیکرٹری داخلہ سے کہاکہ لاپتہ شخص کیس میں عدالتی حکم کے خلاف اپیل دائر کی گئی،عدالت نے مذکورہ بالا اقدامات کے ساتھ سماعت 13دسمبر تک کیلئے ملتوی کردی۔سماعت کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر انسانی حقوق ڈاکٹر شیریں مزاری کا کہنا تھاکہ تحریک انصاف کے منشور میں لاپتہ افراد کی بازیابی کے حوالے سے ذکرہے۔وفاقی وزیر نے کہاکہ لاپتہ افراد کے کیسز روکنے کے لیے قانون بنانے کا عندیہ بھی دے ڈالا۔وفاقی وزیر برائے انسانی حقوق ڈاکٹر شیریں مزاری نے کہا کہ موجودہ حکومت کی کوششوں کے باعث گزشتہ پندرہ بیس سالوں سے لاپتہ افراد بازیاب ہوئے۔

اسلام آباد شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments