اداروں کو متحرک بنانے، بہتر کارکردگی اور شفافیت کیلئے انفارمیشن ٹیکنالوجی استعمال کرنے کی ضرورت ہے، صدر مملکت

متعلقہ ادارے مقررہ ٹائم لائنز کے اندر پارلیمنٹ کی ڈیجیٹلائزیشن پر عملدرآمد یقینی بنائیں،عارف علوی کا سائبر ایفیشینٹ پارلیمنٹ بارے اجلاس سے خطاب

پیر 17 جنوری 2022 23:11

اداروں کو متحرک بنانے، بہتر کارکردگی اور شفافیت کیلئے انفارمیشن ٹیکنالوجی استعمال کرنے کی ضرورت ہے، صدر مملکت
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 17 جنوری2022ء) صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے اداروں کو متحرک بنانے، بہتر کارکردگی اور شفافیت کیلئے انفارمیشن ٹیکنالوجی استعمال کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے متعلقہ اداروں سے کہا ہے کہ وہ دی گئی ٹائم لائنز کے اندر پارلیمنٹ کی ڈیجیٹلائزیشن پر عمل درآمد کو یقینی بنائیں۔ ایوانِ صدر کے پریس ونگ کے مطابق ان خیالات کا اظہار انہوں نے پیر کو یہاں صدر کے اقدام برائے سائبر ایفیشینٹ پارلیمنٹ (پی آئی سی ای پی) سے متعلق اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔

پارلیمنٹ ہاؤس میں ہونے والے اجلاس میں سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر، ڈپٹی چیئرمین سینیٹ مرزا محمد آفریدی، سیکرٹری وزارت منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات عبدالعزیز عقیلی، سیکرٹری وزارت آئی ٹی اینڈ ٹیلی کام ڈاکٹر سہیل راجپوت، سیکرٹری قومی اسمبلی سیکرٹریٹ طاہر حسین اور دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔

(جاری ہے)

صدر مملکت نے کہا کہ حکومت کی کارکردگی، شفافیت اور جوابدہی کو بہتر بنانے کے لیے قومی اسمبلی اور سینیٹ جیسے ریاستی اداروں کے کاروبار میں انفارمیشن ٹیکنالوجی کو شامل کرنے کی ضرورت ہے۔

اس موقع پر وزارت آئی ٹی اینڈ ٹیلی کام کی جانب سے (پی آئی سی ای پی) کے نفاذ کی صورتحال پر ایک پریزنٹیشن دی گئی۔ اجلاس میں منصوبے کی تکنیکی تفصیلات پر تبادلہ خیال کیا گیا اور پارلیمانی کام کو تیزی سے نمٹانے کے لیے اس پر تیزی سے عملدرآمد کی ضرورت پر زور دیا گیا۔صدر ڈاکٹر عارف علوی نے کہا کہ ڈیجیٹل پارلیمنٹ منصوبہ بندی کے عمل کو مزید بہتر بنائے گی، منصوبے سے ارکان ِ پارلیمنٹ کو جدید ترین ٹولز کے ذریعے ڈیٹا اور فائلوں تک آسان رسائی ملے گی۔ انہوں نے اس بات کا اعادہ کیا کہ حکومت گورننس اور خدمات کی فراہمی کو بہتر بنانے کے لیے تمام وزارتوں کو ڈیجیٹل طور پر بااختیار عوامی تنظیموں میں تبدیل کرکے ملک کو ڈیجیٹل پاکستان میں تبدیل کرنے کے لئے پرعزم ہے۔

اسلام آباد شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments