وفاقی کابینہ کا کورونا کیسز کی یومیہ تعداد 5 ہزار تک پہنچنے پر اظہارِ تشویش

بندشیں لگا کر کاروباری سرگرمیوں کو متاثر نہیں کیا جائے گا، اومیکرون سے بچاؤ کیلئے ایس اوپیز، ماسک اور ویکسی نیشن یقینی بنائی جائے گی۔ وزیراعظم عمران خان کی زیرصدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس

Sanaullah Nagra ثنااللہ ناگرہ منگل 18 جنوری 2022 21:53

وفاقی کابینہ کا کورونا کیسز کی یومیہ تعداد 5 ہزار تک پہنچنے پر اظہارِ تشویش
اسلام آباد (اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 18 جنوری 2022ء) وفاقی کابینہ نے کورونا کیسز کی یومیہ تعداد بڑھ کر5 ہزار تک پہنچنے پر اظہار تشویش کیا ہے، بندشیں لگا کر کاروباری سرگرمیوں کو متاثر کرنے سے گریز کیا جائے گا، اومیکرون سے بچاؤ کیلئے ایس اوپیز، ماسک اور ویکسی نیشن پر زور دیا گیا۔ اے آروائی کے مطابق وزیراعظم عمران خان کی زیرصدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس ہوا، اجلاس میں چیئرمین این سی او سی اسد عمر نے اومیکرون کے پھیلاؤ کی صورتحال پر تفصیلی بریفنگ دی۔

بریفنگ میں بتایا گیا کہ کورونا کیسز کی یومیہ تعداد بڑھ کر5 ہزار تک پہنچ گئی ہے،ہاسپٹلائزیشن ریٹ 2.5 فیصد اور آئی سی یو کی شرح میں 30 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ وفاقی کابینہ نے یومیہ 5 ہزار کورونا کیسز کی تعداد پر اظہار تشویش کیا۔

(جاری ہے)

اجلاس میں اومیکرون سے بچاؤ کیلئے ایس اوپیز، ماسک اور ویکسی نیشن پر زور دیا گیا، جبکہ بندشیں لگا کر کاروباری سرگرمیوں کو متاثر کرنے سے گریز کیا جائے گا۔

مزید برآں وفاقی وزیراطلاعات ونشریات فواد چودھری نے میڈیا بریفنگ میں بتایا کہ کابینہ اجلاس میں اومی کرون کے پھیلاوٴ سے متعلق بریفنگ دی گئی،کیسز کی تعداد یومیہ 5 ہزار تک پہنچ گئی ہے، ہسپتال میں داخل مریضوں میں 2.5 فیصد اضافہ ہوا ہے، آئی سی یو میں 30 فیصد اضافہ ہوا ہے، سب سے اہم بات ویکسی نیشن ہے، جن لوگوں نے دونوں ڈوزز ویکسی نیشن کروالی ہے ان پر اومی کرون کا اثر بہت کم ہے، ویکسی نیشن میں سب سے پیچھے صوبہ سندھ ہے کراچی میں سب سے زیادہ کیسز ہے، وہاں سکولوں میں بچے بھی زیادہ متاثر ہورہے ہیں، پاکستان نے 2ارب ڈالر ویکسین خرید کرمفت لگائی ہے، کرنٹ اکاؤنٹ خسارے میں بھی ویکسین کی خریداری بڑا حصہ ہے۔

کابینہ میں مئوثر قانون سازی اور ملکی ترقی میں پارلیمانی کردار سے متعلق گفتگو ہوئی۔ اسٹیٹ بینک سے متعلق بات ہوئی ، بل کو سینیٹ میں بھی جلد منظور کروا لیں گے۔ ایسے ممبران کو قائمہ کمیٹیوں کو شامل نہیں کیا جائے گا جو اس سے ملتے جلتے کام کرتے ہیں،اس لیے اس کو تبدیل کیا جائے گا۔  وفاقی وزیر فواد چودھری میں کہاکہ کابینہ کو یوریا کھاد کی پیداوار سے متعلق بریفنگ دی گئی۔

پانچ ایکڑ گندم کی پیداوار میں اضافہ ہوا ہے۔کھاد کی مارکیٹ پر دباؤ ہے، لیکن پاکستان کے زیادہ تر علاقوں میں کھاد میسر ہے اور کسانوں کو مل بھی رہی ہے۔ کابینہ نے بجلی کے ترسیلی نظام بارے بھی بات کی ہے، تاکہ بجلی لاسز کو کم کیا جاسکے گا۔ پاکستان کا پہلا سال ہے کہ سرکلر ڈیبٹ میں کمی آنا شروع ہوگئی ہے۔ بڑے شہروں میں گرین ایریاز میں اضافے اور قبضہ مافیا سے متعلق ایکشن کیلئے بھی بات ہوئی۔

وزیراعظم نے بڑے شہروں کے ماسٹر پلان مکمل کر ے کی ہدایت کی ہے۔ وفاقی وزیر توانائی حماد اظہرنے کہا کہ کابینہ کے فیصلے کے مطابق گیس کیلئے گھریلو صارفین کو ترجیح دے رہے ہیں، سردیوں میں ایک ماہ کیلئے کراچی میں صنعتی گیس گھریلو صارفین کو دی جاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ن لیگ اسٹیٹ بینک پر سیاست چمکا رہی ہے،ن لیگ نے 2015 میں اسٹیٹ بینک کی خودمختاری پر ضرب لگانے کی کوشش کی، یورپ میں جتنا اسٹیٹ بینک آزاد ہے اتنا پاکستان میں آزاد نہیں ہے، اسٹیٹ بینک کے گورنر، ڈپٹی گورنر اور بورڈ ارکان کے تقرر کااختیار حکومت کے پاس ہے، پی ٹی آئی حکومت نے اسٹیٹ بینک کی خودمختاری کو تحفظ دیا ہے۔

اسلام آباد شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments