سانحہ سیالکوٹ کے بعد حکومت کا نیشنل ایکشن پلان کا جائزہ لینے کا فیصلہ

سیالکوٹ واقعے کا دن پوری قوم کے لیے شرمناک تھا کیونکہ اسلام امن اور برداشت کا مذہب ہے۔ وفاقی وزیر برائے انسانی حقوق

Sumaira Faqir Hussain سمیرا فقیرحسین پیر 6 دسمبر 2021 16:43

سانحہ سیالکوٹ کے بعد حکومت کا نیشنل ایکشن پلان کا جائزہ لینے کا فیصلہ
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔ 06 دسمبر 2021ء) : سانحہ سیالکوٹ کے بعد وفاقی حکومت نے نیشنل ایکشن پلان کا جائزہ لینے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ نجی ٹی وی چینل جیو نیوز کے مطابق وفاقی وزیر برائے انسانی حقوق شیریں مزاری نے پارلیمنٹ میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سیالکوٹ واقعہ کا دن پوری قوم کے لیے شرمناک تھا کیونکہ اسلام امن اور برداشت کا مذہب ہے۔

انہوں نے کہا کہ ماضی میں بھی ایسے واقعات ہو چکے ہیں لیکن اب وقت آ گیا ہے کہ ریاست ایسے واقعات پر سخت ایکشن لے اور کارروائی کرے کیونکہ ایسے واقعات کسی طور قابل قبول نہیں ہیں۔ وفاقی وزیر شیریں مزاری نے کہا کہ اب ہمیں دوبارہ اپنے قوانین کا جائزہ لینا ہے، جائزہ لینا ہے کہ نیشنل ایکشن پلان پر کہاں عملدرآمد نہیں ہوا۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ ابھی تک نیشنل ایکشن پلان پر مکمل عملدرآمد نہیں ہو سکا۔

کابینہ اجلاس میں بحث کے بعد واضح پالیسی نکلے گی۔ پرویز خٹک کے بیان سے متعلق بات کرتے ہوئے شیریں مزاری نے کہا کہ پرویزخٹک نے اپنے بیان کی وضاحت کردی ہے جبکہ اپوزیشن مولانا فضل الرحمان کے بیان اور ان کی قیادت سے اظہار لاتعلقی کرے۔ قبل ازیں وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت سانحہ سیالکوٹ پر اعلیٰ سطح کا اجلاس منعقد کیا گیا۔ اس اجلاس میں پنجاب اور وفاقی حکومتوں کے قانونی ماہرین اور اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت اس اجلاس میں سانحہ سیالکوٹ کے ملزمان کا روزانہ ٹرائل کرنے کی تجویز پر غور کیا گیا۔ سیکیورٹی خدشات کے تحت ملزمان کے جیل ٹرائل کی تجویز بھی زیر غور لائی گئی۔ وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ملزمان کو انصاف کے کٹہرے میں لاکر مثالی سزائیں ملنی چاہئیے ۔ پراسیکیوشن شواہد جمع کر کے بھرپور تیاری سے عدالت میں جائیں۔ ملزمان کی قرار واقعی سزا یقینی بنائی جائے۔وزیراعظم نے مزید کہا کہ سانحہ سیالکوٹ نے قوم کا سرشرم سے جھکا دیا ہے۔

اسلام آباد شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments

>