25 ویں آئینی ترمیم کیخلاف کیس ،وفاق اور کے پی حکومت کو وفاق کی اکائیوں سے متعلق جواب جمع کرانے کا حکم

عدالت کے سامنے اہم قانونی سوالات ہیں،لارجر بنچ بنانے کا سوچ رہے ہیں،دیکھنا ہے یہ کیس قابل سماعت ہے یا نہیں، جسٹس عمر عطاء بندیال

جمعرات 27 جنوری 2022 16:32

25 ویں آئینی ترمیم کیخلاف کیس ،وفاق اور کے پی حکومت کو وفاق کی اکائیوں سے متعلق جواب جمع کرانے کا حکم
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 27 جنوری2022ء) سپریم کورٹ آف پاکستان نے 25 ویں آئینی ترمیم کیخلاف کیس میں وفاق اور کے پی حکومت کو وفاق کی اکائیوں سے متعلق جواب جمع کرانے کا حکم دیدیا جبکہ جسٹس عمر عطاء بندیال نے کہا ہے کہ عدالت کے سامنے اہم قانونی سوالات ہیں،لارجر بنچ بنانے کا سوچ رہے ہیں،دیکھنا ہے یہ کیس قابل سماعت ہے یا نہیں۔

جمعرات کو جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے سماعت کی۔ جسٹس عمر عطاء بندیال نے کہاکہ درخواست گزاروں کا موقف ہے کہ فاٹا خیبرپختونخوا میں ضم ہونے کے بجائے الگ صوبہ بن سکتا تھا،فاٹا والوں کا کہنا ہے کہ وہ اب اقلیت ہیں تو اپنی آزادی انجوائے نہیں کر سکتے،فاٹا فیڈریشن کا حصہ تھا۔ انہوںنے کہاکہ فاٹا کا انضمام پارلیمنٹ نے کیا ہے جس کے پاس سپریم پاور ہے، جسٹس منصور علی شاہ نے کہاکہ درخواست گزاروں کا کہنا ہے کہ وفاقی اکائیوں کی حیثیت بدلی نہیں جا سکتی،آئین بنانے والوں نے وفاقی اکائیوں کو الگ اس لیے رکھا کہ ان کا الگ کلچر اور حیثیت برقرار رہے۔

(جاری ہے)

جسٹس عمر عطاء بندیال نے کہاکہ فاٹا اگر فیڈریشن کا حصہ ہے تو پارلیمنٹ ان کے بارے میں ترمیم کا اختیار رکھتی ہے، سپریم کورٹ کے پاس آئینی ترمیم کو پرکھنے کا اختیار بہت محدود ہے۔ جسٹس قاضی امین نے کہاکہ کیا سپریم کورٹ کے پاس اختیار ہے کہ فیڈریشن کو کہے نیا صوبہ بنا لو ۔وکیل درخواست گزار وسیم سجاد نے کہاکہ آئین کے تحت فاٹا کے متعلق فیصلوں سے قبل جرگے کی رائے سننا ضروری ہے۔

جسٹس منصور علی شاہ نے کہاکہ اگر پنجاب کی ایڈمنسٹریشن کیلئے اس کے دو حصے کیے جا سکتے ہیں تو فاٹا کا انضمام کیوں نہیں ہو سکتا ۔ وکیل وسیم سجاد نے کہاکہ وفاقی اکائیوں کا انضمام اور ان کی دو حصوں میں تقسیم الگ باتیں ہیں، فاٹا کے انضمام کے وقت وہاں کے لوگوں سے پوچھا نہیں گیا، پارلیمنٹ میں 400 لوگوں نے بیٹھ کر پچیسویں آئینی ترمیم کر کے ہزاروں لوگوں کا فیصلہ کر لیا۔

جسٹس عمر عطاء بندیال نے کہاکہ یہ 400 لوگ پارلیمنٹ کے نمائندے ہیں جن میں فاٹا سے بھی لوگ تھے،پاکستان کے آئین کی بنیاد جمہوریت پر ہے۔ جسٹس منصور علی شاہ نے کہاکہ اگر پارلیمنٹ پنجاب کے دو صوبے بنانے کی منظوری دے تو کیا وہاں کے لوگوں کی منظوری چاہیے ہوگی ۔وکیل درخواست گزار خواجہ حارث نے کہاکہ دیکھنا ہو گا کہ آئین کے کون سے بنیادی نقات ہیں جن میں ترمیم نہیں کی جا سکتی، اگر فاٹا وفاقی اکائی نہیں ہے تو پھر فاٹا کی وفاقی ساخت کیا ہی ۔

خواجہ حارث نے کہاکہ فاٹا نہ کسی صوبے کا حصہ تھا نہ اس کی صوبائی پارلیمنٹ میں نمائندگی تھی۔ وکیل خواجہ حارث نے کہاکہ ایک صوبے کے دو یا زائد انتظامی یونٹ بنانے کا طریقہ کار موجود ہے،فاٹا کے بھی ایک سے زائد حصے بنانا ممکن تھا۔ جسٹس عمر عطاء بندیال نے کہاکہ عدالت کے سامنے اہم قانونی سوالات ہیں،لارجر بنچ بنانے کا سوچ رہے ہیں،دیکھنا ہے یہ کیس قابل سماعت ہے یا نہیں۔

جسٹس عمر عطاء بندیال نے کہاکہ یہ کیس آئین سے متعلق ہے کہ دیکھنا ہے آئین کے مطابق وفاق کا ڈھانچہ کیا ہے۔ ایڈووکیٹ جنرل کے پی نے کہاکہ آرٹیکل 247 کے از خود یہ کہتا ہے کہ فاٹا قبائلی علاقہ نہ رہے،جب تبدیلی کی اجازت آئین دیتا ہے تو پھر اس تبدیلی پر سوال نہیں اٹھایا جاسکتا۔ جسٹس منصور علی شاہ نے کہ اکہ عوام کی رائے لینا تو لازمی ہے آپ وفاق کی تعریف بتائیں۔ ایڈووکیٹ جنرل کے پی نے کہاکہ وفاق کی اکائیوں کو جوڑا بھی جاسکتا ہے۔ جسٹس منصور علی شاہ نے کہاکہ کیا پھر پورا پاکستان ایک یونٹ بن سکتا ہے۔ ایڈووکیٹ جنرل کے پی نے کہاکہ پورا ملک ایک یونٹ نہیں بن سکتا مگر صوبوں کے مزید حصے ہو سکتے ہیں۔ بعد ازاں کیس کی سماعت فروری کے مہینے تک ملتوی کردی گئی ۔

اسلام آباد شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments