محمد فاروق حیدر کا حریت کانفرنس کے دفتر کا دورہ ،حریت قائدین کیساتھ مقبوضہ کشمیر میں جاری تشدد کی حالیہ لہر پر تبادلہ خیال

بھارتی فوج کی ریاستی دہشت گردی نے ظلم و ستم کی حدیں پار کر دی ،مظالم پر بیس کیمپ کی حکومت جو بھی حکمت عملی بنائے گی اس میں حریت قیادت کی مشاورت شامل رہے گی، وزیراعظم آزاد کشمیر

منگل اپریل 19:34

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 03 اپریل2018ء) آزادجموں وکشمیر کے وزیراعظم راجہ محمد فاروق حیدر خان نے گزشتہ روز حریت کانفرنس کے دفتر کا دورہ کیا۔اس موقع پر کنوینر حریت کانفرنس غلام محمد صفی نے وزیر اعظم کا استقبال کیا۔وزیراعظم راجہ فاروق حیدر خان دو گھنٹے تک حریت قائدین کے ساتھ مقبوضہ کشمیر میں جاری تشدد کی حالیہ لہر پر تبادلہ خیال کیا۔

انہوں نے کہا کہ اس حوالے سے بیس کیمپ کی حکومت جو بھی حکمت عملی بنائے گی اس میں حریت قیادت کی مشاورت شامل رہے گی۔انہوں نے کہا کہ بھارتی فوج کی ریاستی دہشت گردی نے ظلم و ستم کی حدیں پار کر دی ہیں ایک دن میں 20 سے زائد کشمیریوں کو براہ راست فائرنگ کر کے قتل کیا گیا جبکہ 200 سے زائد زخمی ہوے یہ ایک دن میں بربریت کی اندوہناک مثال ہے جسے الفاظ میں بیان نہیں کیا جا سکتا۔

(جاری ہے)

انہوں نے حریت رہنماوں سے کہا کہ وہ اس سلسلے میں لائحہ عمل بنائیں حکومت ان کی تجاویز کو سامنے رکھتے ہوے اپنی پالیسی مرتب کرے گی۔وزیراعظم نے اہل پاکستان اور وفاقی ، صوبائی حکومتوں ،عسکری قیادت کی جانب سے بھرپور تعاون اور کشمیریوں کا ساتھ دینے کے ان کے عزم پر شکریہ ادا کرتے ہوے کہا کہ پاکستان کشمیریوں کی امیدوں کا مرکز ہے۔انہوں نے آسیہ اندرابی کے بیان کا حوالہ دیتے ہوے کہا کہ میری بہن غم کی اس شدید ترین کیفیت میں بھی پاکستان پاکستان ہی پکار رہی تھی۔

انہوں نے کہا کہ بھارت کے کشمیریوں پر مظالم کو دنیا بھر میں اجاگر کرنے کے لئے ہمیں جس حد تک جانا پڑا ہم جائیں گے۔حریت لیڈر غلام محمد صفی نے حریت قائدین سے مشاورت کے وزیراعظم کے ویژن کو سراہتے ہوے کہا کہ ہمیں آپ پر اعتماد ہے۔انہوں نے کہا کہ بیس کیمپ کی حکومت وزیر اعظم راجہ فاروق حیدر خان کی قیادت میں اپنی ترجیح اول مسئلہ کشمیر پر عمل پیرا ہے۔انہوں نے کہا کہ مستقبل میں بھی حریت اور حکومت کے اس اشتراک کو مضبوط بنانے کی ضرورت ہے تاکہ ہم مل کر آگے بڑھیں اور مقبوضہ کشمیر پر بھارت کا غاصبانہ قبضہ ختم کرانے کے لئے عالمی رائے عامہ کو اپنے حق میں کر سکیں۔

اسلام آباد شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments