سینیٹ میں اعظم سواتی کی جانب سے ادویات کی دستیابی ، معیار اور قیمتوں میں اضافے پر نظر رکھنے کے حوالے سے ڈرگ ریگولیٹری آف پاکستان کی مجموعی کارکردگی پر بحث

ادویات کی قیمتیں عوام سے پہنچ سے باہر ہورہی ہیں ، سندھ اور لاہور ہائیکورٹ واضح فیصلہ کر چکی ہیں کہ عوام اس چکی میں پس رہے ہیں ، ادویات کی کوالٹی کے بارے میں لوگوں کی ڈریپ پر انگلیاں اٹھ رہی ہیں ، سینیٹر اعظم سواتی وقت ملک میں جعلی ادویات یا سسٹم خراب ہونے کے بارے میں اتفاق نہیں کرتا، سینیٹر میاں عتیق معیاری ادویات عوام کو دستیاب نہیں ، طاہر مشہدی

پیر نومبر 20:49

اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 06 نومبر2017ء) ایوان بالا میں سینیٹر اعظم خان سواتی کی جانب سے ادویات کی دستیابی ، معیار اور ان کی قیمتوں میں اضافے پر نظر رکھنے کے حوالے سے ڈرگ ریگولیٹری آف پاکستان کی مجموعی کارکردگی کو زیر بحث لایا گیا پیر کے روز سینیٹ میں موخر شدہ تحریک پر اظہار خیال کرتے ہوئے سینیٹر اعظم سواتی نے کہا کہ ملک میں اس وقت کوالٹی ادویات کی دستیابی ناممکن ہوتی جا رہی ہے ، ادویات کی قیمتیں عوام سے پہنچ سے باہر ہورہی ہیں ، سندھ اور لاہور ہائیکورٹ واضح فیصلہ کر چکی ہیں کہ عوام اس چکی میں پس رہے ہیں ۔

ادویات کی کوالٹی کے بارے میں لوگوں کی ڈریپ پر انگلیاں اٹھ رہی ہیں ، ڈریپ کے افسران کو انسانی جانوں کی کوئی پرواہ نہیں وہ ان قیمتی جانوں سے کھیلتے ہیں ۔

(جاری ہے)

وزیر صحت ایسے کون سے اقدامات اٹھا رہی ہیں ، جو بھی کاوشیں کی گئی ہیں وہ سحر حاصل نہیں ان میں بہتری کی گنجائش موجود ہے ، ایسی قانون سازی وضع کی جائے کہ جس میں جعلی ادویات بنانے والوں کو سخت سے سخت سزا دی جائے ، ڈرگ کی قلت مصنوعی طور پر پیدا کی جاتی ہے اور اس سے قیمتیں بڑھانے کا بہانہ بنایا جاتا ہے ، عوام جو ادویات استعمال کر رہے ہیں نہ ان پر وہ مطمئن ہیں اور نہ ہی ان پر اعتماد ، ڈرگ انڈسٹری پر اعتماد اس وقت بحال ہوگا جب قانون سخت سے سخت سزائیں دے گا ۔

سینیٹر میاں عتیق شیخ نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت ملک میں جعلی ادویات یا سسٹم خراب ہونے کے بارے میں اتفاق نہیں کرتا ، اس وقت ملک سے اربوں روپے کی ادویات ایکسپورٹ ہورہی ہیں ، پاکستانی ادویات نہ صرف پسماندہ ممالک جنوبی ایشیا بھیجی جا رہی ہیں بلکہ پاکستانی نیشنل کمپنیوں کی ادویات امریکہ اور کینڈا سمیت متعدد مغربی ممالک میں بھی بھیجی جا رہی ہیں ،عالمی معیار کے مطابق اگر ادویات نہ ہوں تو کوئی بھی نہ تو این او یو سائن کرتا ہے اور نہ ہی ہم اس وقت تک ایکسپورٹ کر سکتے ہیِں ، سب سٹینڈرڈ ساری دنیا میں ہیں ، جب تک جعلی ادویات بنانے والے کارخارنے بند نہیں ہوں گے اس وقت تک مسئلہ حل نہیں ہوگا ، ملک میں 800ادویات بنانے والی کمپنیاں کام کر رہی ہیں جن میں 100بڑے پیمانے پر کاروبار کر رہیں ۔

سینیٹر طاہر حسین مشہدی نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ معیاری ادویات عوام کو دستیاب نہیں ، سب کو علم ہے کہ کوالٹی نہیں بلکہ یہاں سب سٹینڈرڈ ادویات موجود ہیں ، کسی بھی عالمی معیار کی ادویات کیساتھ ملکی دوائوں کو ساتھ رکھ کر ملا کر دیکھ لیا جائے تو فرق واضح ہو جائے گا ، قیمتوں میں اضافہ ہماری عوام کی قسمت میں لکھا جا چکا ہے ، مہنگی ادویات کی وجہ سے چاہے اموات ہو جائیں لیکن حکومت اس قابل نہیں کہ وہ قیمتوں کو اعتدال پر لا سکیں ، ہمارے ناقص اور جعلی ادویات کی وجہ سے ہمارے بچوں اور بزرگوں کیساتھ ظلم ہوتا ہے ۔

اسلام آباد شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments