سپریم کورٹ نے سندھ ہائیکورٹ کی ماتحت عدالتو ں میں غیر قانونی بھرتیوں کیخلاف دائر درخواست پر سماعت ایک ہفتے کیلئے ملتوی کر دی

جمعرات 2 دسمبر 2021 17:20

سپریم کورٹ نے سندھ ہائیکورٹ کی ماتحت   عدالتو ں میں غیر قانونی بھرتیوں کیخلاف دائر درخواست پر سماعت ایک ہفتے  کیلئے ملتوی کر دی
اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 دسمبر2021ء) سپریم کورٹ نے سندھ ہائیکورٹ کی ماتحت   عدالتو ں میں غیر قانونی بھرتیوں کیخلاف دائر درخواست پر سماعت ایک ہفتے  کیلئے ملتوی کر دی۔ عدالت عظمی نے رجسٹرار سندھ ہائیکورٹ کو سندھ کی تمام ضلعی عدالتوں میں  بھرتیوں کی تفصیلات جمع کرانے کا حکم دیدیا ۔ جمعرات کو جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کیس پر سماعت کی ۔

دوران سماعت رجسٹرار سندھ ہائیکورٹ عبد الرزاق سمو عدالت کے رو برو پیش  ہوئے ۔ سماعت کے آغاز پر جسٹس عمر عطا بندیال نے رجسٹرار سندھ ہائیکورٹ سے استفسار کیا کہ کراچی کی ضلعی عدالتوں  میں دوسرے اضلاع سے بھرتیاں کیوں کرنا پڑیں،کیا کراچی کی  ڈسٹرکٹ جوڈیشری میں ٹائپنگ کے لیے کوئی کراچی میں نہیں تھا ،کیا یہ تاثر درست ہے  کہ سندھ ہائیکورٹ کی ماتحت عدلیہ میں کچھ بھرتیاں رشتہ داریوں کی بنیاد پر ہوئیں۔

(جاری ہے)

جس پر   رجسٹرار سندھ ہائیکورٹ نےموقف اپنایا کہ بھرتیوں پر چیف جسٹس سندھ ہائیکورٹ کا اپروول چاہیے ہوتا ہے۔جسٹس اعجاز الاحسن نے رجسٹرار سندھ ہائیکورٹ کو مخاطب کرتے ہوئے ریمارکس دیے کہ عدلیہ میں بھرتیوں کا طریقہ کار شفاف اور فئیر ہونا چاہیے، چیف جسٹس بھی قانون سے بالاتر نہیں ہوتے، چیف جسٹس کو بھی قوانین کی پیروی کرنا ہوتی ہے،آپ ہمیں بھرتیوں کے طریقہ کار نہیں جو اصل میں کیا وہ بتائیں۔

اس موقع پر  درخوستگزرا وکیل شمس الحق نے  موقف اپنایا کہ سندھ کے بعض اضلاع میں سول ججز کی بھرتیوں کے ٹیسٹ پیپر لیک ہوئے۔   جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیے کہ ججز کی بھرتیوں کا طریقہ کار شفاف ہے ایسی بات نہ  کریں۔ عدالت نے معاملہ پر سماعت ایک ہفتے کے لیے ملتوی کر تے ہوئے  رجسٹرار سندھ ہائیکورٹ کو سندھ کی ضلعی  عدالتوں میں  بھرتیوں کی تفصیلات جمع کرانے کا حکم دیدیا ۔ واضح رہے کہ وکیل شمس الاسلام نے سندھ ہائیکورٹ  کی ماتحت عدلیہ میں بھرتیوں کے طریقہ کار کو سپریم کورٹ میں چیلنج کر رکھا ہے۔

اسلام آباد شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments