پاکستان کی قومی سلامتی پالیسی کا ہدف مالیاتی وسائل میں اضافہ کے ذریعے شہریوں کی جان اورمعاشی سلامتی یقینی بنانا ہے،ڈاکٹر معید یوسف

جب تک معاشی سلامتی یقینی نہیں ہوگی ہمارے پاس دفاع یاانسانی بہبود کیلئے بھی مناسب فنڈزدستیاب نہیں ہونگے، مشیر قومی سلامتی داخلی تقسیم، معیشت اور قومی سلامتی جیسے معاملات پر اتفاق رائے کے فقدان سے بلاشبہ بیرونی دشمن قوتیں فائدہ اٹھائیں گی، خصوصی انٹرویو

جمعہ 21 جنوری 2022 19:11

پاکستان کی قومی سلامتی پالیسی کا ہدف مالیاتی وسائل میں اضافہ کے ذریعے شہریوں کی جان اورمعاشی سلامتی یقینی بنانا ہے،ڈاکٹر معید یوسف
اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 21 جنوری2022ء) قومی سلامتی کے مشیر ڈاکٹر معیدیوسف نے کہا ہے کہ پاکستان کی قومی سلامتی پالیسی کا ہدف مالیاتی وسائل میں اضافہ کے ذریعے شہریوں کی جان اورمعاشی سلامتی یقینی بنانا ہے،جب تک معاشی سلامتی یقینی نہیں ہوگی ہمارے پاس دفاع یاانسانی بہبود کیلئے بھی مناسب فنڈزدستیاب نہیں ہونگے۔

ایک انٹرویومیں انہوں نے کہا کہ معاشی سلامتی کو پالیسی میں بنیادی حیثیت حاصل ہے۔قومی سلامتی کے مشیر نے کہا کہ جب تک معاشی سلامتی یقینی نہیں ہوگی ہمارے پاس دفاع یاانسانی بہبود کیلئے بھی مناسب فنڈزدستیاب نہیں ہونگے۔انہوں نے کہا کہ ہمیں بیرونی ادائیگیوں کے عدم توازن کامسئلہ درپیش ہے جس کے باعث حکومت کوقرض پروگرام کیلئے مالیاتی ادارے کے پاس جاناپڑتاہے جس سے معاشی خودمختاری اورخارجہ پالیسی بھی متاثر ہو سکتی ہے،انہوں نے پالیسی اقدامات کے ذریعے بیرونی ادائیگیوں کے عدم توازن کے مسئلے سے نمٹنے پر زور دیا۔

(جاری ہے)

قومی سلامتی کے تصور کی وضاحت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہم نے جامع قومی سلامتی کی اصطلاح استعمال کی ہے۔انہوں نے کہا کہ قومی سلامتی کا تصور محض جنگی ہتھیاروں یا دفاع تک محدود نہیں ہے بلکہ دنیا میں اس کا دائر کار وسیع ہو گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ قومی سلامتی پالیسی ملک کی سمت سے متعلق ایک رہنما دستاویز ہے،دستاویز میں قومی پالیسی ترجیحات سے متعلق سوال پرقومی سلامتی کے مشیر نے کہا کہ خطے اور دنیا میں امن اولین مقصد ہے۔

تاہم۔انہوں نے کہا کہ نہ تو قومی سلامتی کے مفادات اور نہ ہی مسئلہ کشمیرپرکوئی سمجھوتہ ہو گا۔انہوں نے کہا کہ اگربھارت میں بہتر احساس پیدا ہواور کوئی گنجائش پیدا ہو تو خطہ آگے بڑھے گا۔انہوں نے کہا کہ ہم افغانستان میں استحکام کیلئے کوششیں کر رہے ہیں جس سے اس کی معاشی صورتحال بھی مزید مستحکم ہو گی۔مشیر نے کہا کہ خارجہ پالیسی کی دوسری اہم ترجیح معاشی سفارت کاری ہے۔

دفاعی شعبے سے متعلق انہوں نے کہاکہ ہمیں ہائبرڈ جنگ پرزیادہ توجہ مرکوز کرنا ہوگی۔انسانی سلامتی سے متعلق سوال کا جواب دیتے ہوئے قومی سلامتی کے مشیر نے کہاکہ بڑھتی ہوئی آبادی اورشہروں کی طرف نقل مکانی کی روک تھام، صحت، غذائی تحفظ، موسمیات، پانی کے مسائل اور صنفی امتیاز کا خاتمہ شامل ہے۔مشیر نے قومی سلامتی کیلئے قومی یکجہتی کی ضرورت پر بھی زوردیا۔

انہوں نے کہاکہ داخلی تقسیم، معیشت اور قومی سلامتی جیسے معاملات پر اتفاق رائے کے فقدان سے بلاشبہ بیرونی دشمن قوتیں فائدہ اٹھائیں گی۔انہوں نے اندرونی خامیوں پر قابوپانے پر زوردیا۔انہوں نے کہاکہ پاکستان ثقافت، زبان اورنسلی لحاظ سے متنوع ملک ہے اوراس تنوع کو بیرونی قوتوں کی چالوں کو ناکام بنانے کیلئے تقویت کا ذریعہ بنانے کی ضرورت ہے۔

پالیسی کی تشکیل کے عمل سے متعلق سوال کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہاکہ وفاقی حکومت کے پالیسی عمل کو اپنایاگیا ہیانہوں نے کہاکہ تمام وفاقی وزارتیں اور صوبے اس عمل میں شامل ہیں۔پالیسی پرعملدرآمد سے متعلق سوال پر معید یوسف نے کہاکہ قومی سلامتی کمیٹی عملدرآمد کی نگرانی کرے گی۔انہوں نے کہاکہ پالیسی کو تازہ ترین پیشرفت کے مطابق ڈھالنے کیلئے ہرسال جائزہ لیاجائیگا۔انہوں نے کہاکہ ہرنئی حکومت بھی پالیسی کا جائزہ لے گی اور اس پر عملدرآمد یقینی بنائے گی۔

اسلام آباد شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments