وزیراعظم شہباز شریف اور کویت کے وزیراعظم کے درمیان رابطہ، عید کی مبارکباد،تجارت، سرمایہ کاری، توانائی ، سمیت مختلف شعبوں میں دوطرفہ تعاون کو بڑھانے پر تبادلہ خیال

پیر 17 جون 2024 20:50

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 17 جون2024ء) وزیر اعظم محمد شہباز شریف اور کویت کے وزیر اعظم شیخ احمد عبداللہ الاحمد الصباح کے درمیان پیرکو ٹیلیفونک رابطہ میں عید الاضحیٰ کی مبارکباد کا تبادلہ ہوا، دونوں رہنمائوں نے تجارت، سرمایہ کاری، توانائی اور ہنرمند افرادی قوتکی برآمد سمیت مختلف شعبوں میں دوطرفہ تعاون کو بڑھانے پر بھی تبادلہ خیال کیا۔

وزیراعظم آفس کے پریس ونگ سے جاری بیان کے مطابق وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کویت کے برادر عوام اور دنیا بھر کے مسلمانوں کے لیے امن اور خوشحالی کے لیے نیک تمنائوں اور دعائوں کا اظہار کیا۔ اپنی گفتگو کے دوران، دونوں وزرائے اعظم نے پاکستان اور کویت کے درمیان گہرے برادرانہ تعلقات کی اہمیت کا اعادہ کیا، جن کی خصوصیات باہمی احترام، مشترکہ اقدار اور مشترکہ مذہبی ورثے پر مشتمل ہیں۔

(جاری ہے)

وزیراعظم شہباز شریف نے دونوں ممالک کے درمیان تاریخی تعلقات, جن کے تحت دونوں ممالک نے ہر مشکل میں ایک دوسرے کا ساتھ دیا، پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ سابق وزیر اعظم محمد نواز شریف نے اس وقت امیر کویت سے ملاقات کی تھی جب کویت کے امیر 1990-91 کے دوران عراق کے قبضے کی وجہ سے عارضی طور پر طائف میں مقیم تھے۔ پاکستان کی جانب سے اس وقت وہ اظہار یکجہتی دونوں ممالک کے درمیان قریبی اور پائیدار تعلقات کا ثبوت ہے۔

کویت کے وزیر اعظم نے گرمجوشی کے جذبات کا اظہار کیا اور دونوں برادر ممالک کے درمیان دیرینہ دوستی اور تعاون کو سراہا۔ دونوں رہنمائوں نے تجارت، سرمایہ کاری، توانائی اور ہنرمند مزدوروں کی برآمد سمیت مختلف شعبوں میں دوطرفہ تعاون کو بڑھانے پر بھی تبادلہ خیال کیا۔ انہوں نے باہمی دلچسپی کے علاقائی اور عالمی امور پر بھی تبادلہ خیال کیا، مشترکہ اہداف اور مقاصد کے حصول کے لیے مل کر کام کرنے کے عزم کا اعادہ کیا۔

کویت میں مقیم پاکستانیوں کا تذکرہ کرتے ہوئے، وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کویت کی حکومت کا شکریہ ادا کیا کہ انہوں نے ایک بڑی پاکستانی کمیونٹی کی میزبانی کی جو دونوں ممالک کی اقتصادی ترقی میں اپنا کردار ادا کر رہی ہے۔ اس سال اپریل میں کویتی وزیر اعظم کے عہدہ سنبھالنے کے بعد دونوں وزرائے اعظم کے درمیان یہ پہلی بات چیت تھی۔

اسلام آباد میں شائع ہونے والی مزید خبریں