مارگلہ ہلز نیشنل پارک میں تجاوزات کے خلاف کیسز کی سماعت

عدالت نے معاون خصوصی ملک امین اسلم اور چیئرمین وائلڈ لائف مینجمنٹ بورڈ کو آئندہ سماعت پر ذاتی حیثیت میں طلب کر لیا غریب کی جٴْھگیاں بغیر نوٹس گرا دیتے ہیں، نیول گالف کورس نیشنل پارک کی زمین پر غیر قانونی بنا ایکشن کیوں نہیں لیا جسٹس اطہر من اللہ غیر قانونی اقدام کی کس نے منظوری دی،کیا سی ڈی اے سور ہا تھا کیا یہ کورٹ بند کردیں نیشنل پارک کی اونرشپ تبدیل نہیں کی جا سکتی، دوران سماعت ریمارکس

بدھ 8 دسمبر 2021 22:42

مارگلہ ہلز نیشنل پارک میں تجاوزات کے خلاف کیسز کی سماعت
اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - آن لائن۔ 08 دسمبر2021ء) اسلام آباد ہائی کورٹ چیف جسٹس اطہر من اللہ کی عدالت نے مارگلہ ہلز نیشنل پارک میں تجاوزات کے خلاف کیسز کی سماعت کی عدالت نے نیشنل پارک کے تحفظ کیلئے اقدامات نہ اٹھانے پر سی ڈی اے اور دیگر اداروں پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے معاون خصوصی ملک امین اسلم اور چیئرمین وائلڈ لائف مینجمنٹ بورڈ آئندہ سماعت پر ذاتی حیثیت میں طلب کر لیا دوران سماعت عدالت نے سوال اٴْٹھایا کہ مارگلہ نیشنل پارک میں تجاوز کی گئی زمین ابھی تک واپس کیوں نہیں لی گئی نیول گالف کلب کے خلاف کیوں ایکشن نہیں لیا گیا غریب کی جھگیاں بغیر نوٹس گرا دی جاتی ہیں نیشنل پارک میں تجاوزات سے مفاد عامہ کے اہم سوالات اٹھے ہیں اس موقع پر ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ معاون خصوصی ملک امین اسلم، چیئرمین سی ڈی آر، چیئرمین وائلڈ لائف مینجمنٹ بورڈ کی کمیٹی تھی انہوں نے نیشنل پارک کا سروے کیا ہے مارگلہ ہلز کی بہت سی گیٹگریز ہیں جس پر عدالت نے کہا کہ کوئی کیٹیگری نہیں ایک ہی نیشنل پارک ہے اس ایریا کی اونرشپ وفاقی حکومت کے پاس ہے ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ مارگلہ نیشنل پارک کا 31 ہزار ایکٹر کا ایریا ہے جس پر عدالت نے کہا کہ سی ڈی اے ایکوائر لینڈ کو الاٹ کرنے سے متعلق حتمی اتھارٹی ہے الاٹ کی گئی زمین پر کس کس نے تجاوز کیا ہے۔

(جاری ہے)

معاون خصوصی نے کس بنیاد پر سروے کیا ہے ،نیول گالف کورس کیا وہ غیر قانونی ہے رپورٹ میں لکھا ہے کیا گالف کورس تجاوز کی جگہ پر بنایا گیا ہے ۔چیف جسٹس نے ایڈیشنل اٹارنی جنرل سے مکالمہ کیا کہ اگر یہ تجاوز ہے تو آپ بتائیں کون جواب دہ ہی جس پر ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ جس نے بنایا وہی اس کا ذمہ دار ہے جس پر عدالت نے کہا کہ یہ تو کوئی نہیں کر سکتا کہ وہ گالف کورس بنانا شروع کردے کیا سی ڈی اے سو رہا تھا کیا اس شہر میں کوئی قانون نہیں نیول ہیڈ کوارٹر کیا غیر قانونی ہی کیا سی ڈی اے نے اس کی منظوری دی جس پر ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ اگر تھوڑا سا وقت دے دیں میں چیک کر لیتا ہوں سی ڈی اے نمائندہ نے عدالت کو بتایا کہ نیول گالف کورس کو الاٹ کی گئی لینڈ پر انہیں سیکشن 21 کا نوٹس بھی دیا ہے اس موقع پر عدالت نے کہا کیا جٴْھگیوں والوں کو بھی سیکشن 21 کا نوٹس دیتے ہیں غریب کی جٴْھگیاں بغیر نوٹس گرا دیتے ہیں، نیول گالف کورس جو نیشنل پارک کی زمین پر غیر قانونی بنا ایکشن کیوں نہیں لیا اس موقع پر عدالت نے سی ڈی اے احکام کی سرزنش کرتے ہوئے کہا کہ نیول گالف کورس کب بنا تھا، اس وقت چیئرمین سی ڈی اے کون تھا جس پر سی ڈی اے احکام نے عدالت کو بتایا کہ 2012 میں باؤنڈری وال لگائی گئی تھی دہشت گردی کے خلاف جنگ کی وجہ سے سیکورٹی تھریٹ تھے نیشنل پارک سے 157 تجاوات ہم نے ختم کرائی ہیں یہ اب ڈیفنس آرگنائزیشں ہے نوٹس بھی دے چکے ہیں جس پر عدالت نے کہا کہ کیا یہ کورٹ بند کردیں، کیا یہ قانون کی حکمرانی ہی جس پر ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ آٹھ ہزار ایکٹر زمین پنجاب حکومت نے 1910 میں ان کو دی تھی جس پر عدالت نے کہا کہ سی ڈی اے آرڈیننس کے بعد کیا اسلام آباد میں کوئی کنٹونمنٹ ایریا رہ گیا آپ نیشنل پارک کی اونرشپ تبدیل نہیں کر سکتے ،ماسٹر پلان میں کہاں لکھا ہے یہ اونرشپ تبدیل ہو جائے گی عدالت نے ایڈیشنل اٹارنی جنرل سے دلائل طلب کرتے ہوئے سماعت 11 جنوری تک ملتوی کردی ۔

اسلام آباد شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments