منی بجٹ تیار ہوچکا ہے، منی بجٹ میں سیلز ٹیکس چھوٹ کو واپس لیا جائے گا

کھانے پینے کی اشیاء اورادویات پر ٹیکس چھوٹ برقرار رہے گی۔ چئیرمین ایف بی آر

Sumaira Faqir Hussain سمیرا فقیرحسین جمعرات 2 دسمبر 2021 11:23

منی بجٹ تیار ہوچکا ہے، منی بجٹ میں سیلز ٹیکس چھوٹ کو واپس لیا جائے گا
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔ 02 دسمبر 2021ء) : چئیرمین ایف بی آر کا کہنا ہے کہ منی بجٹ تیار ہو چکا ہے۔ تفصیلات کے مطابق چیئرمین فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) ڈاکٹر اشفاق احمد کا کہنا ہے کہ حکومت جب بھی کہے گی ہم منی بجٹ پیش کر دیں گے۔ میڈیا سے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے چئیرمین ایف بی آر اشفاق احمد نے کہا کہ منی بجٹ میں سیلز ٹیکس کی چھوٹ کو واپس لیا جارہا ہے، کھانے پینے کی اشیاء اورادویات پر ٹیکس چھوٹ برقرار رہے گی۔

انہوں نے کہا کہ لگژری اشیاء کی درآمدات پر ٹیکس لگائے جائیں گے۔ چئیرمین ایف بی آر کا کہنا تھا کہ درآمدی گاڑیوں پر اضافی ٹیکس عائد کرنے کی سفارش ہے۔ پیٹرولیم مصنوعات پر سیلز ٹیکس ریفائنری اسٹیج پر لاگو ہوگا۔ انہوں نے مزید کہا کہ البتہ منی بجٹ میں کھانے پینے کی اشیاء اور ادویات پر ٹیکس چھوٹ برقرار رہے گی۔

(جاری ہے)

یاد رہے کہ مشیر خزانہ شوکت ترین نے گذشتہ ماہ منی بجٹ لانے کا اعلان کیا تھا۔

نجی ٹی وی چینل سماء نیوز کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے مشیر خزانہ شوکت ترین نے کہا کہ اگلے ہفتے تک منی بحٹ لائیں گے، چارج سنبھالنے کے بعد کہا تھا کہ پہلے سے ٹیکس دینے والوں پر مزید بوجھ ڈالنے کے بجائے ٹیکس نیٹ کو بڑھانے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے بتایا کہ منی بجٹ میں 350 ارب نیا ٹیکس نہیں ہے بلکہ یہ وہ ٹیکسز ہیں جس پر لوگوں نے کسی نہ کسی طریقے سے استثنیٰ لیا ہوا تھا، آئی ایم ایف نے ہمیں کہا کہ ٹیکس نظام میں مزید اصلاحات کریں۔

آئی ایم ایف سے ہونے والے معاہدے سے متعلق بات کرتے ہوئے مشیر خزانہ شوکت ترین نے بتایا کہ آئی ایم ایف کے ساتھ تازہ معاہدہ پہلے سے مختلف ہے، گذشتہ معاہدہ میں ایسی شرائط پر دستخط کئے گئے تھے جو میرے خیال سے زیادہ سخت تھیں۔ انہوں نے کہا کہ آئی ایم ایف نے 700 ارب روپے ٹیکسیشن کی بات کی تھی میں نے ساڑھے300 ارب پر منوایا۔ آئی ایم ایف نے ہمیں کہا کہ سیلز ٹیکس کے ریٹس کو یونیفارم کرکے 17 فیصد کردیں، ٹیکس نیٹ کو بڑھانے کے لیے اقدامات کررہے ہیں، جس سے ٹیکس کلیکشن میں اضافہ ہوگا۔

اسلام آباد شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments