کرونا فنڈ میں40 ارب روپے کی بے قاعدگیاں، پیسہ بنی گالا کے کس تہہ خانے سے نکلیں گے ، عوام جلد دیکھیں گے، مریم اور نگزیب

․کورونا ریلیف فنڈ میں خیبرپختونخوا کی عوام کا خون نچوڑا گیا، کورونا فنڈ کی354 ارب میں سے 40 ارب روپے وفاق نے کھائے، ترجمان (ن)لیگ

جمعرات 20 جنوری 2022 23:38

کرونا فنڈ میں40 ارب روپے کی بے قاعدگیاں، پیسہ بنی گالا کے کس تہہ خانے سے نکلیں گے ، عوام جلد دیکھیں گے، مریم اور نگزیب
اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 20 جنوری2022ء) پاکستان مسلم لیگ (ن) کی ترجمان مریم اور نگزیب نے کہا ہے کہ خیبر پختون خواہ کے کرونا فنڈ میں40 ارب روپے کی بے قاعدگیوں کی نشاندہی کی گئی، پیسہ بنی گالا کے کس تہہ خانے سے نکلے گا ، عوام جلد دیکھیں گے، کورونا ریلیف فنڈ میں خیبرپختونخوا کی عوام کا خون نچوڑا گیا، کورونا فنڈ کی354 ارب میں سے 40 ارب روپے وفاق نے کھائے۔

جمعرات کو پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مریم اور نگزیب نے کہاکہ ایک ماہ قبل کوڈ ریلیف فنڈ پر آڈیٹر جنرل وزیر اعظم ریلیف فنڈ پر رپورٹ دی تھی،وزیر اعظم نے تصویریں لگا لگا کر کہا کہ سوا کھرب کا ریلیف فنڈ دے رہے ہیں،اس میں 40 ارب روپے کا خورد برد پایا گیا ،آڈیٹر جنرل کو حکومت نے کوئی ریکارڈ مہیا نہیں کیا تھا ،آڈیٹر جنرل نے خود تمام ریکارڈ اکٹھا کیا۔

(جاری ہے)

انہوںنے کہاکہ جون 2020 تک کا ریکارڈ بتاتا ہے اس میں 40 ارب کی بے ضابطگیاں پائی گئی تھی ،حکومت نے اپنے ہی آڈیٹر جنرل کی رپورٹ مسترد کی تھی ،اس رپورٹ کو آج تک پبلک نہیں کیا گیا۔مریم اورنگزیب نے کہاکہ گزشتہ روز رپورٹ آئی ہے خیبر پختون خواہ کے کرونا فنڈ میں بھی کوئی ریکارڈ نہیں دیا گیا،ایک ارب 38 کروڑ 80 روپے کی بے ضابطگیوں کا انکشاف سامنے آیا ہے ۔

انہوںنے کہاکہ 29 کروڑ 60 لاکھ روپے کی جعلی ادائیگیاں کی گئی ہیں،یہ رپورٹ آڈیٹر جنرل آف پاکستان کی آئی ایم ایف کے حکم پر بنائی رپورٹ ہے۔ مریم اورنگزیب نے کہاکہ 2020۔ 2021 کے آڈیٹ رپورٹ میں اور پے منٹس ہیں اور خریداری اضافی نرخوں میں کی گئی ،کرونا ریلیف فنڈ سے کھٹیا اشیاء خریدیں گئیں،رپورٹ میں خیبرپختونخوا حکومت بارے بدعنوانی کا لفظ استعمال کیا گیا،7 کروڑ 80 لاکھ روپے کا ٹھیکا کراچی کی کمپنی کو دیا گیا ،4 لاکھ آر ایم اے کٹس کا ٹھیکا ایسی کمپنی کو دیا گیا جو اہل بھی نہیں تھی ۔

انہوںنے کہاکہ اینٹی جنٹس کٹس کا کنٹریکٹ بھی ایسی کمپنی کو دیا گیا جس نے جعلی دستاویزات ڈی تھیں،ایک کروڑ 20 لاکھ روپے کی ادائیگی کے شواہد موجود ہے۔ انہوںنے کہاکہ اسلام آباد میں ایسی لیب کو ٹھیکا دیا گیا جو صلاحیت ہی نہیں رکھتا تھا،تیز رفتار ٹیسٹ کرنے کا ٹھیکا کا ریکارڈ بھی موجود نہیں ،ایکسرے مشینز کی کیسٹس اور فلمز اسپتالوں کو فراہم نہیں کی گئیں ،36 کروڑ 7 لاکھ روپے کی ادائیگی کی ادائیگی کی کوئی تصدیق شدہ رسیدیں موجود نہیں ہیں، انہوںنے کہاکہ یہ 36 کروڑ 87 لاکھ روپے کی کی جیب میں گئے اسکا ریکارڈ ہی موجود نہیں ،پی ٹی آئی کی ساڑھے 8 سال کی خیبر پختون خواہ میں کارکردگی ہے،آکسیجن سلینڈرز کی خریداری میں 5 کروڑ روپے کا نقصان دیا گیا ،عوام کا پیسہ اور خون نچوڑا گیا ،یہ پیسہ بنی گالہ کے کس تہہ خانہ سے نکلے گا عوام جلد دیکھیں گے۔

مریم اورنگزیب نے کہاکہ خیبرپختونخوا میں کورونا ریلیف سے متعلق کٹس پر من پسند لوگوں کو ٹھیکہ دیا،جب کورونا انتہا پر تھا اس ایکسرے مشینیں ہسپتالوں میں نہیں تھیں ،ریکارڈ کاغذوں پر ہاتھ سے بنایا گیا،یہ ن لیگ نہیں بلکہ آڈیٹر جنرل آف پاکستان کی رپورٹ تھی۔ مریم اورنگزیب نے کہاکہ صحت کارڈ پر آجکل بہت اشتہارات ہیں اس پر کافی دیہاڑی لگی ہے ،جب صحت کارڈ کا آڈٹ ہوگا تو وہاں بھی اسی طرح کی صورتحال ہوگی۔ انہوںنے کہاکہ یہ شہباز شریف پر زلزلہ کے فنڈ کھانے کا الزام لگاتے تھے،یہ جو فنڈ کھاتے ہیں اسکی آڈیٹر جنرل خود تصدیق کرتا ہے ،یہ جو پیسے کھا جائیں اسکا جواب نہیں دیتے ،یہ مدینہ کی ریاست کے دعویدار کے اعمال ہیں۔

اسلام آباد شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments