وفاقی حکومت کا فوجداری مقدمات کا قانون بدلنے کا فیصلہ

فوجداری قانون میں ترامیم سے جرائم پیشہ افراد کیخلاف مئوثر کاروائی ممکن ہوسکے گی، ملکی تاریخ پہلی بارفوجداری نظام میں اصلاحات لائی جارہی ہیں۔ وزیراعظم عمران خان کی زیرصدارت فوجداری نظام انصاف میں اصلاحات کیلئےاجلاس

Sanaullah Nagra ثنااللہ ناگرہ بدھ 19 جنوری 2022 23:03

وفاقی حکومت کا فوجداری مقدمات کا قانون بدلنے کا فیصلہ
اسلام آباد (اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 19 جنوری 2022ء) وفاقی حکومت نے فوجداری مقدمات کا قانون بدلنے کا فیصلہ کرلیا ہے، وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ فوجداری قانون میں ترامیم سے جرائم پیشہ افراد کیخلاف مئوثر کاروائی ممکن ہوسکے گی، ملکی تاریخ پہلی بارفوجداری نظام میں اصلاحات لائی جارہی ہیں۔ جیو نیوز کے مطابق وزیراعظم عمران خان کی زیرصدارت فوجداری نظام انصاف میں اصلاحات بارے اجلاس ہوا، وفاقی وزیر قانون فروغ نسیم نے فوجداری نظام انصاف میں اصلاحات سے متعلق 600 سے زیادہ نکات میں ترمیم پر تفصیلی بریفنگ دی، بریفنگ میں بتایا گیا کہ حکومت 70سالوں میں پہلی بار فوجداری نظام میں تبدیلی لا رہی ہے۔

تمام اسٹیک ہولڈرز کو اعتماد میں لے کر اتفاق رائے سے فیصلہ سازی کی گئی، عالمی معیار سے ہم آہنگ جدید آلات کا استعمال ، ایف آئی آر کی ڈیجیٹلائزیشن شامل ہوگا، فوجداری نظام میں نئے جرائم اورنئی دفعات تجویز کی گئی ہیں۔

(جاری ہے)

بریفنگ میں مزید بتایا گیا کہ فوجداری نظام میں مجوزہ ترامیم کا بل جل پارلیمنٹ میں پیش کیا جائے گا۔ ترامیم کی منظوری کے بعد جرائم کی راک تھا م میں بہتری آئے گی۔

وزیراعظم نے فوجداری مقدمات میں ترمیم سمیت نئے قوانین کی منظوری دی، ترامیم آئندہ ہفتے منظوری کیلئے کابینہ میں اور اس کے بعد مسودہ پارلیمنٹ میں پیش کیا جائے گا۔ قوانین سے متعلق بتایا گیا کہ ایس ایچ او کیلئے کم ازکم عہدہ سب انسپکٹر اور گریجوایشن کی ڈگری لازمی ہوگی،تھانے میں ایف آئی آر درج نہ کرنے پر ایس پی کو درخواست دی جاسکے گی اور ایس پی عملدرآمد کا پابند ہوگا، 9 ماہ میں مقدمات کا فیصلہ لازمی ہوگا ورنہ متعلقہ ججز ہائیکورٹ کو جوابدہ ہوں گے اور ججز کیخلاف ہائیکورٹ انضباطی کارروائی کرسکے گی۔

دنیا نیوز کے مطابق بریفنگ میں بتایا گیا کہ ملک بھر کے تھانوں کو اسٹیشنری، ٹرانپسورٹ سمیت ضروری اخراجات کے سرکاری فنڈز ملیں گے، سچا ثابت کرنے کیلئے آگ یا گرم کوئلوں پر چلنا جیسی روایات اور سزا کو ختم کیا جائے گا، عام جرائم کے مقدمات میں پانچ5 سال تک کی سزا کے لئے پلی بارگین کی جاسکے گی، عام جرائم کی سزا پانچ سال سے کم ہو کر صرف 6 ماہ رہ جائے گی۔

قتل، ذیادتی، دہشتگردی، غداری اور سنگین مقدمات میں پلی بارگین نہیں ہوسکے گی، موبائل فوٹیج، تصاویز، آواز کی ریکارڈنگ، مارڈرن ڈیوائسز کو بطور شہادت قبول کیا جا سکے گا، فرانزک لیبارٹری سے ٹیست کی سہولت دی جائےگی۔ وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ قانون کی بالادستی حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے، فوجداری قانون میں ترامیم سے جرائم پیشہ افراد کیخلاف مئوثر کاروائی ممکن ہوگی،ملکی تاریخ پہلی بار فوجداری نظام انصاف میں پہلی بار اصلاحات لائی جارہی ہیں۔اصلاحات سے قانون کی بالادستی کے قانون کو عملی جامہ پہنایا جاسکے گا۔

اسلام آباد شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments