راولپنڈی رنگ روڈ اسکینڈل کے بعد حسن ابدال ایکسپریس وے کی تعمیر میں چار ارب روپے کی بے ضابطگیوں کا انکشاف

ایکسپریس وے کی تعمیر میں ناقص میٹیریل استعمال کیا گیا۔ آڈٹ رپورٹ میں مزید انکشافات سامنے آ گئے

Sumaira Faqir Hussain سمیرا فقیرحسین جمعرات 2 دسمبر 2021 16:28

راولپنڈی رنگ روڈ اسکینڈل کے بعد حسن ابدال ایکسپریس وے کی تعمیر میں چار ارب روپے کی بے ضابطگیوں کا انکشاف
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔ 02 دسمبر 2021ء) : راولپنڈی رنگ روڈ اسکینڈل کے بعد حویلیاں حسن ابدال ایکسپریس وے کی تعمیر میں چار ارب روپے کی بے ضابطگیوں کا انکشاف ہوا ۔ تفصیلات کے مطابق نجی ٹی وی چینل ایکسپریس نیوز کے مطابق رانا تنویر حسین کی زیر صدارت پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کا اجلاس ہوا۔ اجلاس میں وزارت مواصلات کے آڈٹ اعتراضات پر غور کیا گیا۔

اجلاس میں پیش کی گئی آڈٹ رپورٹ میں انکشاف ہوا کہ حویلیاں حسن ابدال ایکسپریس وے کی تعمیر میں چار ارب روپے کی مالی بے ضابطگیاں کی گئی ہیں۔ میڈیا رپورٹ میں بتایا گیا کہ آڈٹ رپورٹ میں انکشاف ہوا کہ ایکسپریس وے کی تعمیر میں ناقص میٹیریل استعمال کیا گیا۔ اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ ایکسپریس وے کی تعمیر کے بعد 56 ٹیسٹ کیے گئے جن میں سے صرف 29 پاس ہوئے۔

(جاری ہے)

سیکریٹری مواصلات نے کہا کہ نیسپاک اور ایم اینڈ آئی رپورٹ نے ایکسپریس وے کو کلئیر کردیا ۔ رپورٹ کو دیکھتے ہوئے پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے معاملہ دوبارہ محکمانہ اکاؤنٹس کمیٹی میں لے جانے کی ہدایت کی۔ اس کے علاوہ پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے اجلاس میں پشاور کراچی موٹروے کے ملتان سکھر سیکشن کی تعمیر میں بھی 2 ارب روپے کی بے ضابطگیوں کا انکشاف ہوا، آڈٹ رپورٹ میں بتایا گیا کہ ایکنیک نے 240 ارب روپے کا پی سی ون منظور کیا، منصوبہ 294 ارب روپے میں مکمل ہوا۔

یاد رہے کہ راولپنڈی رنگ روڈ انکوائری میں بڑے پیمانے پر بے قاعدگیوں کا انکشاف ہوا تھا۔ ذرائع کے مطابق رنگ روڈ کی نئی الائنمنٹ سے 50 سے زائد طاقتور لوگوں اور رئیل اسٹیٹ ڈیلرز نے ممکنہ فائدہ اٹھایا اور رنگ روڈ سے جڑے کئی کاروباری افراد نے تقریباً 64000 کنال سے زائد زمین حاصل کی۔ ذرائع نے بتایا کہ اینٹی کرپشن حکام کے مطابق کمشنر نے بطور پراجیکٹ ڈائریکٹر اختیارات استعمال کرتے ہوئے رنگ روڈ کی الائنمنٹ تبدیل کی۔ اس عمل سے منصوبے کی لاگت 6 ارب 24کروڑ 70لاکھ روپے سے بڑھ کر 16ارب 30کروڑ روپے ہو گئی، شریک ملزم وسیم علی تابش پر الزام ہےکہ انہوں نے بغیر الائنمنٹ کی منظوری کے اٹک کی زمین کے لیے2 ارب 6کروڑ روپے تقسیم کیے۔

اسلام آباد شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments