پاکستان افغان نوجوانوں کو اعلیٰ تعلیم و تربیت کے لئے تعاون فراہم کر رہا ہے تاکہ وہ اپنے ملک کی تعمیر و ترقی میں کردار ادا کرسکیں

چیئرمین ہائیر ایجوکیشن کمیشن پروفیسر ڈاکٹر مختار احمد کا افغانستان کے طلباء کے لئے 30 ہزار سکالرشپس دینے کی تقریب سے خطاب

بدھ فروری 14:20

پاکستان افغان نوجوانوں کو اعلیٰ تعلیم و تربیت کے لئے تعاون فراہم کر ..
اسلام آباد ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 08 فروری2017ء) چیئرمین ہائیر ایجوکیشن کمیشن پروفیسر ڈاکٹر مختار احمد نے کہا ہے کہ پاکستان اعلیٰ تعلیم کے شعبہ میں افغان نوجوانوں کو تعلیم و تربیت کے لئے تعاون فراہم کر رہا ہے تاکہ وہ افغانستان کی تعمیر و ترقی کے عمل میں اپنا کردار ادا کرسکیں۔ وہ بدھ کو یہاں وزیر اعظم پاکستان کی ہدایات کی روشنی میں افغانستان کے طلباء کے لئے 30 ہزار سکالرشپس دینے سے متعلق منعقدہ تقریب سے خطاب کر رہے تھے۔

صدر مملکت ممنون حسین تقریب کے مہمان خصوصی تھے۔ وزیر اعظم کے مشیر برائے خارجہ امور سرتاج عزیز، پاکستان میں افغانستان کے سفیر حضرت عمر ذخیل وال اور افغانستان کی وزیر برائے اعلیٰ تعلیم فریدہ مومند بھی اس موقع پر موجود تھیں۔

(جاری ہے)

ڈاکٹر مختار احمد نے شرکاء کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور افغانستان کے تعلقات کی طویل تاریخ ہے اور دونوں ممالک کو گزشتہ تین عشروں سے ایک جیسے مسائل و مشکلات کا سامنا رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اب وقت آگیا ہے کہ دونوں ممالک خطے کی ترقی کے لئے مل کر کام کریں۔ پروفیسر مختار احمد نے پاکستان میں اعلیٰ تعلیم کی صورتحال اور پاکستانی جامعات کے معیار کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ ہم افغانستان کو اپنے تجربے کی روشنی میں مزید مدد و تعاون فراہم کرنے کے لئے تیار ہیں۔ افغان طلبا کے لئے 3ہزار سکالرشپس ہمارے اسی تعاون کا حصہ ہے۔اس موقع پر حکومت پاکستان کی جانب سے سکالرشپس پر پاکستان جامعات میں تعلیم حاصل کرنے والے افغان طلبا نے بھی اپنے تاثرات کا اظہار کرتے ہوئے حکومت پاکستان اور ہائیر ایجوکیشن کمیشن کا شکریہ ادا کیا۔ تقریب میں سفارتکاروں، جامعات کے وائس چانسلر صاحبان، اساتذہ اور طلبا و طالبات نے کثیر تعداد میں شرکت کی۔

اسلام آباد شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments