سینٹ قائمہ کمیٹی انفارمیشن ٹیکنالوجی نے زیادہ تعداد میں موبائل سموں کی فروخت کا ٹارگٹ دینے پر تشویش کا اظہار کردیا

لوگوں کو زبردستی سمیں دی جاتی ہیں کہ انہیں بانٹیں۔ 2 ہزار سمیں بانٹنے کا ٹارگٹ کوئی کیسے پورا کرے گا، شاہی سید وہ کب تک بیچے گا اور کیسے بیچے گا اس سے سموں کا غلط استعمال ہوگا۔ ملک حالت جنگ میں ہے۔ دھماکو ںمیں چوری کی گاڑیاں استعمال ہوتی ہیں ، چیئرمین کمیٹی کمیٹی نے متعلقہ حکام کو پی ٹی سی ایل کے ریٹائرڈ ملازمین پنشن میں اضافہ نہ ملنے کے مسئلے کو حل کرنے کی ہدایت کردی

پیر نومبر 21:52

سینٹ قائمہ کمیٹی انفارمیشن ٹیکنالوجی نے زیادہ تعداد میں موبائل سموں ..
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 06 نومبر2017ء) سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی نے زیادہ تعداد میں موبائل سموں کی فروخت کا ٹارگٹ دینے پر تشویش کا اظہار کردیا۔ چیئرمین کمیٹی شاہی سید نے کہا کہ لوگوں کو زبردستی سمیں دی جاتی ہیں کہ انہیں بانٹیں۔ 2 ہزار سمیں بانٹنے کا ٹارگٹ کوئی کیسے پورا کرے گا۔ وہ کب تک بیچے گا اور کیسے بیچے گا اس سے سموں کا غلط استعمال ہوگا۔

ملک حالت جنگ میں ہے۔ دھماکو ںمیں چوری کی گاڑیاں استعمال ہوتی ہیں ۔ سمیں بھی بم ہیں ان پر دھماکہ ہوتا ہے کسی کے نام کی سم حاصل کرنا بہت آسان ہے۔ ان پڑھ آدمی کو کوئی بھی دو ہزار روپے دے کر سم لے سکتاہے۔ سمین تصدیق کرکے بیچی جائیں کمیٹی نے متعلقہ حکام کو پی ٹی سی ایل کے ریٹائرڈ ملازمین پنشن میں اضافہ نہ ملنے کے مسئلے کو حل کرنے کی ہدایت کردی۔

(جاری ہے)

پیر کو سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی کا اجلاس سینیٹر شاہی سید کی صدارت میں ہوا۔ جس میں پی ٹی سی ایل کے ریٹائرڈ ملازمین کو پنشن میں اضافہ نہ ملنے کے معاملے کا جائزہ لیا گیا۔ چیئرمین کمیٹی شاہی سید نے پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن ایمپلائز ٹرسٹ کے حکام سے استفسار کیا کہ آپ کا ادارہ بنا کس لئے ہے پنشن کیلئے آپ خودکیا کررہے ہو۔

آپ کا ادارہ اس لئے بنا ہے کہ لوگوں کو سہولیات دے ، چکلاء ، عدالت جاتے ہیں اور تاریخ پے تاریخ لیتے ہیں۔ آپ کا کام ہے کہ تاریخیں مختصر کریں۔ ہمارے پاس بزرگ لوگ آتے ہیں کہ ہماری پنشن کا کچھ کریں۔ سینیٹر شبلی فراز نے کہا کہ جب سے پیدا ہوئے ہیں تب سے یہ مسئلہ چل رہا ہے۔ اتنی میٹنگز کی ہیں لیکن ہم حل کی طرف نہیں آتے اسکے بارے م%ن ہمیں اپنی پوزیشن بتائیں کہ کن وجوہات کی وجہ سے یہ ممکن نہیں۔

اس موقع پر پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن ایمپلائز ٹرسٹ کے حکام کی جانب سے بتایا گیا کہ ہمارا ٹرسٹ آزاد ہے بورڈ آف ٹرستیز کو ہق دیا گیا ہے کہ وہ سالانہ اضافے کے بارے میں فیصلہ کریں گے ہم نے حکومت کی جانب سے کئے گئے اضافے کو 2010 ء تک پیروی کی ہے ہم پہلی تاریخ سے پہلے ہی پنشن دیتے ہیں۔ چیئرمین کمیٹی شاہی سید نے کہا کہ سات ارب روپے سالانہ پنشن کی مدمیں انہیں دیئے جاتے ہین یہ باتیں غلط ہیں کہ پی ٹی سی ایل دیوالیہ ہوجائے گا۔

نہ پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن ایمپلائز ٹرسٹ نقصان میں چل رہا ہے نہ پی ٹی سی ایل ، پی ٹی سی ایل بھی کما رہا ہے پی ٹی سی ایل کی نجکاری نہیں کرنی چاہی یتھی ۔ ہم چاہتے ہیں کہ پنشن کے مسئلے کو اضافہ توجہ دے کر حل کیا جائے چیئرمین کمیٹی نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ اس مسئلے کو انسانی ہمدردی کی بنیاد پر حل کیا جائے۔ اس موقع پر ایف بی آڑ کے حکام کی جانب سے کمیٹی کو بتایا گیا کہ تین موبائل کمپنیاں اپنا ڈیٹا ایف بی آر کو سوفٹ ویئر دے چکی ہیں جن میں یوفون ، ٹیلی نار اور موبی لنک شامل ہیں جبکہ ذونگ کا ڈیٹا بھی جلدی مل جائے گا آنے والے دنوں میں پہلے ٹیلی نار کا ٹرانزیشنل آڈٹ کریں گے پھر دوسری کمپنیوں کا آڈٹ کریں گے ۔

آڈت میں یہ بھی دیکھا جائے گا کہ کمپنی نے صارفین کو کتنے کارڈز دیئے یہ بھی دیکھنا ہے کہ کارڈ کتنے اپ لوڈ ہوئے ماہانہ ایک کمپنی سے یاک ارب روپے ودہولڈنگ ٹیکس وصول ہوتا ہے ۔ چیئرمین کمیٹی شاہی سید نے کہا کہ ایف بی آر کو سالانہ 113 ارب وصول ہونا چاہیے ۔ غریب آدمی سے تیکس نہیں کوٹنا چاہیے۔ چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ سم جاری کرنا موجودہ طریقہ کار بھی درست نہیں لوگوں کو زبردستی سمیں دی جاتی ہیں کہ انہیں بانتوں ۔

2 ہزار سمیں بانٹنے کا ٹارگٹ کوئی کیسے پورا کرے گا وہ کب تک بیچنے گا اور کیسے بیچے ۔ اس سے سموں کا غلط استعمال ہوگا ۔ سم کے لئے ایسی شرائط رکھی جائیں کہ ان کا غلط استعمال نہ ہو ملک حالت جنگ میں ہے دھماکون میں چوری کی گاڑیاں استعمال ہوتی ہیں۔ سمیں بھی بم ہیں ان پر دھماکہ ہوتا ہے۔ سم تو پچاس روپے کی ہے کسی کے نام کی سم حاصل کرنا بہت آسان ہے ۔ ان پڑھ آدمی کو کوئی بھی دو ہزار روپے دے کر سم لے سکتا ہے سمیں تصدیق کرکے بیچی جائیں۔

متعلقہ عنوان :

اسلام آباد شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments