اُردو پوائنٹ پاکستان اسلام آباداسلام آباد کی خبریںسینٹ کی قائمہ کمیٹی نیشنل فوڈ سکیورٹی اینڈ ریسرچ کا کے ایس ایس ایل میں ..

سینٹ کی قائمہ کمیٹی نیشنل فوڈ سکیورٹی اینڈ ریسرچ کا کے ایس ایس ایل میں بھرتیوں پر اپنے تحفظات کا اظہار

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔20 جنوری۔2016ء) سینٹ کی قائمہ کمیٹی نیشنل فوڈ سکیورٹی اینڈ ریسرچ نے کے ایس ایس ایل میں بھرتیوں پر اپنے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ زرعی ترقیاتی بنک کا اصل مینڈیٹ کاشتکار طبقے کو زراعت کیلئے قرضے اور کا شتکار کی مدد کرنا ہے ‘کاشتکار کیلئے پیسے نہیں ا ور فاسٹ بالنگ کوچ اور اسسٹنٹ سپورٹس مینیجر کو 75ہزار،40ہزار پر بھرتی کر لیا ہی‘قانون کے مطابق دو بڑے اور ایک علاقائی قومی اخبار میں اشتہار نہیں دیا گیا انٹرویو نہیں ہوئے ا ور درخواست دینے والے امیدواروں کی درخواستوں پر تاریخ بھی درج نہیں جبکہ کمیٹی کو بتایاگیا ہے کہ سپریم کورٹ کی دی ہوئی دو ماہ کی مدت ختم ہو گئی ہے پی اے آر سی کی زمین کا معاملہ سپریم کورٹ کی ہدایت کے مطابق از خود ختم ہو گیا ہے ‘ کمیٹی نے سفارش کی ہے کہ کے ایس ایس ایل کے بورڈآف گورنر میں بلوچستان ا ور زید ٹی بی ایل میں کی نمائندگی دی جائے اورزیڈ ٹی بی ایل کے بورڈ آف گورنر میں وزارت نیشنل فوڈ کو نمائندگی دے کر صوبوں کو نمائندگی کے متعلق مشورہ کیا جائے ‘وفاقی وزیر سردار سکندر نے بتایا ہے کہ پلانٹ بریڈ رائٹ ایکٹ قومی اسمبلی سے منظور ہو گیا ہے ‘بدقسمتی سے اٹھارویں ترمیم کے بعد زراعت پر صوبوں کی توجہ نہ ہونے کے برابر ہے۔

(خبر جاری ہے)

بدھ کو سینیٹ قائمہ کمیٹی نیشنل فوڈ سیکورٹی اینڈ ریسرچ کے چیئرمین سینیٹر سید مظفرحسین شاہ کی صدارت میں پارلیمنٹ ہاؤس میں منعقد ہونے والے اجلاس میں چیئرمین سینیٹ کی طرف سے کمیٹی کو پی اے آر سی کی 1400ایکڑ زمین کا معاملہ بھجوانے، کسان سپورٹ سروس پرائیوٹ میں پچھلے دو سالوں سے خالی آسامی پر بھرتیوں ،بورڈ آف گورنرز کی اجازت،بورڈ آف گورنر کے اجلاس اور اخبارات میں خالی آسامیوں کے اختیارات،کوٹوں پر بھرتیوں ،موصول درخواستوں اور بڑے عہدوں پر تعینات افسران کی تنخواہوں کے معاملات زیر بحث آئے۔

ایوان بالا میں قائمہ کمیٹی نیشنل فوڈ سیکورٹی کی طرف سے پی اے آر سی کی زمین کی تحریک کے حوالے سے بھی بحث کی گئی اور چیئرمین کمیٹی نے سپریم کورٹ کے فیصلے کو پڑھ کر سنایا جس میں کہا گیا تھا کہ سپریم کورٹ نے از خو دنوٹس کے تحت حکم دیا تھا کہ قائمہ کمیٹی کی رپورٹ کے فیصلے سی ڈی اے اور وزارت کو عمل کروانے کیلئے بھجوائی جائیں اگر وزارت ان پر عمل نہیں کرانا چاہتی تو دو ماہ کے اندر وزارت ایوان کو مطلع کرے کہ کن وجوہات کی بناء پر سفارشات پر عمل نہیں کرانا چاہتی اگر دو ماہ کے اندر وزارت ایوان بالا کو مطلع نہیں کرتی تو اس صورت میں وزارت قائمہ کمیٹی کے فیصلوں کی پابند ہو گی۔

اجلاس میں وزارت اور سی ڈی اے کے افسران نے آگاہ کیا کہ سپریم کورٹ کی دی ہوئی دو ماہ کی مدت ختم ہو گئی ہے اس لئے پی اے آر سی کی زمین کا معاملہ سپریم کورٹ کی ہدایت کے مطابق از خود ختم ہو گیا ہے جس پر کمیٹی چیئرمین نے کہا ہے کہ قومی ادارے کو بچانے کیلئے ایوان بالا میں لائی گئی تحریک سپریم کورٹ کے فیصلے کمیٹی کی سفارشات کی وجہ سے بہتر طریقے سے حل ہو گیا ہے۔

وفاقی وزیر سکندر بوسن ،چیئرمین پی اے آر سی، ایڈشنل سیکرٹری وزارت نے چیئرمین کمیٹی اور ممبرا ن کمیٹی کی کاوشوں اور ایوان بالا کے ممبران کا شکریہ ادا کیا ۔ اجلاس میں زرعی ترقیاتی بنک کے ذریعے کسان سپورٹ سروس پروگرام میں 2103-15 تک ملازمتوں کی بھرتیوں کا جائزہ لیا گیا۔اور کمیٹی کی طرف سے قرار دیا گیا کہ بھرتیوں کا عمل شفاف نہیں تھا آسامیوں صرف ایک چھوٹی اخبار میں مشتہرکی گئیں انٹرویونہیں لئے گئے ۔

کسان سپورٹ سروس پرائیوٹ کے ایم ڈی اور ذیڈ ٹی بی ایل کے صدر کو چیئرمین کمیٹی نے ہدایت دی کہ تمام ملازمتوں کو رد کر کے دوبارہ ایڈ ہاک بنیادوں پر انٹرویوکے ذریعے میرٹ پر بھرتیاں کی جائیں۔اجلاس میں کے ایس ایس ایل کا زید ٹی بی ایل کے ساتھ تعلق کا جائزہ لیا جائے گا۔اور وفاقی وزیر سکندر بوسن سے درخواست کی گئی کہ سفارشات کمیٹی کو بھی دی جائیں ۔

اور ممبران کمیٹی بی اگلے اجلاس میں سفارشات پیش کریں۔کمیٹی نے سفارش کی کہ کے ایس ایس ایل کے بورڈآف گورنر میں بلوچستان ا ور ذید ٹی بی ایل میں کی نمائندگی دی جائے ۔اورذیڈ ٹی بی ایل کے بورڈ آف گورنر میں وزارت نیشنل فوڈ کو نمائندگی دے کر صوبوں کو نمائندگی کے متعلق مشورہ کیا جائے۔وفاقی وزیر سردار سکندر نے بتایا کہ پلانٹ بریڈ رائٹ ایکٹ قومی اسمبلی سے منظور ہو گیا ہے اور کہا کہ بدقسمتی سے اٹھارویں ترمیم کے بعد زراعت پر صوبوں کی توجہ نہ ہونے کے برابر ہے ۔

اس سال کاشتکار کے پاس موجود چاول کی قیمت 850سے900من تھی لیکن ایکسپورٹر اور مڈل مین کی وجہ سے کاروباری طبقے نے اکھٹے ہو کر اب قیمت 1650سے1700کر لی ہے ۔اور پچھلے سال کا نقصان پور ا کر رہے ہیں ۔ چیئرمین پی اے آر سی کی بھرتی کیلئے آج انٹریو کئے جائیں گے زراعت میں پی ایچ ڈی اور 20سالہ تجربہ مانگا گیا ہے ۔تین سابق پی اے آر سی کے چیئرمینوں اور وزیر ایڈشنل سیکرٹری اسٹییلشمنٹ ،وزارت پر مشتمل بورڈ انٹرویو لے گا۔

چیئرمین کمیٹی نے کے ایس ایس ایل میں بھرتیوں پر اپنے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ زرعی ترقیاتی بنک کا اصل مینڈیٹ کاشتکار طبقے کو زراعت کیلئے قرضے اور کا شتکار کی مدد کرنا ہے۔کاشتکار کیلئے پیسے نہیں ا ور فاسٹ بالنگ کوچ اور اسسٹنٹ سپورٹس مینیجر کو 75ہزار،40ہزار پر بھرتی کر لیا ہے۔قانون کے مطابق دو بڑے اور ایک علاقائی قومی اخبار میں اشتہار نہیں دیا گیا انٹرویو نہیں ہوئے ا ور درخواست دینے والے امیدواروں کی درخواستوں پر تاریخ بھی درج نہیں۔

ایم ڈی کے ایس ایس ایل نے آگاہ کیا کہ 1195خالی اآسامیوں میں سے444کلیریکل،647نان کلیرکل بھرتی کئے گئے۔اور تسلیم کیا کہ قواعد و #ضوابط کا دھیان نہیں رکھا گیا ۔صدر ذیڈ ٹی بی ایل نے آگا ہ کیا کہ 59نئی برانچیں کھولی گئی ہیں 2013 میں منافع 5ارب2014 میں بڑھ کر 8ارب30کروڑ 2105میں منافع13ارب سے بڑھ گیا ہے ۔جس پر کمیٹی نے ذیڈ ٹی بی ایل کو سراہا ۔سینیٹر اعظم سواتی نے کہا کہ ایبٹ آباد ایک شادی کی تقریب میں زونل چیف ذید ٹی بی ایل اور دوسرے ملازمین نے سینیٹ کاروائی کے حوالے سے سوالات اٹھائے جس سے استحقاق مجروح ہوا بھرتیوں کیلئے میرٹ کو ترجیح دی جائے سفارش کسی صورت نہیں ماننی چاہئے۔

سینیٹر مختیاراحمد دھامرا(اعجاز)نے کہا کہ کاشتکاروں کی کریڈٹ سیلنگ کا غذوں میں بڑھائی گئی عملی طور پر اضفہ نہیں کیا گیا ۔سینیٹر محسن خان لغاری نے کہا کہ کاشتکاروں کیلئے قائم بنک سے دوسرے شعبوں میں اخراجات نہیں ہونے چاہئیں۔کھاد، ٹریکٹر ،بیج کیلئے کسان کو ذیادہ رقم دینی چاہئے۔ذیڈ ٹی بی ایل کے صدر نے کہا کہ کے ایس ایس ایل میں نئی بھرتیوں کا شفاف بنا کر میرٹ پر مکمل عمل کرینگے ۔

اس سال کاشتکاروں کو26ارب زائد مدد کی گئی ہے ۔اور آگاہ کیا کہ 88ارب کی ریکوری بھی کی گئی ہے اوذیڈ ٹی بی ایل کے ڈیپاذٹس میں پچھلے دو سال کے دوران 10ارب کا اضافہ ہوا ہے ۔سینیٹر مختیاراحمد دھامرا(اعجاز) نے کہا کہ کاشتکاروں کیلئے ذیادہ سے ذیادہ رقم رکھی جائے پہلے بھرتیوں میں رولز کی خلاف وزری ہوئی جس سے لوگوں کو معاشی قتل ہو گا سابقہ ملازمین کو پہلی ترجیح دینی چاہئے۔

بریگیڈیئر جان کینتھ ولیم نے بھی کاشتکاروں کے بجٹ میں زیادہ اضافہ اور شفافیت اور میرٹ پر عمل کرنے کی بات کی۔کمیٹی اجلاس میں سینیٹرز محمد محسن خان لغاری،محترمہ گل بشرہ،سینیٹر محمد ظفر اللہ خان ڈھاندلا ، مختیاراحمد دھامرا(اعجاز)، جان کینتھ ولیم، محمد اعظم خان سواتی کے علاوہ وفاقی وزیر سکندر بوسن ،زیڈ ٹی بی ایل کے صدر کسان سپورٹ سروسز کے ایم ڈی ،ایڈشنل سیکرٹری وزارت ڈاکٹر ہاشم،چیئرمین پی اے ار سی ڈاکٹر ندیم احمد نے شرکت کی۔


اپنی رائے کا اظہار کریں -

اسلام آباد شہر کی مزید خبریں