شاعر مشرق علامہ محمد اقبال کے یومِ پیدائش کے سلسلے میں مسلم انسٹیٹیوٹ کے زیر اہتمام اسلام آباد میں تین روزہ عالمی علامہ اقبال کانفرنس کا انعقاد

پیر نومبر 21:53

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 06 نومبر2017ء) شاعر مشرق علامہ محمد اقبال کے یومِ پیدائش کے سلسلے میں مسلم انسٹیٹیوٹ کے زیر اہتمام اسلام آباد میں تین روزہ عالمی علامہ اقبال کانفرنس کا انعقاد کیا گیا جس میںاٹھارہ ممالک سے محققین اپنے تحقیقی مقالے پیش کریں گے پہلے دن عالمی علامہ اقبال کانفرنس سے سینٹ میں قائد ایوان سینیٹر راجہ محمد ظفر الحق، بانی مسلم انسٹیٹیوٹ حضرت سلطان محمد علی، علامہ اقبال کے پوتے ولید اقبال، سابق وزیر ترکی محمد گورمیز، چئیرمین مسلم انسٹیٹیوٹ صاحبزادہ سلطان احمد علی ، افغانستان سے ڈاکٹر حلیم تنویر ، سابق ڈائریکٹر اقبال اکیڈمی ڈاکٹر سہیل عمر ، یونیورسٹی آف جارجیا، امریکہ سے ڈاکٹر ایلن گوڈلاس، جرمنی سے ڈاکٹر ہگ وین، اور پروفیسر احسان اکبر نے خطاب کیا۔

(جاری ہے)

مقررین نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ کانفرنس میں اٹھارہ ممالک کے دانشور اور محققین کی شرکت اس بات کا ثبوت ہے کہ اقبال کو فقط پاکستان میں ہی نہیں بلکہ عالمی سطح پر مقبولیت حاصل ہے۔ عالمی سطح پر فکر اقبال پر دانشوروں کو اکٹھا کرنا پاکستان کے لیے باعثِ اعزاز ہے۔ یہ پاکستانیوں کیلئے سر فخر سے بلند کرنے کی بات ہے کہ علامہ اقبال ان کی قوم سے ہیں۔

تحقیق کی دنیا کے درخشاں ستارے آج فکرِ اقبال کو عالمی مسائل کے حل کی کنجی قرار دے رہے ہیں۔ علامہ اقبال مسلم امہ کے مسائل پر بڑے اجتہاد کے قائل تھے۔ علامہ اقبال جوانوں اور فکر کے شاعر تھے۔ وہ فقر اور فقیری کے قائل تھے مگر اونچی اور انقلابی نظر ان کا خاصہ تھا۔ اقبال نہ صرف مسلم امہ بلکہ پوری دنیا کے شاعر تھے۔ علامہ اقبال نے مغرب اور مشرق میں ٹکرائو بہت پہلے دیکھ لیا تھا۔

علامہ اقبال مغرب کی نفسیات سے بھی بخوبی آگاہ تھے۔ انہوں نے مسلم امہ کو عالمی ٹکرائو کی صورتحال میں اجتہاد کی دعوت دی تھی۔ انہوں نے اسلامی قانون کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کیلئے اجتہاد پر باقاعدہ مکالمے منعقد کروائے وہ سمجھتے تھے کہ اجتہاد تعمیر نو کا نام ہے نہ کہ قرآن کو چھوڑ کر شریعت بدلنا اور یہ کہ اجتہاد قرآن و سنت سے رہنمائی لے کر ہی کیا جا سکتا ہے۔

علامہ اقبال کائنات کے حرکی نظریے کے قائل تھے جو ہر لمحہ بدلتی ہے۔اقبال انسان کی ذمہ داریوں کے بارے میں بات کرتے ہیں کہ قرآن ہم سے تقاضا کرتا ہے کہ ہم کائنات کا مطالعہ کریں اور اس کو سمجھیں۔فکر اقبال انسان کو کائنات میں اپنے مقام کی تلاش اور پہچان کی دعوت دیتی ہے۔ علامہ اقبال کی تجدید فکریات کی تحریک سماجی، معاشرتی اور سائنسی علوم کی روشنی میں پرورش پاتی ہے اس کی جتنی ضرورت آج ہے تاریخ میں پہلے کبھی نہ تھی۔

علامہ اقبال سماجی اور معاشی طور پر پسے ہوئے طبقوں کی آواز تھے۔جس وقت انسان کی عالمگیریت کھو رہی تھی اس وقت اقبال انسانی شعور کے نمائندہ کے طور پر کردار ادا کیا اور انسان کو اس کی عالمگیریت سے جھوڑا۔علامہ اقبال کے افکار جس قدر جہات پر پھیلے ہیں وہ تقاضا کرتے ہیں کہ اقبال کو ان تمام افکار کے تناظر میں دیکھا جائے۔ہمیں اقبال کو اس انداز میں سمجھنا چاہیے جس میں قائداعظم نے سمجھا۔

قائداعظم یہ اقرار کرتے ہیں کہ قرارداد پاکستان فکر اقبال کا نتیجہ تھی۔اقبال کے مطابق پاکستان کا رخ وسطی ایشیاء اور مشرق وسطیٰ کی جانب ہے ہمیں آج اپنی ترجیحات فکرِ اقبال کی روشنی میں ترتیب دینا ہوں گی۔ اقبال کی شاعری اور فلسفہ ایک دوسرے سے جدا نہیں ہیں۔اقبال نے مروجہ سائنسی، فلسفیانہ اور مذہبی علوم اور ان کے کائنات کے متعلق نظریات پر بحث کی ہے۔ جدید دور کے چیلنجز اور سوالات کے بہترین جواب علامہ اقبال نے دیئے ہیں۔ ۔۔۔

متعلقہ عنوان :

اسلام آباد شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments