اُردو پوائنٹ پاکستان اسلام آباداسلام آباد کی خبریںجولائی 2016 سے اب تک 4 مارکیٹنگ لائسنس دیے، اوگرا 6 ماہ میں21مارکیٹنگ نہیں ..

جولائی 2016 سے اب تک 4 مارکیٹنگ لائسنس دیے، اوگرا

6 ماہ میں21مارکیٹنگ نہیں پٹرول وڈیزل اسٹوریج کی تعمیرکے اجازت نامے دیے، ترجمان

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 08 فروری2017ء) آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) نے واضح کیا ہے کہ اوگرا کی جانب سے گزشتہ 6 ماہ کے دوران صرف اسٹوریج کی تعمیرات کیلیے 21 لائسنس جاری کیے گئے، 21 مارکیٹنگ لائسنسز کے اجرا کی خبریں بے بنیاد ہیں۔اوگرا ترجمان کی جانب سے گزشتہ روز جاری کردہ وضاحتی بیان میں کہا گیا کہ اوگرا نے گزشتہ 6ماہ کے دوران 21مارکیٹنگ لائسنسز کے اجرا کے حوالے سے شائع خبروں کی سختی سے تردید کرتی ہے اور واضح کرتی ہے کہ گزشتہ 6ماہ کے دوران اسٹوریج کی تعمیر کے لیے 21 لائسنس جاری کیے گئے۔

ترجمان کے مطابق گزشتہ چند سال کے دوران ملک میں پٹرول اور ڈیزل کی ڈیمانڈ میں غیرمعمولی اضافہ دیکھنے میں آیا ہے جس کے لیے نئی اسٹوریج سہولتوں کی تعمیر ضروری ہے۔

(خبر جاری ہے)

ترجمان کے مطابق حکومت پاکستان کی 2006 میں پالیسی کے مطابق نئی آئل مارکیٹنگ کمپنی کے لیے ایکویٹی کی حد 3 ارب اور سرمایہ کاری کی حد 6 ارب روپے مقرر کی گئی تھی جبکہ 2010میں ان قوانین میں تبدیلی کی گئی اور ایکویٹی کی حد 10کروڑ اور 3 سال میں 50 کروڑ کی سرمایہ کاری ضروری قرار دی گئی۔

ترجمان کا کہنا ہے کہ اوگرا قوانین کے مطابق جب کمپنیاں تکنیکی معیار کے مطابق اپنی اسٹوریج تعمیر کر لیتی ہیں تو اس کے بعد انہیں مارکیٹنگ کی اجازت درکار ہوتی ہے، جولائی 2016 سے اب تک 4کمپنیوں کو مارکیٹنگ لائسنس جاری کیے گئے ہیں۔ جن میں پٹرو ویل پرائیویٹ لمیٹڈ، کیپلر پٹرولیم پرائیویٹ لمیٹڈ، زیڈ اینڈ ایم آئل پرائیویٹ لمیٹڈ اور آئوٹ ریچ پرائیویٹ لمیٹڈ شامل ہیں، ان کمپنیوں کو متعلقہ علاقوں تک مارکیٹنگ سرگرمیاں محدود رکھنے کا پابند کیا گیا ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں -

اسلام آباد شہر کی مزید خبریں