بدعنوانی تمام برائیوں کی جڑ ہے‘بدعنوانی سے ترقی اور خوشحالی کا عمل متاثر ہوتا ہے‘ بدعنوں کو ہر صورت ختم کیا جائیگا ٗ قمرزمان چوہدری

نیب زیرو ٹالرنس کی پالیسی اختیار کرتے ہوئے بدعنوان عناصر کیخلاف 2016ء میں بھی بلاتفریق کارروائی جاری رکھے گا ٗ چیئر مین

بدھ جنوری 21:00

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔20 جنوری۔2016ء) قومی احتساب بیورو ( نیب )کے چیئرمین قمر زمان چوہدری نے کہا ہے کہ بدعنوانی تمام برائیوں کی جڑ ہے‘بدعنوانی سے ترقی اور خوشحالی کا عمل متاثر ہوتا ہے‘ بدعنوں کو ہر صورت ختم کیا جائیگا ٗقومی احتساب بیورو زیرو ٹالرنس کی پالیسی اختیار کرتے ہوئے بدعنوان عناصر کے خلاف 2016ء میں بھی بلاتفریق کارروائی جاری رکھے گا۔

وہ نیب کے راولپنڈی علاقائی بیورو کی سالانہ کارکردگی کا جائزہ لینے کے دوران بات چیت کررہے تھے۔ نیب کی چیئرمین انسپکشن اینڈ مانیٹرنگ ٹیم کو نیب راولپنڈی علاقائی بیورو کی 2015ء کی سالانہ کارکردگی کا جائزہ لینے کے لئے ذمہ داری سونپی کی گئی تھی۔ نیب کی چیئرمین انسپکشن اینڈ مانیٹرنگ ٹیم نے 18 جنوری سے بیس جنوری کے دوران سالانہ کارکردگی کا جائزہ لیاگیا تاکہ قومی احتساب بیورو کے چیئرمین قمر زمان چوہدری کی طرف سے نئے شروع کئے گئے مقداری گریڈنگ سسٹم کی بنیاد پر راولپنڈی بیورو کی کارکردگی کا جائزہ لیا جاسکے۔

(جاری ہے)

واضح رہے کہ قومی احتساب بیورو کے چیئرمین قمر زمان چوہدری نے چیئرمین نیب کا عہدہ سنبھالنے کے فوری بعد جہاں نیب میں بہت ساری اصلاحات متعارف کرائیں وہیں انہوں نے نیب کے تمام علاقائی دفاتر اور نیب ہیڈ کوارٹر کی سالانہ کارکردگی کا جائزہ لینے کیلئے معیاری گریڈنگ کا نظام وضع کیا۔ چیئرمین مانیٹرنگ اینڈ انسپکشن ٹیم کو نیب کے تمام علاقائی بیورو کی کارکردگی کا جائزہ لینے کی ذمہ داری سونپی گئی۔

چیئرمین مانیٹرنگ اینڈ انسپکشن ٹیم نے نیب راوالپنڈی بیورو کی سال 2015کی کارکردگی کا جائزہ لیاانہوں نے انسپکشن سے متعلق چیئرمین نیب کو بریفنگ دی اور راولپنڈی بیورو کی خوبیوں اور خامیوں سے آگاہ کیا تاکہ مستقبل میں ان خامیوں پر قابو پایا جا سکے۔ انہوں نے بتایا کہ چیئرمین نیب کی ہدایت پر معیاری گریڈنگ کا نظام وضع کیا گیا ہے۔ اس نظام کے تحت جنوری اور فروری 2016ء کے دوران یکساں معیار پر نیب راولپنڈی بیورو کی کارکردگی کا جائزہ لیا گیا۔

اس نظام کے تحت 80 فیصد حاصل کرنے پر کارکردگی شاندار‘ 60 سے 79 فیصد نمبر حاصل کرنے پر بہت اچھی ‘ 40 سے 49 فیصد نمبر حاصل کرنے پر اچھی اور 40 فیصد سے کم نمبر حاصل کرنے پر کارکردگی اوسط سے کم قرار دی جاتی ہے۔ چیئرمین نیب قمر زمان چوہدری نے کہا کہ نیب زیرو ٹالرنس کی پالیسی پر عمل کرتے ہوئے ملک بھر سے بدعنوانی کے خاتمہ کیلئے پرعزم ہے‘ بدعنوانی تمام برائیوں کی جڑ ہے‘بدعنوانی سے نہ صرف ترقی کا عمل بلکہ قانون کی حکمرانی داؤ پر لگ جاتی ہے‘ اس سے نہ صرف ترقیاتی منصوبوں کی بروقت تکمیل میں رکاوٹیں پیدا ہوتی ہیں بلکہ قومی خزانے کو بھاری نقصان اٹھانا پڑتا ہے۔

نیب 1999ء میں قائم کیا گیا اور اسے آگہی اور قانون پر عملدرآمد کے ذریعے ملک بھر سے بدعنوانی کے خاتمے کی ذمہ داری سونپی گئی۔ نیب قومی احتساب آرڈیننس 1999ء کے تحت کام کر رہا ہے۔ گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر سمیت پورا پاکستان اس کے دائرہ کار میں آتا ہے۔ نیب کا ہیڈ کوارٹر اسلام آباد میں ہے جبکہ اس کے سات علاقائی بیوروز کراچی‘ لاہور‘ پشاور‘ کوئٹہ‘ سکھر‘ ملتان اور راولپنڈی میں ہیں۔

چیئرمین نیب نے کہا کہ راولپنڈی بیورو نیب کا اہم بیورو ہے جو کہ نیب کی مجموعی کارکردگی میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ نیب راولپنڈی کو 2015ء میں 7002 شکایات موصول ہوئیں جن پر قانون کے مطابق عمل کیا گیا۔ نیب راولپنڈی نے 2015ء کے دوران 333 میں سے 288 شکایات کی جانچ پڑتال کا عمل مکمل کیا ہے۔ 229 انکوائریوں میں سے 128 کو مکمل کیا گیا ہے جبکہ 96 انوسٹی گیشن میں سے 152 انوسٹی گیشن مکمل کی گئیں۔

نیب راولپنڈی نے 69 بدعنوان افراد کو گرفتار کیا اور بدعنوانی کے 48 ریفرنس عدالتوں میں دائر کئے جبکہ سزا کی شرح 78 فیصد رہی۔ نیب راولپنڈی نے 2015ء کے دوران بدعنوان عناصر سے لوٹے گئے 1441.755 ملین روپے برآمد کرکے قومی خزانے میں جمع کرائے۔ چیئرمین نیب قمر زمان چوہدری نے کہا کہ چیئرمین انسپکشن اینڈ مانیٹرنگ ٹیم نے معیاری گریڈنگ سسٹم کے تحت آپریشنل کارکردگی انڈیکس 65 فیصدکی بنیاد پر نیب راولپنڈی بیورو کی کارکردگی کو بہت اچھا قرار دیا ہے۔

انہوں نے ڈی جی نیب راولپنڈی بیورو کی قیادت میں نیب راولپنڈی کی کارکردگی کو سراہا اور نیب کے تمام افسران کو ہدایت کی کہ وہ اپنی کارکردگی کو مزید بہتر بنائیں۔ انہوں نے نیب راولپنڈی کے افسران کو ہدایت کی کہ وہ ملک سے بدعنوانی کے خاتمے کیلئے میرٹ اور شواہد پر قانون کے مطابق اپنے فرائض سرانجام دیں انہوں نے کہ چیئرمین مانیٹرنگ اینڈ ایوولیشن ٹیم کے کام کو بھی سراہا۔

متعلقہ عنوان :

اسلام آباد شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments