وزیراعظم کا سول قانونی اصلاحات کو قوم کے سامنے لانے کا فیصلہ

سول اورفوجداری سمیت 600 سے زائد قوانین تبدیلی کی منظوری دی گئی ہے، وزیراعظم اہم قوانین کی تفصیلات کل تقریب میں عوام کے سامنے رکھیں گے۔ وزیراعظم عمران خان کی زیرصدارت اجلاس میں فیصلہ

Sanaullah Nagra ثنااللہ ناگرہ بدھ 26 جنوری 2022 21:50

وزیراعظم کا سول قانونی اصلاحات کو قوم کے سامنے لانے کا فیصلہ
اسلام آباد (اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 26 جنوری 2022ء) وزیراعظم عمران خان نے سول قانونی اصلاحات کو قوم کے سامنے لانے کا فیصلہ کرلیا ہے، سول اورفوجداری سمیت 600 سے زائد قوانین تبدیلی کی منظوری دی گئی ہے، وزیراعظم اہم قوانین کی تفصیلات کل عوام کے سامنے رکھیں گے۔ دنیا نیوز کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے 6 سو سے زائد فوجداری اور سول قانونی اصلاحات کو قوم کے سامنے لانے کا فیصلہ کیا ہے۔

اس حوالے سے کل11بجے وزیراعظم ہاؤس میں تقریب منعقد کی جائے گی۔ جس میں قانونی اصلاحات کو قوم کے سامنے رکھا جائے گا۔ تقریب میں وزیرقانون فروغ نسیم اور پارلیمانی سیکریٹری ملیکہ بخاری بریفنگ بھی دیں گے۔ فوجداری مقدمات، قانون شہادت سمیت پولیس سے متعلق اہم قوانین کو تبدیل کرنے کی منظوری دی ہے، 600 سے زائد قوانین کی کابینہ سے منظوری کے بعد پارلیمنٹ میں پیش ہوں گے۔

(جاری ہے)

یاد رہے گزشتہ روز وفاقی کابینہ نے کریمنل لاء ترامیم کی منظوری دی تھی، وفاقی وزیراطلاعات ونشریات فواد چودھری نے کابینہ اجلاس کے بعد میڈیا بریفنگ میں بتایا کہ کابینہ نے کرمینل لاء ترامیم کی منظوری دی ہے، ترمیم کے تحت ہر کریمینل کیس کا فیصلہ 9 ماہ میں کرنالازمی ہو گا، فیصلے میں زائد وقت لگا تو مجسٹریٹ یا جج وجوہات بیان کریگا کہ التواء کیوں ہوا، اگرمتعلقہ جج مناسب وجوہات بیان نا کرسکا تو کارروائی ہوگی۔

فواد چودھری نے کہا کہ ایس ایچ او کی تعلیمی قابلیت کم ازکم بی اے لازمی ہو گی، پراسیکیوشن کے دائرہ اختیار کو بھی بڑھایا جا رہا ہے، ہر کرمینل کیس کا فیصلہ 9 مہینے میں کرنا ہوگا، 9 ماہ میں فیصلہ نہ کرنے پر جج چیف جسٹس کو وجہ لکھ کر دے گا۔ پلی بارگین کرمینل مقدمات میں شامل کررہے ہیں، پولیس کو ضمانت کی پاور دی جارہی ہے، چیک کے مقدمات میں ضمانت ہوسکے گی، چالان پیش کرنے کی مدت 14 دن سے بڑھا کر45 دن کرنے کی تجویز دی ہے، ماڈرن ڈیوائسز کو شواہد کی فہرست میں شامل کیا جا رہا ہے۔

اسلام آباد شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments